صفحات

پیر، 18 جولائی، 2016

309۔ خواب چہرے پر سجائے،دل میں تعبیریں لیے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ458

309۔ خواب چہرے پر سجائے،دل میں تعبیریں لیے


خواب چہرے پر سجائے،دل میں تعبیریں لیے
آئنہ خانے میں کون آیا ہے تصویریں لیے

ریت کے سینے پہ ہے لکّھا ہؤا کس کا کلام
دم بخود بیٹھا ہے صحرا کس کی تحریریں لیے

دشت کے وحشی بھی ہو جائیں گے پابندِ قیود
کوئی تو صحرا میں بھی آئے گا زنجیریں لیے

جب بھی اذنِ عام ہو گا ان کے عہدِ حسن میں
ہم بھی جائیں گے سرِ دربار تقصیریں لیے

آخرِ شب کھٹکھٹائے گا کوئی بابِ قبول
التجا جائے گی اپنے ساتھ تاثیریں لیے

اپنے آبا ء کی طرح اس عہد کے آشوب میں
ہم بھی بیٹھے ہیں تری الفت کی جاگیریں لیے

زندگی سوئی ہوئی ہے سایۂ زیتون میں
اور تم پھرتے ہو مضطرؔ! غم کی انجیریں لیے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں