صفحات

بخارِدل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بخارِدل لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 29 مئی، 2016

بُخارِ دِل

بخار دل صفحہ01

بُخارِ دِل


احمدی احباب کی تعلیم و تربیت کے لئے

بُخارِ دِل

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب

یکے از مطبوعات شعبہ اشاعت لجنہ اماءِ اللہ ضلع کراچی بسلسلہ صد سالہ جشن تشکر
                                                                                                                       

اظہارِ تشکّر

بخار دل صفحہ02

اظہارِ تشکّر


محترم مرزا محمد انور صاحب سان فرانسسکو ۔ امریکہ نے اپنی والدہ محترمہ خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مرزا محمد اسمٰعیل صاحب کی طرف سے اس کتاب کی اشاعت میں مالی معاونت کی ہے۔
ہم محترمہ برکت ناصر ملک صاحبہ کے بھائی کی اس فراخ دلانہ پیشکش پر اُن کے شکر گزار ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی والدہ محترمہ کو صحت و طمانیت والی طویل زندگی سے نوازے اور اہلِ خاندان کو نسلاً بعد نسلٍ اپنی رضا کی راہوں پر چلائے نیز عزیزم بلال احمد ابن مرزا محمد انور صاحب کو نیک، صحت مند، خادمِ دین اور قرۃالعین بنائے۔ آمین اللھم آمین

فجزاھم اللہ تعالیٰ احسن الجزاء فی الدارین خیراً

شعبہ اشاعت لجنہ اماءِ اللہ ضلع کراچی


پیش لفظ

بخار دل صفحہ03

پیش لفظ


اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے کہ لجنہ کراچی صد سالہ جشن تشکر کی خوشی میں کتب شائع کرنے کے منصوبے پر ثابت قدمی سے عمل کر رہی ہے 'بخارِ دِل' جو حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب کا شعری مجموعہ ہے' اس سلسلے کی تراسی ویں 83 کتاب ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذالِک

حضرت میرؔ صاحب کی صاحبزادی آپا طیبہ صدیقہ صاحبہ مرحومہ لجنہ کراچی کے اشاعتی پروگرام میں اس بیش بہا خزانہ کے اِضافہ کا باعث بنیں اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ آمین
 آپ کی تحریک پر ''مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل'' دو ضخیم جلدوں میں شائع ہو چکی ہے۔ اب 'بخارِ دِل' پیش خدمت ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد 'آپ بیتی، کر نہ کر اور تواریخ بیت فضل لندن' بھی شائع کرنے کا ارادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری مساعی قبول فرمائے اور جماعت کے تقویٰ میں ترقی کا باعث بنائے۔

یہ کتاب محترم ناظر صاحب اشاعت کی اجازت سے شائع کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ''بخارِ دِل'' کے پہلے پبلشر محترم طارق محمود صاحب پانی پتی سے بھی اجازت لی گئی ہے۔ آپ نے اس کی اشاعت کے حقوق لجنہ کراچی کو تفویض کر دیے ہیں۔ فجزاھم اللہ تعالیٰ

عزیزہ امۃالباری ناصر سیکرٹری اشاعت اور اُن کی معاونات ہماری دُعاؤں کی مستحق ہیں جن کی محنتِ شاقہ سے یہ روحانی مائدہ میسر آ رہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود ان کی جزا بن جائے۔ آمین اللّٰھم آمین

خاکسار امۃالحفیظ محمود بھٹی
صدر لجنہ اماءِ اللہ ضلع کراچی


عرضِ حال

بخار دل صفحہ04۔06

عرضِ حال


حضرت سلطان القلم کے سایۂ عاطفت میں' حضرت سیّدہ نصرت جہاں کی آنکھوں میں' ذوقِ لطیف کے ہمالوں پر علم و عرفان کی نور بار فضاؤں میں پرورش پانے والے خانوادۂ میر دردؔ کی شعری روایات کے پاسدار حضرت میر ناصر نواب صاحب کے صاحبزادے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل جیسے فنا فی اللہ کا وجد آفریں روح پرور عارفانہ کلام شائع کرنے کی سعادت حاصل ہونا محض فضل و احسانِ خداوندی ہے۔

اگر ہر بال ہو جائے سخن ور
تو پھر بھی شکر ہے امکاں سے باہر

قبل ازیں 1200 صفحات پر مشتمل ''مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل'' کی ترتیب و تدوین اور اشاعت کے طویل کام میں جو عرصۂ حیات گزرا اُس میں ہر لمحہ اس نابغۂ روزگار کے نئے جوہر کُھلتے گئے۔ دستِ قدرت نے کمال فیاضی سے آپ کو علم الادیان اور علم الابدان سے تو مالامال کیا ہی تھا مستزاد یہ کہ قوّت تحریر و تقریر اور موزونئ طبع پر بھی قدرت عطا فرمائی۔ نثر کے شاہکار یکجا پیش کرنے کے بعد یہ تمنا جاگی کہ حضرت میرؔ صاحب کے شعری مجموعے 'بخارِ دِل' کو بھی اب کمیاب نہ رہنے دیا جائے۔ کام کا آغاز کیا تو اندازہ ہوا کہ اسے بہتر طریق پر پیش کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔

اللہ تعالیٰ غریقِ رحمت فرمائے محترم محمد اسمٰعیل صاحب پانی پتی کو جنہوں نے نہایت محبت و عقیدت اور فنّی مہارت سے حضرت میرؔ صاحب کا کلام مرتب فرمایا۔ آپ نے یقینا اُس اعتماد کا خوب حق ادا کیا ہے جو حضرت میرؔ صاحب نے آپ کو اپنی بیاض تھماتے ہوئے کیا تھا۔ آپ نے 'بخارِ دِل' تین مرحلوں میں شائع کی۔ حصہ اوّل 1928ء میں، اس میں حصہ دوم کے اضافے کے ساتھ 1945ء میں اور پھر وفات کے بعد ملنے والے کلام کو شامل کر کے مکمل بخارِ دِل 1970ء میں شائع کی۔ ابتدا میں آپ نے نظموں کو اوقاتِ تصنیف کے مطابق ترتیب دیا۔ لیکن بعد میں یہ ترتیب قائم نہ رہی۔ تمہید میں لکھتے ہیں:۔
''مَیں نے ان نظموں کی ترتیب اوقاتِ تصنیف کے لحاظ سے رکھی ہے مگر کہیں کہیں تقدیم و تاخیر بھی ہو گئی ہے۔ اگر میری زندگی میں اس کی نَوبت آئی تو کتاب کی دوسری اشاعت کے وقت انشاء اللہ نسبتاً بہتر ترتیب کے ساتھ یہ مجموعہ مرتّب ہو سکے گا۔''

بہتر ترتیب کی خواہش کی تکمیل کے لئے خاکسار نے اب یہ مجموعہ اوقاتِ اِشاعت کے مطابق ترتیب دیا ہے اور اس تبدیلی کی حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز سے اجازت بھی لے لی ہے۔ علاوہ ازیں قطعات و رباعیات حصہ اوّل، حصہ دوم اور وفات کے بعد ملنے والے کلام سے لے کر یکجا کر دیے ہیں۔ اسی طرح آپ کی روایتی خوش طبعی اور مزاح کا رنگ لئے ہوئے نظمیں بھی ایک جگہ کر دی ہیں۔

طرزِ تحریر میں املاء اور سہو کتابت کی بعض اغلاط کو درست کر کے مشکل الفاظ پر اِعراب لگا کر کھلا کھلا لکھوایا ہے۔ دراصل جب یہ مجموعہ ابتدا میں مرتب ہوا کاغذ گراں اور کمیاب تھا اس لئے تحریر بہت گنجان ہے۔ بعض جگہ نظموں کے عنوان پہلو میں لکھے ہوئے ہیں۔ جو نمایاں نہیں ہوتے۔ اب مناسب جگہ پر عنوانات لکھوائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان سے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ 'بخارِ دِل' حسین تر ہو کر منظرِ عام پہ آئے۔ اس کا ظاہری حسن اس کے معنوی حسن تک رسائی میں مددگار ہو اور قارئین خدا تعالیٰ کے قریب تر آ جائیں آمین۔

خاکسار اُن سب مہربان ہستیوں کے لئے دعا گو ہے جن کی دعائیں اور حوصلہ افزائی شریک حال رہی۔ اللہ تعالیٰ بیش از پیش مقبول خدماتِ دینیہ کی تادمِ آخر توفیق بڑھاتا چلا جائے آمین اللّٰھم آمین

خاکسار
امۃالباری ناصر


ہفتہ، 28 مئی، 2016

بُخارِ دِل کا نام

بخار دل صفحہ07

بُخارِ دِل کا نام


بُخارِ دِل رکھا ہے نام اِس کا
کہ آتِشدانِ دِل کا یہ دُھواں ہے

کسی کے عشق نے جب پھُونک ڈالا
تو نکلی مُنہ سے یہ آہ و فُغاں ہے

لگاتی آگ ہے لوگوں کے دِل میں
ہماری نظم بھی آتِش فِشاں ہے

کہیں حکمت کے موتی ہیں بکھرے
کہیں عشق و مَحبت کا بَیاں ہے


انتساب

بخار دل صفحہ08

انتساب


اے کہ تُو ہے مُنعِمِ آلائے من
مَیں تِرا بندہ ہوں اے آقائے مَن

لُطف کُن بر من طُفیلِ آنکہ بُود
سیّدِ مَن، شیخِ مَن، مرزائے مَن

ہوں سَقِیمُ الحال اور مَعذُور، گو
اے طبیبِ جُملہ عِلَّتہائے مَن

عَرض سُن لے مہربانی سے مِری
اے سَمیعِ نالۂ شبہائے مَن

شِعرخوش کرنے کو کہتا ہوں تِرے
مہرباں ہو، تا، کرم فرمائے مَن

فائدہ بندوں کو بھی پہنچے ضرور
ہے مِرے مدِّنظر مولائے مَن

ہوں یہ میرے باقِیاتُ الصّالِحات
اے پناہ و مامَن و مَلجائے مَن

لوگ کرتے ہیں عبادت رات دن
میری یہ خدمت ہے اے ماوائے مَن

نَذر ہیں کچھ قطرہ ہائے خونِ دِل
اے بیادت ہی ہی و ہی ہائے مَن

الفضل 12نومبر 1943ء


تعارف

بخار دل صفحہ09

تعارف


شعر کی تعریف اس سے زیادہ نہیں کہ وہ باوزن ہو۔ اس کے الفاظ عمدہ اور مضمون لطیف ہو۔ میرے بزرگوں کو چونکہ شاعری سے مناسبت تھی اس لئے مجھ میں بھی کچھ حصہ اس ذوق کا فطرتی طور پر آیا ہے مگر اس طرح کہ دس دس بارہ بارہ سال کے عرصہ میں ایک شعر بھی نہیں کہتا پھر کچھ کہہ لیتا ہوں دوسرے یہ کہ میرے اشعار مطلب کے حامِل ہوتے ہیں نہ کہ الفاظ کے۔ میں ایک مضمون ذہن میں رکھ کر شعر کہتا ہوں اور الفاظ اس مضمون کے پابندہوتے ہیں نہ کہ مضمون الفاظ کا اس لئے بجائے تغزل کے یہ اشعار ''نظم'' کی صورت رکھتے ہیں اور بجائے آمد کے ہمیشہ آوُرد کا رنگ ان میں ہوتا ہے۔ میرا اُستاد کوئی نہیں۔ نہ تخلص ہے۔ شروع یعنی 1903ء میں جب یہ شوق پیدا ہوا تو چند دفعہ آشناؔ کا تخلص استعمال کیا مگر پھر ترک کر دیا اور ہمیشہ بے تخلص ہی کے گزارا کیا۔ میرے کلام میں بیشتر اشعار بہ سبب مذہبی ماحول اور دینی تربیت کے متصوّفانہ رنگ کے ہیں اور سلسلہ احمدیہ کے مقاصد سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں کبھی کسی کا عمدہ مصرع یا شعر یا کسی غیر زبان کا لفظ اپنے شعر میں پیوند کر لینے سے نہیں ہچکچاتا تاہم سرقہ نہیں کرتا۔ بہت زیادہ حصہ ان نظموں کا ایسا ہے جو دراصل اپنے لئے کہی گئی ہیں نہ کہ اَوروں کے لئے۔ میری دُعا ہے کہ خدا تعالیٰ ان اشعار کو ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لئے بھی مفید بنائے۔
میر محمد اسماعیل الصُّفّہ ۔ قادیان

10جون 1945ء


تمہید

بخار دل صفحہ10۔12

تمہید


استاذی المحترم حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل ۔۔۔۔۔۔۔نے 1903ء سے شعر کہنے شروع کیے اور آخر وقت تک کچھ نہ کچھ کہتے رہے۔ 44 برس کے اس طویل عرصہ میں آپ نے بہت تھوڑی نظمیں کہیں مگر جو کچھ کہا بالعموم دین کی تائید، احمدیت کی حمایت، اسلامی قدروں کی اشاعت، اصحاب جماعت کی نصیحت، بچوں کی تربیت، نوجوانوں کی اصلاح، اخلاق و موعظت کی تبلیغ اور پند و نصائح کی ترویج کے لئے کہا۔ ان کی نظمیں خدا اور رسولؐ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عشق و محبت میں ڈوبی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان کا ناصحانہ اور صوفیانہ کلام بیحد دِلنشیں اور مؤثر ہوتا تھا اور جب وہ سلسلہ کے اخبارات میں چھپتا تھا تو احمدی احباب نہایت ذوق و شوق سے انہیں پڑھتے تھے۔ حضرت میر صاحب کے پُرکیف کلام کی مقبولیت اور شہرت کو دیکھ کر میں نے ''بُخارِدِل'' کے نام سے آپ کے کلام کا مجموعہ 1928ء میں پانی پت سے شائع کیا جس میں بعض ابتدائی نظموں کو چھوڑ کر اس وقت تک کا کلام جمع تھا، بعد میں حضرت میر صاحب نے اور بہت سی نظمیں کہیں جو احمدی اخباروں میں مسلسل چھپتی رہیں۔ اس عرصہ میں حضرت میر صاحب برابر مجھے لکھتے رہے کہ پانی پت چھوڑ کر قادیان آ جاؤ بالآخر مَیں ان کے اِرشادات کی تعمیل میں 1944ء میں مستقِل طور پر قادیان آ گیا اور حضرت میر صاحب نے انتہائی شفقت کے ساتھ مجھے اپنے ساتھ اپنے مکان میں اپنے انتقال کے وقت تک رکھا اور اگر ہمیں قادیان سے نکلنا نہ پڑتا تو اب تک وہیں رہتا۔
قادیان آنے کے بعد میں نے پہلا کام یہ کیاکہ اس عرصہ میں جس قدر نئی نظمیں حضرت میر صاحب نے لکھی تھیں سب فراہم کیں اور ان کو بُخارِ دِل حصہ دوم کے نام سے 1945ء میں شائع کر دیا، مگر اس مجموعہ کی اشاعت کے بعد بھی حضرت میر صاحب کچھ نہ کچھ کہتے رہے اور بُخارِدِل کے سادہ اوراق پر لکھتے رہے مگر وہ کلام کہیں شائع نہیں ہوا۔ اپنے انتقال 18جولائی 1947ء سے پہلے حضرت میر صاحب نے وصیت کر دی تھی کہ میرے بعد یہ سارا کلام اسماعیل کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ حضرت ممانی جان اللہ آپ سے راضی ہو نے اپنے محترم شوہر کی وفات، حسرت آیات کے تیسرے ہی دن یہ مسوّدہ میرے حوالے کر دیا جس کے فوراً بعد ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔ پاکستان آ کر ممانی جان برابر مجھے اس مسوّدہ کی اشاعت کے متعلق لکھتی رہیں مگر مجھے بدقسمتی سے اس ضروری کام کے بجا لانے کی توفیق نہ ملی۔ حضرت ممانی جان کی وفات کے بعد ان کی دختر نیک اختر حضرت اُمّ متین مریم صدیقہ ایم اے حرم محترم حضرت خلیفہ ثانی اللہ آپ سے راضی ہو نے اپنے باپ کے اس مقدس ورثہ کی اشاعت کی طرف مجھے توجہ دلائی۔ میرا وقت بھی اب آخر ہے اور میں بہت ہی سُرعت کے ساتھ موت کی وادی کی طرف جا رہا ہوں۔ اس لئے سوچا کہ مرتے مرتے اگر یہ کام ہو جائے تو میری عین سعادت ہے۔ اس لئے نہایت ضُعف و ناتوانی اور اس بے حد کمزوری و ناطاقتی کے باوجود بیماریوں اور اَفکار کے ہُجوم میں جس طرح بھی بن سکا میں نے اس کام کو انجام دیا اور حضرت میر صاحب کے پُرکیف، اثر انگیز اور پُرمعارف کلام کا یہ مجموعہ مَیں آج حضرت مریم صدیقہ کی خدمت میں ان کے نہایت ہی محترم باپ کی یادگار کے طور پر پیش کر رہا ہوں۔ اللہ پاک میری اس حقیر خدمت کو قبول فرمائے۔
میں نے ان نظموں کی ترتیب اوقاتِ تصنیف کے لحاظ سے رکھی ہے مگر کہیں کہیں تقدیم و تاخیر بھی ہو گئی ہے اگر میری زندگی میں اس کی نَوبت آئی تو کتاب کی دوسری اِشاعت کے وقت انشاء اللہ نسبتاً بہتر ترتیب کے ساتھ یہ مجموعہ مرتب ہو سکے گا۔ میں نے کتاب کے آخر میں حضرت میر صاحب کے وہ غیرمطبوعہ اشعار بھی شامل کر دیے ہیں جو بُخارِ دِل حصہ دوم کی اشاعت کے بعد آپ نے وقتاً فوقتاً کہے۔ اب یہ حضرت میر صاحب کے کلام کا ایک مکمل مجموعہ بن گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ناظرینِ کرام کو ان دِلآویز نظموں سے پورے طور پر اِس:تِفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خاکسار محمد اسماعیل پانی پتی
                18۔رام گلی نمبر 3۔ لاہور

8اپریل 1970ء

نظموں کی ترتیب

بخار دل صفحہ13۔18

 نظموں کی ترتیب


نمبر شمار     عنوان    صفحہ
1    جو راہ تجھے پسند ہے اُس پر چلا مجھے    19
2    یا رَبّ کسی معشوق سے عاشق نہ جدا ہو    20
3    آئے گی مرے بعد تمہیں میری وفا یاد    21
4    چشمِ بینا حسنِ فانی کی تماشائی نہیں    22
5    مُنکرانِ خلافتِ محمود    24
6    پیغامی لیڈروں سے خطاب    27
7    مرکز کفر میں خانہء خدا    30
8    در فراقِ قادیاں    31
9    حالات قادیان دارالامان    32
10    ہم محو نالۂ جرسِ کارواں رہے    37
11    بخارِ دِل    41
12    دُعائے وصل    51
13    تودیع حضرت خلیفۃالمسیح الثانی بر موقع سفرِ یورپ    52
14    خلاصہ خطبہ عید الاضحی    55
15    منظور ہے گزارِشِ احوالِ واقعی    56
16    نعمتُ اللہ نے دکھلا دیا قرباں ہو کر    58
17    مجھ کو کیا بیعت سے حاصل ہو گیا    60
18    محبت کا ایک آنسو    63
19    عاقبت کی کچھ کرو تیاریاں    64
20    خیر مقدم حضرت خلیفۃالمسیح الثانی    67
21    ایک احمدی بچی کی دُعا    70
22    ندائے احمدیت    72
23    احمدی کی تعریف    73
24    نعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام    75
25    میں دُنیا پہ دیں کو مقدم کروں گا    79
26    نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے    81
27    قصہئ ہجر ۔ ایک مہجور کی زبان سے    83
28    اللہ میاں کا خط میرے نام    85
29    سلام بحضور سَیِّدُ ال:اَنام صلی اللہ علیہ واٰلِہٖ وسلم    87
30    دُعا    89
31    طیّبہ کی آمین    90
32    آنچہ خوباں ہمہ دارَند تو تنہا داری    92
33    دن مدّتوں میں آئے ہیں پھر اہلِ حال کے    93
34    محمدؐ مُصطفیٰ ہے مُجتبیٰ ہے    95
35    کہ جتنے زنگ مخفی ہیں محبت سب کی صَیقل ہے    98
36    خدامِ احمدیت    100
37    رسولِ قادیانیؑ    101
38    وصیّتُ الرسولؐ بر موقع حجۃالوداع    106
39    کلمہ طیّبہ    107
40    دُعائے مَغفِرت    108
41    نِرخ بالا کُن کہ ارزانی ہنوز    110
42    نوائے تلخ    116
43    عملُ التِّرب یعنی علمِ توجہ یا مسمریزم    119
44    قرآن، سُنَّت اور حدیث کے مدارج    121
45    تُم    122
46    ہمارا آفتاب    125
47    ناسخ و منسوخ    128
48    دُعائے سُکھ    130
49    اِنَّ اللّٰہَ اشْتَریٰ    131
50    عاجزانہ دُعا    131
51    اپنا رَنگ    133
52    اُن کا رَنگ    134
53    ہو نہیں سکتا    136
54    دُعائے من    137
55    احمدیت    141
56    عشق و مُشک    149
57    خلیفہ کی شَفقَت اور نِظام کی برکت    152
58    خداداری چہ غم داری    154
59    پنجاب    162
60    درود بر مسیح موعود علیہ السلام    163
61    فطرت    166
62    اللہ ۔ اللہ    167
63    کتبۂ تُربَت    169
64    آئندہ زندگی    171
65    جنت دَجّال یا مغربی تمدن    172
66    قابلِ توجہ خُدام    174
67    میرے خدا    175
68    کچھ دُعا کے متعلق    180
69    دیباچۂ راہِ سلوک    183
70    مسخ کی حقیقت    185
71    نماز    186
72    پنج ارکانِ اسلام    187
73    معرفتِ اِلٰہی    188
74    ترکِ دُنیا    191
75    وصلِ الٰہی    194
76    مال کا منتر    196
77    خدائی جبر    197
78    اس لئے تصویر جاناں ہم نے کھچوائی نہیں    198
79    قادیان میں راشن    200
80    تو کیا آئے    202
81    ہم ڈلہوزی سے بول رہے ہیں    204
82    اب کے بھی دن بہار کے یونہی گزر گئے    205
83    حضرت مولوی برہان الدین جہلمی    207
84    مَحبت    208
85    عقل بغیر الہام کے یقین کے درجہ کو نہیں پہنچا سکتی    208
86    مناجات بدرگاہِ قاضی الحاجات    209
87    کھوٹے معاملات    210
88    قادیان کے آریہ    210
89    اِبنِ آدم بھی آدم ہے    211
90    آ گئی گویا    211
91    دنیاوی تعلقات    212
92    عارضی تکالیف میں بھی خدا نے لذّت رکھی ہے    212
93    طاعون کا شہید احمدی    212
94    روح بغیر جسم کے کسی جگہ بھی نہیں رہ سکتی    213
95    سُن لے میری دُعا خدا کے لئے    213
96    تہجد    215
97    احمدی کیوں ہر اک سے افضل ہے    215
98    لاہور کی دعوتیں    218
99    لذّت    219
100    کھجیار    222
101    عام آدمیوں کی سادہ باتیں اور اہلِ علم کی اصطلاحیں    224
102    مغرب زدہ    225
103    جمعہ کا دِن    227
104    ہم قادیان سے بول رہے ہیں    229
105    فقر اور افلاس کی ایک حکمت    230
106    کیا دیکھا؟    231
107    اِنَّما اَشْکُوْا بَثِّی وَ حُزْنِیْ اِلَی اللّٰہ    232
108    یاد ہے تجھ کو مرا قصہ مری حالتِ زار    233
109    رنگ پر رنگ    234
110    صورت اور سیرت    236
111    رباعیات و قطعات    237
112    ابیات    279
113    الہامی اشعار اور مصرعے    280
114    میرے اشعار میں دُعا ہائے مستجاب    281
مزاحیہ کلام
115    دکھاوے کی محبتیں    283
116    ایک المناک حادثہ    285
117    واویلا    294
118    مرزا غالب اور اُن کے طرفدار    300

https://www.facebook.com/urdu.goldenpoems/