صفحات

اتوار، 5 جون، 2016

92۔ جگمگ جگمگ چمکا تارا چاند اُفق میں ڈوب گیا

ہے دراز دستِ دعا مرا صفحہ278۔279

92۔ جگمگ جگمگ چمکا تارا چاند اُفق میں ڈوب گیا


جگمگ جگمگ چمکا تارا چاند اُفق میں ڈوب گیا
اُجلا اُجلا، پیارا پیارا چاند اُفق میں ڈوب گیا

آنکھیں موندے سوچوں میں مَیں چاند سے باتیں کرتی ہوں
ایک منادی آن پکارا چاند اُفق میں ڈوب گیا

کرنوں کی بارات سجی تھی ڈالی ڈالی جوبن تھا
گلشن گلشن رنگ نیارا، چاند اُفق میں ڈوب گیا

سورج، چاند، ستارے، سب کا اپنا اپنا سندر روپ
ٹھنڈی کرنوں کا گہوارہ چاند اُفق میں ڈوب گیا

ہر شے فانی، آنی جانی پل دو پل کا کھیل ہوئی
گاتا جائے یہ بنجارا چاند اُفق میں ڈوب گیا

جو آئے وہ جائے اک دن جو اُبھرے وہ ڈوبے ہُو
جگ کو کر کے یہی اشارہ چاند اُفق میں ڈوب گیا

ڈاکو، چور لٹیرے سارے میرے گھر پر ٹوٹ پڑے
ظلمت میں اُن کا ہی اجارہ چاند اُفق میں ڈوب گیا

ایک بروگن تڑپے، مچلے رو رو کے فریاد کرے
اس کی تو قسمت کا تارا چاند اُفق میں ڈوب گیا

دو دن کی ہے بپتا، دھیرج، من سرگوشی کرتا ہے
چمکے گا یہ پھر دوبارہ چاند اُفق میں ڈوب گیا

پل دو پل کو ٹھٹھکا، ٹھہرا پھر ویسے ہی رواں دواں
بہتا جائے وقت کا دھارا، چاند اُفق میں ڈوب گیا

کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں