صفحات

منگل، 30 اگست، 2016

95۔ حدِ ادراک تک پھیلی ہوئی ہیں رنگ کی گلیاں

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ160

95۔ حدِ ادراک تک پھیلی ہوئی ہیں رنگ کی گلیاں


حدِ ادراک تک پھیلی ہوئی ہیں رنگ کی گلیاں
ترے انفاس کی خوشبو، ترے آہنگ کی گلیاں

جبینِ شب بتا کس مہ جبیں کی آمد آمد ہے
سراپا شوق بن کر منتظر ہیں جھنگ کی گلیاں

در و دیوار کو مہکا رہے ہیں زلف کے سائے
غزل میں ڈھل گئی ہیں حسنِ شوخ وشنگ کی گلیاں

وہ اُجلے اُجلے، نکھرے نکھرے غم کے آئینہ خانے
وہ گدرائی ہوئی رخسار و رقص و رنگ کی گلیاں

ذرا سے زلزلے سے ڈَھے گئیں فرقت کی دیواریں
غرورِ عشق کے بازار، نام و ننگ کی گلیاں

ڈبو کر خون میں نکھری ہوئی رنگیں ردا لاؤ
کہ شہرِ ہجر میں ننگی ہیں خشت و سنگ کی گلیاں

حریف اتنا پریشاں ہو رہا ہے کس لیے مضطرؔ!
جو ہمّت ہے بسا لے وہ بھی اپنے ڈھنگ کی گلیاں

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں