صفحات

درعدن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
درعدن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 3 مئی، 2016

1۔ تعارف

درعدن ایڈیشن 2008صفحہi-iv

تعارف


حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ جن کا منظوم کلام الشرکۃ الاسلامیہ لمیٹڈ شائع کرنے کا فخر حاصل کر رہی ہے اللہ تعالیٰ کے زندہ نشانوں میں سے ایک نشان ہیں ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں فرماتے ہیں:
''سینتیسواں(٣٧)نشان یہ ہے کہ بعد اس کے خدا تعالیٰ نے حمل کے ایام میں لڑکی کی بشارت دی اور اس کی نسبت فرمایا کہ'' تُنْشَأُ فِی الْحِلْیَۃِ'' یعنی زیور میں نشوونما پائے گی ۔یعنی نہ خورد سالی میں فوت ہو گی اور نہ تنگی دیکھے گی ۔ چنانچہ بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا۔''

اسی طرح آپ سے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ وحی کی :
''نواب مبارکہ بیگم''۔            ( الحکم جلد 5نمبر 44 صفحہ3)

اس طرح حضرت اقدس ان کے حق میں فرماتے ہیں :
ہوا اک خواب میں مجھ پر یہ اظہر
کہ اس کو بھی ملے گا بخت برتر

لقب عزت کا پاوے وہ مقرر
یہی روز ازل سے ہے مقدر

خدا نے چار لڑکے اور یہ دختر
عطا کی پس یہ احساں ہے سراسر

الہام ''نواب مبارکہ بیگم '' میں یہ اس پہلو کی طرف بھی اشارہ تھا کہ آپ نوابی خاندان میں بیاہی جائیں گی ۔چنانچہ 17فروری1908ء کو آپ غیر متوقع طور پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ رئیس مالیر کوٹلہ سے بیاہی گئیں٭ جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں ''حجۃ اللہ'' کے لقب سے نوازا تھااور جن کی پاکبازی اور تقویٰ شعاری کی تعریف خدا کے مقدس مسیح نے ان الفاظ میں کی تھی۔

''مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو کہ باوجود بہم پہنچنے تمام اسباب اور وسائل غفلت اور عیاشی کے اپنے عنفوان جوانی میں ایسا پرہیز گار ہو''

اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ رشک اللہ تعالیٰ کی جناب میں قبول ہوا اور اللہ تعالیٰ نے نواب صاحب موصوف کو آپؑ کا نسبتی بیٹا اور آپ کو ان کا نسبتی باپ بنا دیا۔

اسی طرح حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو ایک خواب میں دکھایا گیا کہ :
''مبارکہ پنجابی زبان میں بول رہی ہے ۔مینوں کوئی نہیں کہہ سکدا کہ میں ایسی آئی جس نے ایہہ مصیبت پائی''
یعنی آپ کا وجود نہایت خیر و برکت کا موجب ہو گا۔

آپ کے کلام کو پڑھنے سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا مقصود شعر گوئی نہیں بلکہ ضرورت پر اپنے جذبات کو نظم میں ظاہر کر دینا ہے ۔کیونکہ نظم اثر انداز ہونے میں نثر پر فوقیت رکھتی ہے ۔ آپ کے کلام میں تصنع بالکل نہیں جو خیالات دماغ میں آئے ہیں ان کو بے تکلف عام فہم سلیس زبان میں نظم کا جامہ پہنا دیا گیا ہے ۔

یہ ظاہر کر دینا بھی ضروری ہے کہ اشعار لکھنے والے اپنے اشعا ر پر استادوں سے اصلاح لیا کرتے ہیں اور عام طور پر یہی دستور چلا آتا ہے لیکن یہ مجموعۂ کلام کسی حک و اصلاح کا رہینِ منت نہیں ہے ۔

مسلم خواتین اور شعر
آنحضرت ؐ کی صحابیات ؓ میں سے حضرت خنساء جو نہایت بلند پایہ شاعرہ تھیں اپنے دیوان کی وجہ سے مشہورو معروف ہیں۔ان کے علاوہ بعض اور صحابیات ؓ کا بھی منظوم کلام پایا جاتا ہے ۔مثلا ً فاطمہؓ بنت رسول اللہ ؐ اور حضرت اسماءؓ بنت ابی بکرؓ الصدیق اور حضرت عاتکہؓ وغیرہ رضی اللہ عنہن۔

لیکن ہماری جماعت میں شاذ نادر ہی کوئی خاتون ایسی ہو گی جو اپنے دلی خیالات اور جذبات کو منظوم کلام کی صورت میں بیان کرتی ہوں۔ اس کی اصل وجہ جو میں خیال کرتا ہوں کہ احمدی خواتین کی عدم توجہی ہے ورنہ تعلیم کے میدان میں تو وہ بفضلہ تعالیٰ دوسری خواتین سے سبقت لے گئی ہیں۔

حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے منظوم کلام کا مجموعہ شائع کرنے سے الشرکۃ الاسلامیہ کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ احمدی خواتین اس طرف توجہ کریں تا وہ نثر کے علاوہ منظوم کلام میں بھی اسلام کی خوبیاں بیان کر سکیں اور قومی اور ملی ترقی میں اس جہت سے بھی حصہ لے سکیں۔ بعض اوقات منظوم کلام لوگوں کے دلوں پر وہ اثر ڈالتا ہے جو نثر نہیں ڈال سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودں کو یہ توفیق بخشی کہ آپ اسلام کی سچائی کے دلائل اور قرآنی حقائق و معارف اور اپنا دعویٰ اور اس کی صحت کا ثبوت نظم و نثر دونوں ہی میں اکمل صورت میں بیان کر سکیں۔ مگر شعر کہنے سے وہی مقصود ہونا چاہئے جو ہمارے آقاو مولا حضرت مسیح موعود  علیہ السلام نے فرمایا ہے یعنی ؎

کچھ شعرو شاعری سے اپنا نہیں تعلق
اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعا یہی ہے

دسمبر1959ء                              خاکسار:جلال الدین شمس


2۔ تبرکات

3۔ التجائے قادیاں

درعدن ایڈیشن 2008صفحہ1۔4

التجائے قادیاں


یہ نظم ''الفضل '' 29 جولائی 1924 ء میں شائع ہوئی تھی اور الحکم 7اگست 1924 ء میں میرے مندرجہ ذیل نوٹ کے ساتھ شائع ہوئی اور یہ نظم حضرت مصلح موعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی نظم'' یادِ قادیان ''کے جواب میں تھی جو آپ نے سفر یورپ میں کہی تھی جس کا پہلا شعر ہے ؎
ہے رضائے ذات باری اب رضائے قادیاں
مدعائے حق تعالیٰ مدعائے قادیاں

اور آخری شعر ہے
جب کبھی تم کو ملے موقعہ دعائے خاص کا
یاد کر لینا ہمیں اہل وفائے قادیاں

جناب بیگم صاحبہ نے مندرجہ ذیل نظم ایسی حالت میں کہی جب کہ آپ کی طبیعت علیل تھی۔ اس نظم میں آپ نے قلبی کیفیات کا اظہار کیا ہے اور جس سوزوگداز سے یہ نظم کہی گئی ہے او ر جس قسم کی اضطرابی اور بے قرارئ دل کا اور انتہائی درجہ کی محبت کا اس میں اظہار کیا گیا ہے وہ قارئین کرام پڑھ کر معلوم کر سکتے ہیں اور حقیقت میں یہ نظم تمام جماعت کے قلبی جذبات کا آئینہ ہے ۔خدا تعالیٰ ان الفاظ کو جلد سے جلد قبولیت کا جامہ پہنائے اور ہماری روح رواں کو مظفر اور منصور باصد کامیابی و کامرانی واپس دارالامان لائے۔شمس

سیّدا! ہے آپ کو شوقِ لقائے قادیاں
ہجر میں خوں بار ہیں یاں چشمہائے قادیاں

سب تڑپتے ہیں کہاں ہے زینتِ دارالاماں
رو ِنق بستانِ احمد دل ربائے قادیاں

جان پڑ جاتی تھی جن سے وہ قدم ملتے نہیں
قالبِ بے روح سے ہیں کوچہ ہائے قادیاں

فرقتِ مہ میں ستارے ماند کیسے پڑ گئے
ہے نرالا رنگ میں اپنے سماءِ قادیاں

وصل کے عادی سے گھڑیاں ہجر کی کٹتی نہیں
بارِ فرقت آپ کا کیونکر اٹھائے قادیاں

روح بھی پاتی نہیں کچھ چین قالب کے بغیر
ان کے منہ سے بھی نکل جاتا ہے ہائے قادیاں

ہو وفا کو ناز جس پر جب ملے ایسا مُطاع
کیوں نہ ہو مشہورِ عالم پھر وفائے قادیاں

کیوں نہ تڑپا دے وہ سب دنیا کو اپنے سوز سے
درد میں ڈوبی نکلتی ہے صدائے قادیاں

اس گلِ رعنا کو جب گلزار میں پاتی نہیں
ڈھونڈنے جاتی ہے تب بادِ صبائے قادیاں

یاد جو ہر دم رہے اس کو دعائے خاص میں
کس طرح دیں گے بُھلا اہلِ وفائے قادیاں

کشتی ء دین محمدؐ جس نے کی تیرے سپرد
ہو تری کشتی کا حافظ وہ خدائے قادیاں

منتظر ہیں آئیں گے کب حضرت فضلِ عمر
سوئے رہ نگراں ہیں ہر دم دیدۂ ہائے قادیاں

مانگتے ہیں سب دعا ہو کر سراپا آرزو
جلد شاہِ قادیاں تشریف لائے قادیاں

شمسِ ملت جلد فارغ دورۂ مغرب سے ہو
مطلعء مشرق سے پھیلائے ضیائے قادیاں

خیریت سے آپ کو اور ساتھ سب احباب کو
جامع المتفرقین جلدی سے لائے قادیاں

آئیں منصور و مظفر کامیاب و کامراں
قصرِ تثلیثی پہ گاڑ آئیں لوائے قادیاں

پیشوائی کے لئے نکلیں گھروں سے مرد و زن
یہ خبر سن کر کہ آئے پیشوائے قادیاں

ابرِ رحمت ہر طرف چھائے ،چلے بادِ کرم
بارشِ انوار سے پُر ہو فضائے قادیاں

گلشن احمد میں آ جائے بہار اندر بہار
دل لبھائے عندلیبِ خوشنوائے قادیاں

معرفت کے گل کھلیں تازہ بتازہ نو بہ نو
جن کی خوشبو سے مہک اٹھے ہوائے قادیاں

مانگتے ہیں ہم دعائیں آپ بھی مانگیں دعا
حق سنے اپنے کرم سے التجائے قادیاں

علم و توفیقِ بلاغِ دین ہو ان کو عطا
قادیاں والوں کا ناصر ہو خدائے قادیاں

راہِ حق میں جب قدم آگے بڑھا دے ایک بار
سر بھی کٹ جائے نہ پھر پیچھے ہٹائے قادیاں

خا ِلق ہر دو جہاں کی رحمتیں ہو ں آپ پر
والسلام اے شاہِ دیں اے رہنمائے قادیاں

الحکم 7اگست 1924ء


4۔ صبح مسرّت

درعدن ایڈیشن 2008صفحہ5۔6

صبح مسرّت


حضرت مصلح موعودؓ کے سفر یورپ سے واپسی کے موقعہ پر

آج ہر ذرہ سرِ ُطور نظر آتا ہے
جس طرف دیکھو وہی نور نظر آتا ہے

ہم نے ہر فضل کے پردے میں اسی کو پایا
وہی جلوہ ہمیں مستور نظر آتا ہے

کس کے محبوب کی آمد ہے کہ ہر خورد و کلاں
نشہء عشق میں مخمور نظر آتا ہے

شکر کرنے کی بھی طاقت نہیں پاتا جس دم
کیا ہی نادم دلِ مجبور نظر آتا ہے

للہ الحمد شنیدیم کہ آں می آید
سوئے گلشن چہ عجب سرو رواں می آید

آج ہر ایک ہے مشتاق لقائے شہ دیں
گھر میں بیٹھا کوئی رہ جائے یہ ممکن ہی نہیں

ایک پر ایک گرا پڑتا ہے اللہ رے شوق
خو ف ہے اوروں سے پیچھے نہ میں رہ جاؤں کہیں

سر اٹھانے کی نہ بستر سے جو ہمت پائے
کیا کرے آہ! وہ مجبور وہ زار و غمگیں٭

رکھ تسلی دلِ بیمار! ابھی آتے ہیں
دردِ مزمن کی دوا باعث راح و تسکیں

مرہمِ زخمِ دل مادرِ مہجور و حزیں
زینتِ پہلوئے ما جانِ جہاں می آید

گلشنِ حضرت احمد میں چلی باد بہار
ابر رحمت سے برسنے لگے پیہم انوار

بچے ہنستے ہیں خوشی سے تو بڑے ہیں دلشاد
جذبۂ شوق کے ظاہر ہیں جبیں پر آثار

تازگی آ گئی چہروں پہ کھلے جاتے ہیں
دل کی حالت کا زباں کر نہیں سکتی اظہار

مژدۂ وصل لئے صبحِ مسرت آئی
فضلِ مولا سے ہوئی دور اداسی یک بار

نور می بارد و شاداں در و سقف و دیوار
اے خوشا وقت! مکیں سوئے مکاں می آید

٭ مراد امۃ الحی بیگم مرحومہ جو علیل تھیں۔''مبارکہ''

''الفضل''25نومبر1924ء


5۔ ناز ِ محبت

درعدن ایڈیشن 2008صفحہ7۔9

ناز ِ محبت


دنیا میں حاکموں کو حکومت پہ ناز ہے
جو ہیں شریف ان کو شرافت پہ ناز ہے

عابد کو اپنے زہدوعبادت پہ ناز ہے
اور عالموں کو علم کی دولت پہ ناز ہے

حُسنِ رقم پہ ناز ہے مضموں نگار کو
پھر کاتبوں کو حُسنِ کتابت پہ ناز ہے

ماہر کو ہے یہ ناز کہ حاصل ہے تَجرِبہ
عاقل کو اپنے فہم و فراست پہ ناز ہے

جن کی بہادری کی بندھی دھاک ہر طرف
تن تن کے چل رہے ہیں شجاعت پہ ناز ہے

صنعت پہ اپنی ناز ہے ّصناع کو اگر
مو جِد کو اپنی طبع کی جودَت پہ ناز ہے

ماہر ہے سرجری میں تو ہے ڈاکٹر کو ناز
حاذِق ہے گر طبیب، طبابت پہ ناز ہے

بیمار کو ہے ناز کہ ''نازک مزاج ہوں''
جو تندرست ہیں انہیں صحت پہ ناز ہے

منعم کو ہے یہ ناز کہ قبضہ میں مال ہے
عزت خدا نے دی ہے تو عزت پہ ناز ہے

''ہیں مال مست امیر تو ہم کھال مست ہیں''
اس رنگ میں غریب کو غربت پہ ناز ہے

مانا کہ انکسار بھی داخل ہےخُلق میں
پر کچھ نہ کچھ خلیق کو سیرت پہ ناز ہے

گوشہ نشیں کو ناز ہے یہ ''بے ریا ہوں میں''
جو نامور ہوئے انہیں شہرت پہ ناز ہے

نازاں ہے اس پہ جس کو فصاحت عطا ہوئی
جادو بیاں کو اپنی طلاقت پہ ناز ہے

پایا جنہوں نے حسن وہ اس مے سے مست ہیں
ہر اک سے بے نیاز ہیں صورت پہ ناز ہے

اُڑ کر کہاں کہاں نہ گیا طائرِ خیال
شاعر کو اپنے زورِ طبیعت پہ ناز ہے

دیکھو جسے غرض کہ وہی مستِ ناز ہے
وحشی بھی ہے اگر اسے وحشت پہ ناز ہے

فانی تمام ناز ہیں باقی ہے اس کا ناز
جس کو بقا پہ ناز ہے وحدت پہ ناز ہے

جانِ جہاں! تجھی پہ تو زیبا ہے ناز بھی
یہ کیا کہ چند روز کی حالت پہ ناز ہے

کیونکر کہوں کہ ناز سے خالی ہے میرا دل
پیارے مجھے بھی تیری ''محبت پہ ناز'' ہے

حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی یہ نظم اخبار ''الفضل''21اکتوبر1924ء میں ''مستورہ'' کے نام سے شائع ہوئی