صفحات

جمعہ، 4 مارچ، 2016

114۔ وہ یار کیا جو یار کو دل سے اتار دے

کلام محمود صفحہ175

114۔ وہ یار کیا جو یار کو دل سے اتار دے


وہ یار کیا جو یار کو دل سے اتار دے
وہ دل ہی کیا جو خوف سے میدان ہار دے

اک پاک صاف دل مجھے پروردگار دے
اور اس میں عکس حسنِ ازل کا اتار دے

وہ سیم تن جو خواب میں ہی مجھ کو پیار دے
دل کیا ہے بندہ جان کی بازی بھی ہار دے

افسردگی سے دل مرا مرجھا رہا ہےآج
اے چشمۂ فیوض نئی اک بہار دے

دنیا کا غم اِدھر ہےاُدھرآخرت کا غم
یہ بوجھ میرے دل سے الٰہی اتاردے

مسند کی آرزو نہیں بس جوتیوں کے پاس
درگہ میں اپنی مجھ کو بھی اک بار،بَار دے

گزری ہے ساری عمرگناہوں میں اے خدا
کیا پیشکش حضور میں یہ شرمساردے

وحشت سے پھٹ رہا ہے مراسرمرے خدا
اس بے قرار دل کوذرا توقراردے

 توبارگاہ حسن ہے میں ہوں گدائے حسن
مانگوں کا باربار میں،تو بار بار دے

دن بھی اسی کے راتیں بھی اس کی جوخوش نصیب
آقا کے در پہ عمر کو اپنی گزار دے

دل چاہتا ہے جان ہو اسلام پر نثار
توفیق ا س کی اے مرے پروردگار دے

میرے دل و دماغ پہ چھا جا او خوبرو
اورماسوا کا خیال بھی دل سے اتار دے

ممکن نہیں کہ چین ملے وصل کے سوا
فرقت میں کوئی دل کو تسلی ہزار دے

کیسے اٹھے وہ بوجھ جو لاکھوں پہ بار ہو
جب غم دیا ہے ساتھ کوئی غمگسار دے

ہے سب جہاں سے جنگ سہیڑی تیرے لیے
اب یہ نہ ہو کہ تُوہمیں دل سے اتار دے

تنگ آگیا ہوں نفس کے ہاتھوں سے میری جاں
جلدآ اورآکے اس مرے دشمن کو مار دے

بچھڑے ہوؤں کوجنت ِفردوس میں ملا
جسرِصراط سے بہ سہولت گزار دے

اخبار الفضل جلد 32 ۔ 27جولائی 1944ء

115۔ کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں

کلام محمود صفحہ176

115۔ کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں


کبھی حضور میں اپنے جو بار دیتے ہیں
ہواوحرص کی دنیا کو مار دیتے ہیں

وہ عاشقوں کے لیے بیقرار ہیں خود بھی
وہ بے قراردلوں کو قرار دیتے ہیں

کسی کا قرض نہیں رکھتے اپنے سر پر وہ
جو ایک دے انہیں ،اس کو ہزار دیتے ہیں

عطاء وبخشش و انعام کی کوئی حد ہے
جسے بھی دیتے ہیں وہ بیشمار دیتے ہیں

جوان کے واسطےادنیٰ سا کام کرتا ہے
وہ دین ودنیا کو اس کی سدھار دیتے ہیں

جودن میں آہ بھرے ان کی یاد میں اک بار
وہ رات پہلو میں اس کے گذار دیتے ہیں

بگاڑ لے کوئی ان کے لیے جودنیا سے
وہ سات پشت کو اس کی سنوار دیتے ہیں

وہ جیتنے پہ ہوں مائل توعاشقِ صادق
خوشی سے جان کی بازی بھی ہار دیتے ہیں

وہی فلک پہ چمکتے ہیں بن کے شمس وقمر
جو در پہ یار کے عمریں گذار دیتے ہیں

وہ ایک آہ سے بےتاب ہوکے آتے ہیں
ہم اک نگاہ پہ سوجان ہار دیتے ہیں

جو تیرے عشق میں دل کو لگے ہیں زخم اے جاں
ادھر تو دیکھ وہ کیسی بہار دیتے ہیں

اخبار الفضل جلد 32 ۔ 2اگست 1944ء

جمعرات، 3 مارچ، 2016

116۔ ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا

کلام محمود صفحہ177

116۔ ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا


ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا
اس سے بڑھ کر کیا ذریعہ چاہیے اظہار کا

فلسفی ہے فلسفہ سے رازِقدرت ڈھونڈتا
عاشقِ صادق ہے جویاں یار کےدیدار کا

عقل پر کیا طالب ِ دنیا کی ہیں پردے پڑے
ہےعمارت پرفدامنکرمگرمعمار کا

تیری رہ میں موت سے بڑھ کر نہیں عزت کوئی
دار پر سے ہے گزرتا راہ تیرے دار کا

غیر کیوں آگاہ ہورازِمحبت سے مرے
دشمنوں کو کیا پتہ ہو میرے تیرے پیارکا

ڈھونڈتا پھرتا ہے کوناکونامیں گھر گھر میں کیوں
اس طرف آئیں میں پتہ دوں تجھ کو تیرے یار کا

اے خدا کردے منور سینہ و دل کو مرے
سرسے پا تک میں بنوں مخزن ترے انوار کا

سیرکروادےمجھے تُوعالمِ لاہوت کی
کھول دے تو باب مجھ پر روح کے اسرار کا

قید وبندِحرص میں گردن پھنسائی آپ نے
اس حماقت پر ہے دعویٰ فاعلِ مختار کا

رشتہ ء الفت میں باندھے جارہے ہیں آج لوگ
 توڑ بھی کیا فائدہ ہے اس ترے زُنّار کا

فلسہ بھی،رازِقدرت بھی ،رموزِ عشق بھی
کیا نرالاڈھنگ  ہے پیارے تری گفتار کا

بن رہی ہے آسماں پر ایک پوشاکِ جدید
تاناباناٹوٹنے والا ہےاب کفار کا

ان کے ہاتھوں سے تو جامِ زہر بھی تریاق ہے
وہ پلائیں گر تو پھر زَہرہ کسے انکار کا

چھٹ گیا ہاتھوں سے میرے دامنِ صبر وشکیب
چل گیا دل پر مرے جادو تری رفتار کا

اخبار الفضل جلد 32 ۔3نومبر 1944ء

116۔ ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا

کلام محمود صفحہ177

116۔ ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا


ذرہ ذرہ میں نشاں ملتا ہے اس دلدار کا
اس سے بڑھ کر کیا ذریعہ چاہیے اظہار کا

فلسفی ہے فلسفہ سے رازِقدرت ڈھونڈتا
عاشقِ صادق ہے جویاں یار کےدیدار کا

عقل پر کیا طالب ِ دنیا کی ہیں پردے پڑے
ہےعمارت پرفدامنکرمگرمعمار کا

تیری رہ میں موت سے بڑھ کر نہیں عزت کوئی
دار پر سے ہے گزرتا راہ تیرے دار کا

غیر کیوں آگاہ ہورازِمحبت سے مرے
دشمنوں کو کیا پتہ ہو میرے تیرے پیارکا

ڈھونڈتا پھرتا ہے کوناکونامیں گھر گھر میں کیوں
اس طرف آئیں میں پتہ دوں تجھ کو تیرے یار کا

اے خدا کردے منور سینہ و دل کو مرے
سرسے پا تک میں بنوں مخزن ترے انوار کا

سیرکروادےمجھے تُوعالمِ لاہوت کی
کھول دے تو باب مجھ پر روح کے اسرار کا

قید وبندِحرص میں گردن پھنسائی آپ نے
اس حماقت پر ہے دعویٰ فاعلِ مختار کا

رشتہ ء الفت میں باندھے جارہے ہیں آج لوگ
 توڑ بھی کیا فائدہ ہے اس ترے زُنّار کا

فلسہ بھی،رازِقدرت بھی ،رموزِ عشق بھی
کیا نرالاڈھنگ  ہے پیارے تری گفتار کا

بن رہی ہے آسماں پر ایک پوشاکِ جدید
تاناباناٹوٹنے والا ہےاب کفار کا

ان کے ہاتھوں سے تو جامِ زہر بھی تریاق ہے
وہ پلائیں گر تو پھر زَہرہ کسے انکار کا

چھٹ گیا ہاتھوں سے میرے دامنِ صبر وشکیب
چل گیا دل پر مرے جادو تری رفتار کا

اخبار الفضل جلد 32 ۔3نومبر 1944ء


117۔ دستِ کوتاہ کو پھر درازی بخش

کلام محمود صفحہ178

117۔ دستِ کوتاہ کو پھر درازی بخش


دستِ کوتاہ کو پھر درازی بخش
خاکساروں کو سرفرا زی بخش

جیت لوں تیرے واسطے سب دل
وہ اداہائے جاں نوا زی بخش

پانی کردے علوم ِقرآں کو
گاؤں گاؤں میں ایک رازی بخش

روح فاقوں سے ہورہی ہے نڈھال
ہم کو پھر نعمت ِ حجازی بخش

بتِ مغرب ہے ناز پر مائل
اپنے بندوں کو بے نیا زی بخش

جھوٹ کو چاروں شانے چت کردیں
مومنوں کو وہ راستبا زی بخش

روحِ اقدام ودوربین نگاہ
قلبِ شیر ونگاہِ با زی بخش

پائے اقدس کو چوم لوں بڑھ کر
مجھ کو تُو ایسی پاک با زی بخش

سرگرانی میں عمر گزری ہے
سروری بخش،سرفرا زی بخش

کفر کی چیرہ دستیوں کو مٹا
دستِ اسلام کودرا زی بخش

سید الانبیاء ؐکی امت کو
جوہوں غازی بھی وہ نما زی بخش

ہوں جہاں گرد ہم میں وہ پیدا
سند باد وپھر جہا زی بخش

میرے محمود بن مرا محمود
مجھ کو تُوسیرتِ ایا زی بخش

اخبار الفضل جلد 32 ۔ 30دسمبر 1944ء