صفحات

حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوری صاحب ؓ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوری صاحب ؓ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 7 جنوری، 2017

1۔ نعت سرور کائنات فخر موجودات حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

کلامِ مختار ؔ

نعت سرور کائنات فخر موجودات حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم


اللہ اللہ شان ِمحمد صلی اللہ علیہ وسلم
عرشِ عظیم ایوانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

پیش نظر ہے شانِ محمد،ذہن میں ہیں احسان محمد
کیوں نہ ہوں پھر قربان محمد صلی اللہ علیہ وسلم

دل شیدائے آنِ محمد،روح فدائے شانِ محمد
وجد میں ہیں مستانِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

بے تعداد احسانِ محمد،بے پایاں فیضا نِ محمد
رحمتِ حق قربا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ازآدم تاحضرت عیسیٰ سب عالی رتبہ ہیں لیکن
اور ہی کچھ ہے شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سب سے بہتر سب سے اعلیٰ ،سب اعجاز رسل سے بالا
معجزۂ قرآ نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

عاقل پر کرتا ہے ہویدا ان ھو الا وحی یوحی
توقیر فرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اے پرسانِ شانِ محمد ، جویائے فیضانِ محمد
دیکھ ذرا قرآ نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

عین عنایت ،چشمۂ رحمت، بحرِحقیقت،حسنِ رسالت
خُلقِ عالی شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آدم ولوط وابراہیم وداودوعیسیٰ وموسیٰ
سب ہیں ثنا گویا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

صدیوں کے مردوں کو جلایا،پیغام توحید سنایا
روحِ رواں قربا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

لرزاں تھے شاہانِ زمانہ، حیرت میں ہر اک فرزانہ
کیا تھی شوکت وشا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

امن جہاں قائم فرمایا،جس جس کا حق تھا دلوایا
قربانِ فرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سارے بد افعال چھڑائے سب عمدہ اخلاق سکھائے
جانِ جہاں قربا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

راحت پر راحت دیتا ہے کیا دلکش موجیں لیتا ہے
دریائے فیضا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

صبحِ روزِ ازل سے لیکر ختم نہیں تا شامِ حشر
سلسلۂ احسا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سبحان اللہ کیا کہنا ہے سینوں سے دل کھینچ رہا ہے
جذبِ بے پایا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

گو کیسا ہی سحر بیاں ہو لیکن ناممکن جو بیاں ہو
تفصیلِ فیضا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ کا ثانی ہو،نہ ہوا ہے،دنگ ہے جس نے دیکھ لیا ہے
کچھ حسن و احسا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

مشرقِ وحدت۔مہررسالت،آیہ قدرت،سایہ رحمت
ذاتِ عالی شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اپنے ہوں یا بیگانے ہوں،مسلم ہوں یا نا مسلم
سب پرہے احسا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

لوگو! اس درجہ حق پوشی ،یہ سختی،یہ ناحق کوشی
یہ توہینِ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اے اہل انصاف بتاؤ،صاف کہو تم صاف بتاؤ
کیا ہے یہی شایا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

لوگو!شرم وحیابھی کچھ ہے آخرخوفِ خدا بھی کچھ ہے
یہ تحقیر ِشا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کون محمد؟ہادئِ اعظم،کون محمد؟محسن ِعالم
ہرمسلم قربا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کون محمد؟ماہِ مروت،کون محمد؟چشمۂ رحمت
فہم سے برترشا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کچھ اس جوروجفا کی حد بھی ،ظلم زلزلہ زا کی حد بھی
اے بدخواہ ِشا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

زہریلی گفتار کہاں تک اور اسکی تکرار کہاں تک
حیف!اے بدخواہا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

یہ آزاررسانی تاکے،تاکے تلخ بیانی تاکے
شرم!اے بدگویا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

بارشِ تیرِ ظلم وستم نے سینے کردئیے چھلنی لیکن
ضبط!اے جانبازا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

وہ متجاوز ہو نہیں سکتے دائرۂ آئینِ وفا سے
جوہیں رضا جویا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

گوباقی نہ ہو ضبط کا یارالیکن مطلب کیا ہے تمہارا
تعمیلِ فرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

فرمانِ آنحضرت کیا ہے،کیا ہے حکمِ شریعت کیا ہے
غور کر اے خواہا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جونہ سنے احکام شریعت،جو نہ کرے قانون کی عزت
وہ ہے نافرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

گردوغبارِحرص وہوا سےصاف ہے بالکل فضلِ خدا سے
آئینۂ داما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ہرشجر آخر اپنے پھلوں سے ہی پہچانا جاتا ہے
دیکھ سوئے غلما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سیدنا صدیق مکرم،سیدنا فاروقِ اعظم
سرخیل ِیارا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سیدنا عثمان معظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ
خواہانِ رضوا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت اسداللہ الغالب، سیدنا اابن ابو طالب
سرتاج ِ اخوا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جامع درویشی وشاہی،نافع مخلوقاتِ الہٰی
کون؟ یہی یارا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

حامی مہرو صدق وصفا تھے،ماحی ظلم وجوروجفا تھے
اصحابِ ذی شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم


کانِ صفا تھے،باغِ وفا تھے،ابرِ سخاتھے،بحرِ عطا تھے
انصارواعوا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

خوش اطوارونیک طبیعت،پاک دل وپاکیزہ فطرت
جملہ مقبولا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سیدنا حسنین کی حالت کردیتی ہے محو حیرت
یہ ہیں فرزندا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کامل تھے تسلیم ورضا میں ،جانیں دیدیں راہ خدا میں
لیکن رکھ لی آ نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کس درجہ رکھتے تھے لطافت،کیسی رنگت کیسی نکہت
 گلہائے بستا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت موسی ہوں یا عیسیٰ ایک کے یاروں نے بھی پایا
اخلاصِ یارا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اے گل ایمان ڈھونڈنے والے کانٹوں سے دامن کو بچا لے
کر سیرِ بستا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

نفسِ دنی پر غالب آجا،آجا حق کے طالب آجا
واہے درِفیضا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

توڑ علائق کی زنجیرں،چھوڑ تصنع کی تقریریں
آزیرِ فرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

نقشِ دوئی کو دل سے مٹا دے،نعرہ الااللہ لگادے
آذیلِ مستا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ سا ہادی،آپ سا محسن،ناممکن بالکل ناممکن
سب سے اعلیٰ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ ہیں آقا آپ ہیں مولا،آپ ہیں ملجاء آپ ہیں ماوٰی
قربانِ ہر شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

نگہتِ گل ہیں شمع سُبل ہیں،ہادی کل ہیں،ختم رسل ہیں
کیا ہوبیانِ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سب سے مکرم،سب سے معظم،ہادی اعظم۔محسنِ عالم
سبحان اللہ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ ہیں آقاآپ ہیں مولا،آپ ہیں ملجاء ، آپ ہیں ماویٰ
موجبِ حیرتِ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

حد شرک سے باہر رہیئے،پھر جو کچھ جی چاہے کہئے
سب شایانِ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اے کے جسے لاحق ہے سراسرخوف ِتابِ مہرِ محشر
آزیرِ داما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ فدائے خلقِ خدا ہیں ،آپ شفیع روزِ جزا ہیں
مژدہ اے خواہا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

جملہ اصولوں سے ہے نرالا،فہمِ بشر سے ارفع اعلیٰ
ہرہرجلوہ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

آپ نے سب پر شفقت کی ہے،سب کو دین کی دعوت دی ہے
عالم ہے مہما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

اے جویائے ہدایت آجا،آجا طالب ِ جنت آجا
جنت ہے بستا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ہمت والو نیک جوانو،شمع رسالت کے پروانو
دیکھو تو فرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

بیداری کا وقت یہی ہے،تیاری کا وقت یہی ہے
ہشیار اے شیرا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

خود جاگو اوروں کو جگا دو،عالم میں ایک دھوم مچا دو
اے غیرت مندا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

موقع ہے یہی نصرتِ دیں کا،وقت نہیں واللہ نہیں کا
ہاں اے شیدایا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

دشت وجبل میں بحر رواں میں سارے عرض و طولِ جہاں میں
پہنچا دو فرما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

مشرق کو مغرب سے ملا دو ،کونے کونے میں پہنچا دو
تذکرۂ احسا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ہو جو مقابل سارا جہاں،ہے لو یہ گوہے یہ  چوگان ہے
ہمت اے مردا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

کچھ ہو لیکن آن نہ جائے ہاتھ سے یہ میدان نہ جائے
ہمت اے مردا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

بات تو جب ہے دیکھ لیں یکسر،دنیا کہ سب اسودواحمر
جلوۂ حسنِ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

عالم کو سرمست بنا دو،سب کو تا امکان چکھا دو
صہبائے عرفا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

بخت رسا پر نازاں ہوں میں ،فضلِ خدا پر نازاں ہوں میں
پایا ہے فیضا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

ناممکن ہے ناممکن ہےمجھ سے ادا ہو کیا ممکن ہے
کچھ شکرِ احسا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

میں اور احسانِ محمد۔لطفِ بے یایان محمد
دستِ من و داما نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

شور، صلی اللہ ہر سو ہے،کیوں نہ ہو اےمختار کے تو ہے
نغمہ خوانِ شا نِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم

(اخبار الفضل قادیان دارالامان 31مئی1929ء،حیات حضرت مختار صفحہ 227-231)

 حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوری صاحب ؓ


جمعہ، 6 جنوری، 2017

2۔ قصیدہ در شان حضرت امام الزماں مسیح موعود ومہدئ دوراں

کلامِ مختار ؔ

قصیدہ  در شان حضرت امام الزماں مسیح موعود ومہدئ دوراں


حضرت حافظ صاحب نے یہ قصیدہ اپنے پیرو مرشدحضرت اقدس بانئ سلسلہ عالیہ احمدیہ کی شان میں رقم فرمایا۔جو حضرت مولاناسید محمد احسن صاحب امروہی کے رسالہ مسک العارف کے آخری حصہ میں شائع ہوا۔بعد ازاں "مدیر الحکم"حضرت یعقوب علی عرفانی نے اسے 27مارچ1898ءکے الحکم میں پانچویں پرچہ کے صفحۂ اول  پر شائع کیا۔
(اس قصیدہ کے پہلے 18اشعار 27مارچ1898ء کے الحکم کے صفحۂاول پر  چھپے ہیں اوربقیہ38اشعار 7اپریل1898ء کے الحکم کے صفحہ 4پر )


اے چشمۂ جودوکرم،بحرفیوضات اتم
عالی ہمم والاحشم،محبوب رب ذوالکرم

اے مصدرِ لطف وعطا، اے معدنِ جودوسخا
اے منبعِ مہرووفا،اے مخزنِ فیضِ اتم

اے حامیِ دینِ متیں،اے خادمِ شرعِ مبین
اے عالمِ علمِ یقیں،اے عاشقِ شاہِ امم

اے چارۂ بیچارگاں ، اے رہنمائے گمرہاں
اے مرہمِ آزارِ جان،اے مظہرِلطف وکرم

اے مظہرِ شان خدا،محبوب خاصانِ خدا
پابندِ فرمانِ خدا،سرتابہ پالطف وکرم

اے ہادئِ باعزوشاں،اے مہدئِ آخر زماں
اے باعثِ آرامِ جاں،اے دافعِ رنج والم

اے موردِ انعامِ حق،اے باعثِ اکرامِ حق
اے مہبطِ الہامِ حق،اے ذی حشم اے محترم

اے مہد ئِ عالی ہمم،اے ہاد ئِ والا حشم
اے عیسٰئِ فرخ شیم، اے راہبر راہِ ارم

اے عشق تُو ایمانِ من، اے الفت تُو جانِ من
اے دردتُو درمانِ من،اکنون بمطلب آمدم

تُو ہے ہمارا پیشوا،تُو ہے ہمارا رہنما
تُو ہے ہمارا مقتدا،اک چاکرِ کمتر ہیں ہم

گورنج وغم سہتے ہیں ہم،مشقِ ستم رہتے ہیں ہم
لیکن یہی کہتے ہیں ہم،تجھ پرفدا ہوجائیں  ہم

ہوتے ہیں ظلم ناروا،لیکن ہمیں پروا ہے کیا
جب تیرے آگے کردیا،ہم نے سرِ تسلیم خم

ہم سب کو ہےاے نیک خُو،تیرے لقا کی آرزو
کرتے ہیں تیری گفتگو،لحظہ بہ لحظہ دمبدم

جو عالمانِ باخدا،رکھتے ہیں علمِ باصفاء
دل تجھ پہ کرتے ہیں فدا،پیتے ہیں دھو دھو کر قدم

باقی ہیں جو ناآشنا،وہ تجھ کو کہتے ہیں برا
تیرے غلام اے پیشوا،کہتے ہیں اُن سے دمبدم

دیکھوتم اے اہلِ ریا،دیکھو تم اے اہلِ جفاء
دیکھو تم اے اہلِ دغا،دیکھو تم اے اہلِ ستم

وہ پہلوان باخدا،وہ شہسوارِباصفاء
تم سب کو ہے للکارتا،آجاؤ سب ہو کربہم

دکھلا کے فرمانِ خدایا قولِ شاہ ِانبیاء
ثابت کرو یہ مسئلہ،اے بانئ جوروستم

یعنی مسیحِ ناصری،اللہ کے پیارے نبی
باایں حیاتِ دنیوی،ہیں ساکنِ چرخِ دوم

بے وجہ اے اہلِ ریا،کرتے ہو تم جوروجفا
کیوں دور تم نے کردیا،خوفِ خدائے اکبرم

ہیں حضرتِ عیسیٰ ؑکہاں،جو واپس آئیں گے یہاں
ہے بے سروپا یہ گماں،خلّاق ِ عالم کی قسم

خالق نے فرمایا نہیں،قرآن میں آیا نہیں
حضرت نے فرمایا نہیں،پھر مان لیں کس طرح ہم

قرآن نے کیا کچھ دور ہے،دیکھے جسےمنظور ہے
جینے کا کچھ مذکور ہےیا فوت ہونا ہے رقم

علامۂ شیخ علی1،لکھیں وفات عیسوی
لیکن نہ مانیں مولوی،تو کیا کریں عاجز ہیں ہم

لوگو کروخالق کا ڈر،پھولو نہ اپنے علم پر
کہتے ہیں کیا اہلِ نظر،دیکھو اسے ہو کر بہم

مالک 2نے فرمایا ہے کیا،کیا ابنِ قیم3 نے لکھا
کیا ہے محمد4 نے کہا،کیا کہتے ہیں ابنِ حزم

فرزندِ5 عمِ مصطفیٰ،ارشاد فرماتے ہیں کیا
دیکھو جسے ہو شک ذرا،کیا ہے بخاری میں رقم

قولِ جنابِ عائشہ،طبرانی میں ہے یوں  لکھا
یعنی مسیحِ باصفا،راہی ہوئے سوئے عدم

ان سب کا ہے یہ قول جب،لازم ہے پھر انکار کب
کیا کرتے ہو لوگو غضب،یہ کرتے ہو تم کیا ستم

باز آؤ ان عادات سے،ناخوش نہ ہو اس بات سے
ثابت ہے 30تیس آیات سے،موتِ مسیح ِ ذی حشم

جب ہے یہ فرمانِ خدا،جب ہے یہ قولِ مصطفیٰ
پھر ماننے میں عذر کیا،کرودوسرِ تسلیم خم

باز آؤظلم و جور سے،کیا فائدہ اس طور سے
دیکھو نگاہ ِغور سے،حالِ غلامِ احمدم

قولِ شہہ جن و بشر، صادق ہیں اس پر سربسر
انصاف سے دیکھو اگر،پاؤ نہ مطلق بیش وکم

شمس وقمر کا واقعہ،تھا جو کہ قول مصطفیٰ
وہ بھی تو پورا ہوگیا،پھر کس طرح مانیں نہ ہم

میدان میں وہ شیرِ نر،تنہا کھڑا ہے بےخطر
آجائے جو خم ٹھونک کر،ہے کون ایسا تازہ دم

عیسائی ہوں یا آریا،یا نیچری یا دہریا
یااور اس کے ماسوا،برہمو ہو ں یا ہندودھرم

المختصرکل اشقیاء،اس کے مقابل آئیں کیا
بے جان سب کو کردیا،حجت نے اس کی یک قلم

وہ حامئ اسلام ہے،اس کا یہی اک کام ہے
مصروف صبح و شام ہے،اس کام میں وہ ذی حشم

وہ عزوجاہ قوم ہے،وہ بادشاہِ قوم ہے
وہ خیر خواہِ قوم ہے،قوم اس پہ کرتی ہے ستم

اے قوم اب بہرِ خدا،تو اپنی ضد سے باز آ
کر اپنی حالت پر ذراتو آپ ہی لطف وکرم

اے امّتِ شاہ ِ عرب،کافر دیا کس کو لقب
یہ کیا کیا تونے غضب،یہ کیا کیا تو نے ستم

وہ مہدئ مسعود ہے،وہ عیسٰئِ موعود ہے
اس کا عدو مردود ہے،نزد خدائے اکبرم

ہاں ہے وہ منظورِ خدا،ہاں ہے وہ مامورِ خدا
ہاں ہے وہ پرنورِ خدا،لاریب سلطان القلم

عالم میں اس کی خوبیاں،ہیں جلوہ گرخورشید ساں
معروف ہے اس کی زباں،مشہور ہے اس کا قلم

کیا لب ہیں کیا تقریر ہے،کیا بات ہے کیا تاثیر ہے
کیا ہاتھ کیا تحریرہے،پُرزور ہے کتنا قلم

اس کے مقابل ذی ادب،کب کھولتے ہیں اپنے لب
جملہ فصیحانِ عرب،خاموش ہیں مثلِ عجم

وہ شاہسوار نامور،مائل اگر ہو جنگ پر
بھاگیں عدوئے بد گہر،ٹھہریں نہ ہر گز ایکدم

ترساں ہیں جمع دشمناں ،لرزاں ہے انبوہ گراں
ہے اسکی کلک دوزباں،گویا کہ شمشیرِ دودم

جو عزتِ دیں اس نے کی،جو عظمتِ دیں اس نے کی
جو خدمتِ دیں اس نے کی،عاجز ہے لکھنے سے قلم

یہ آسمانِ پیر اگر،بے مشعلِ شمس و قمر
چکر لگائے دربدر،گاہے عرب ،گاہے عجم

لیکن اِسے کوئی بشر،اِس کا نظیر آئے نظر
ہے غیر ممکن سربسر،ایمان سے کہتے ہیں ہم

پھر اُس کی توصیف وثنا کیاکرسکے کوئی ادا
اے دل تو اب یہ کر دعا،آمین کہتے جائیں ہم

اے خالق ارض و سماء،اے مالک ِ ہر دوسرا
دے تو انہیں فہم و ذکاء،تا مان لیں اہلِ ستم

آپس کے جھگڑے دور ہوں،مل جل کے سب مسرور ہوں
بغض و حسد مفرور ہوں،مفقود ہوں رنج والم

دجال بد اطور پر،عیسیٰ کو دے فتح و ظفر
خدام کے دل شاد کر،اے ذوالجلال و ذوالکرم

کر ختم اب یہ داستاں،کیا تو ہے کیا تیرا بیاں
مختار روک اپنی زباں،مختار تھام اپنا قلم6

1۔علی بن احمد دیکھو سراج منیر
2۔دیکھو مجمع بحار الانوارجلد اول
3۔مدارج السالکین ملاحظہ کریں
4۔(محمد بن اسماعیل)صحیح بخاری شریف دیکھئے۔کتاب التفسیر
5۔صحیح بخاری شریف زیر آیت
6.منقول از رسالہ مسک العارف صفحہ 62-64 مصنفہ محمد احسن صاحب امروہوی

(حیات حضرت مختار صفحہ 239-245)

حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوری صاحب ؓ