صفحات

بدھ، 1 فروری، 2017

410۔ جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ603-604

410۔ جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے


جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے
''زمیں پر آسماں رکّھا ہوا ہے''

کہیں کون و مکاں رکّھے ہوئے ہیں
کہیں پر لا مکاں رکّھا ہوا ہے

محبت کا، اطاعت کا، وفا کا
سروں پر سائباں رکّھا ہوا ہے

بہت آسان ہے ان سے ملاقات
مگر اک امتحاں رکّھا ہوا ہے

وہ دل کو مسکرا کر لے گئے تھے
خدا جانے کہاں رکّھا ہوا ہے

کروڑوں چاہنے والے ہیں اس کے
مگر اک بدگماں رکّھا ہوا ہے

تمہارے اپنے جھگڑے ہیں عزیزو!
ہمیں کیوں درمیاں رکّھا ہوا ہے

ترا احسان ہے پیارے کہ مجھ کو
بڑھاپے میں جواں رکّھا ہوا ہے

پرندے جا چکے کب کے شجر سے
مگر اک آشیاں رکّھا ہوا ہے

یہ آدھی رات کا آنسو ہے، تم نے
اسے کیوں بے زباں رکّھا ہوا ہے

زہے قسمت اسیروں، بےکسوں کا
کوئی تو ترجماں رکّھا ہوا ہے

مکیں تو جا چکے ہیں کب کے مضطرؔ
مگر خالی مکاں رکّھا ہوا ہے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی