صفحات

جمعرات، 18 اگست، 2016

155۔ ذکرِ رُخسار و چشم و لب کیا ہے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ235۔236

155۔ ذکرِ رُخسار و چشم و لب کیا ہے


ذکرِ رُخسار و چشم و لب کیا ہے
آخر اس ذکر کا سبب کیا ہے

خود فروشی ہے خود فراموشی
خواہشِ دیدِ بے طلب کیا ہے

تیرےؐ حسنِ تمام کا ہے ذکر
شعر کیا چیز ہے، ادب کیا ہے

چاہتا ہے، پکارتا ہے تجھےؐ
دل کا بیمار جاں بلب کیا ہے

آج انسان بے قرار ہے کیوں
بے کلی سی یہ بے سبب کیا ہے

یہ نتیجہ ہے تجھؐ سے دُوری کا
ورنہ کیا ہے عجم، عرب کیا ہے

مکّیؐ، مدنیؐ٭؎ ، قریشیؐ، مُطَّلَبیؐ
کیا حسب ہے ترا، نسب کیا ہے!

غیر بھی اب تو ہو گئے قائل
گر ہیں اپنے خموش تب کیا ہے

آگ سی ہے لگی ہوئی دل میں
تیرے دیدار کی طلب کیا ہے

دین مِل جائے اور دُنیا بھی
ساتھ تو بھی ملے عجب کیا ہے

تیری رحمت غضب پہ حاوی ہے
تیرے آگے ترا غضب کیا ہے

چادرِ عفو میں چھپا لیجے
دیر اس میں شہِؐ عرب کیا ہے

چاند نکلا، اندھیرے بھاگ گئے
فرق اب بَینِ روز و شب کیا ہے

نام مضطرؔ ہے، عشق ہے مذہب
ہم نہیں جانتے لقب کیا ہے

٭۔۔۔۔۔۔''مَدْنی'' پڑھا جائے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں