صفحات

کلام طاہر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
کلام طاہر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 4 اپریل، 2016

1۔ ظہورخیرالانبیاء صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم

کلام طاہر ایڈیشن 2004صفحہ1۔3

ظہورخیرالانبیاء صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم


اِک رات مفاسد کی وہ تیرہ و تار آئی
جو نور کی ہر مشعل ظلمات پہ وار آئی

تاریکی پہ تاریکی ، گمراہی پہ گمراہی
ابلیس نے کی اپنے لشکر کی صف آرائی

طوفان ِمفاسد میں غرق ہو گئے بحر وبر
اِیرانی و فارانی ۔ رُومی و بُخارائی

بن بیٹھے خدا بندے ۔ دیکھا نہ مقام اُس کا
طاغوت کے چیلوں نے ہتھیا لیا نام اُس کا

تب عرشِ معلی سے اِک نور کا تخت اُترا
اِک فوج فرشتوں کی ہمراہ سوار آئی

اک ساعتِ نورانی ، خورشید سے روشن تر
پہلو میں لئے جلوے بے حد و شمار آئی

کافور ہوا باطل ، سب ظلم ہوئے زائل
اُس شمس نے دِکھلائی جب شانِ خودآرائی

ابلیس ہوا غارت ، چوپٹ ہوا کام اُس کا
توحید کی یورش نے دَر چھوڑا نہ بام اُس کا

وہ پاک محمدؐ ہے ہم سب کا حبیب آقا
اَنوار ِرسالت ہیں جس کی چمن آرائی

محبوبی و رعنائی کرتی ہیں طواف اُس کا
قدموں پہ نثار اُس کے جمشیدی و دارائی

نبیوں نے سجائی تھی جو بزم مہ و اَنجم
واللہ اُسی کی تھی سب انجمن آرائی

دن رات درُود اُس پر ہر اَدنیٰ غلام اُس کا
پڑھتا ہے بصد منت جپتے ہوئے نام اُس کا

آیا وہ غنی جس کو جو اپنی دُعا پہنچی
ہم در کے فقیروں کے بھی بخت سنوار آئی

ظاہر ہوا وہ جلوہ جب اُس سے نگہ پلٹی
خود حسن نظر اپنا سو چند نکھار آئی

اے چشم خزاں دیدہ کھل کھل کہ سماں بدلا
اے فطرتِ خوابیدہ ! اُٹھ اُٹھ کہ بہار آئی

نبیوں کا اِمام آیا ، اللہ اِمام اُس کا
سب تختوں سے اُونچا ہے تخت عالی مقام اُس کا

اللہ کے آئینہ خانے سے شریعت کی
نکلی وہ دُلہن کر کے جو سولہ سنگار آئی

اُترا وہ خدا کوہ ِفارانِ محمدؐ پر
موسیٰ کو نہ تھی جس کے دیدار کی یارائی

سب یادوں میں بہتر ہے وہ یاد کہ کچھ لمحے
جو اُس کے تصور کے قدموں میں گزار آئی

وہ ماہ تمام اُس کا ، مہدی تھا غلام اُس کا
روتے ہوئے کرتا تھا وہ ذکر مدام اُس کا

مرزائے غلام احمد ، تھی جو بھی متاع جاں
کر بیٹھا نثار اُس پر۔ہو بیٹھا تمام اُس کا

دل اُس کی محبت میں ہر لحظہ تھا رام اُس کا
اِخلاص میں کامل تھا وہ عاشقِ تام اُس کا

اِس دور کا یہ ساقی ، گھر سے تو نہ کچھ لایا
مے خانہ اُسی کا تھا ، مَے اُس کی تھی، جام اُس کا

سازندہ تھا یہ، اس کے۔ سب ساجھی تھے میت اُس کے
دُھن اِس کی تھی، گیت اُس کے۔ لب اِس کے ، پیام اُس کا

اِک میں بھی تو ہوں یاربّ، صیدِتہ دام اُس کا
دل گاتا ہے گن اُس کے لب جپتے ہیں نام اُس کا

آنکھوں کو بھی دکھلا دے ، آنا لب بام اُس کا
کانوں میں بھی رس گھولے ، ہر گام خرام اُس کا

خیرات ہو مجھ کو بھی اک جلوۂ عام اُس کا
پھر یوں ہو کہ ہو دل پر اِلہام کلام اُس کا

اُس بام سے نور اُترے، نغمات میں ڈھل ڈھل کر
نغموں سے اُٹھے خوشبو، ہو جائے سرود عنبر

نوٹ:۔    یہ نعت ١٩٧٦ء میں لکھی گئی تھی۔ بعد میں اس میں بعض اضافوں اور تبدیلیوں کے ساتھ پہلے ١٩٩٣ء کے جلسہ سالانہ انگلستان میں اور پھر جلسہ سالانہ جرمنی میں پڑھی گئی۔


2۔ اے شاہ مکی و مدنی سید الورٰیؐ

کلام طاہر ایڈیشن 2004صفحہ4۔6

اے شاہ مکی و مدنی سید الورٰیؐ


بزبان حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام

اس کی شان ِنزول یہ ہے کہ رؤیا میں ایک شخص کو دیکھا کہ انتہائی درد میں ڈوبی ہوئی لَے کے ساتھ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نعت اس انداز سے پڑھ رہا ہے گویا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سامنے ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے آپ کے حضور حالِ دل پیش کیا جا رہا ہو۔ آپ کا وہ کلام تو اٹھنے پر لفظاً لفظاً میرے ذہن میں نہیں رہا تھا مگر اس کے ٹیپ کا مصرعہ
ع            اے میرے والے مصطفی ؐ
خوب ذہن پر نقش ہو گیا۔ کیونکہ وہ اسے بار بار ایک خاص کیفیت میں ڈوب کر دہراتا تھا۔
پس اسی روز گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نمائندگی میں اس اثر کو  اپنے لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش  کی جو اس نعت کو سنتے ہوئے دل پر نقش ہو گیا ۔ اگرچہ معین الفاظ کی صورت میں نہیں ڈھلا۔ اور کوشش یہی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعتوں میں سے ہی کچھ مضمون اخذ کر کے پیش کیا جائے اور جہاں ممکن ہو آپ ہی کے اشعار زینت کے طور پر جڑ دیئے جائیں۔

اَے شاہ مکی و مدنی ، سید الورٰی
تجھ سا مجھے عزیز نہیں کوئی دوسرا

تیرا غلامِ در ہوں ، ترا ہی اسیر عشق
تو میرا بھی حبیب ہے ، محبوب کبریا

تیرے جلو میں ہی مرا اٹھتا ہے ہر قدم
چلتا ہوں خاکِ پا کو تری چومتا ہوا

تو میرے دل کا نور ہے ، اے جانِ آرزو
روشن تجھی سے آنکھ ہے ، اے نیر ِہدی

ہیں جان و جسم ، سو تری گلیوں پہ ہیں نثار
اولاد ہے ، سو وہ ترے قدموں پہ ہے فدا

تو وہ کہ میرے دل سے جگر تک اتر گیا
میں وہ کہ میرا کوئی نہیں ہے ترے سوا

اے میرے والے مصطفی ، اے سید الوریٰ
اے کاش ہمیں سمجھتے نہ ظالم جدا جدا

رب ِجلیل کی ترا دل جلوہ گاہ ہے
سینہ ترا جمالِ الٰہی کا مستقر

قبلہ بھی تو ہے ، قبلہ نما بھی ترا وجود
شانِ خدا ہے تیری اداؤں میں جلوہ گر

نور و بشر کا فرق مٹاتی ہے تیری ذات
''بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر''

تیرے حضور تہ ہے مرا زانوئے ادب
میں جانتا نہیں ہوں کوئی پیشوا دگر

تیرے وجود کی ہوں میں وہ شاخِ باثمر
جس پر ہر آن رکھتا ہے ربّ الورٰی نظر

ہر لحظہ میرے درپئے آزار ہیں وہ لوگ
جو تجھ سے میرے قرب کی رکھتے نہیں خبر

مجھ سے عناد و بغض و عداوت ہے اُن کا دیں
اُن سے مجھے کلام نہیں لیکن اِس قدر

اے وہ کہ مجھ سے رکھتا ہے پرخاش کا خیال
''اے آں کہ سوئے من بدویدی بصد تبر

از باغباں بترس کہ من شاخ مثمرم
بعد از خدا بعشق محمد مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم''

آزاد تیرا فیض زمانے کی قید سے
برسے ہے شرق و غرب پہ یکساں ترا کرم

تو مشرقی نہ مغربی اے نور ِشش جہات
تیرا وطن عرب ہے ، نہ تیرا وطن عجم

تو نے مجھے خرید لیا اِک نگہ کے ساتھ
اب تو ہی تو ہے تیرے سوا میں ہوں کالعدم

ہر لحظہ بڑھ رہا ہے مرا تجھ سے پیار دیکھ
سانسوں میں بس رہا ہے ترا عشق دم بدم

میری ہر ایک راہ تری سمت ہے رواں
تیرے سوا کسی طرف اٹھتا نہیں قدم

اے کاش مجھ میں قوتِ پرواز ہو تو میں
اڑتا ہوا بڑھوں ، تری جانب سوئے حرم

تیرا ہی فیض ہے کوئی میری عطا نہیں
''ایں چشمہ رواں کہ بخلق خدا دہم

یک قطرہ ز بحر کمال محمد است
جان و دلم فدائے جمال محمد است
خاکم نثار کوچہ آل محمد است"


3۔ صَلّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلِّم

کلام طاہر ایڈیشن 2004صفحہ7۔10

صَلّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلِّم


حضرت سید ولد آدم ، صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم
سب نبیوں میں افضل و اکرم ، صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

نام محمدؐ ، کام مکرم ، صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم
ہادئ کامل ، رہبرِ اعظم ، صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

آپؐ کے جلوہ حسن کے آگے ، شرم سے نوروں والے بھاگے
مہر و ماہ نے توڑ دیا دم ، صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

اِک جلوے میں آناً فاناً بھر دیا عالم ، کر دئیے روشن
اُتر دکھن پورب پچھم ، صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

اول و آخر ، شارع و خاتم
صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

ختم ہوئے جب کل نبیوں کے دور نبوت کے افسانے
بند ہوئے عرفان کے چشمے ، فیض کے ٹوٹ گئے پیمانے

تب آئے وہ ساقی کوثر ، مست مئے عرفان ، پیمبر
پیرِ مغانِ بادۂ اطہر ، مے نوشوں کی عید بنانے

گھر آئیں گھنگور گھٹائیں ، جھوم اُٹھیں مخمور ہوائیں
جھک گیا ابرِ رحمتِ باری ، آبِ حیات نو برسانے

کی سیراب بلندی پستی ، زندہ ہو گئی بستی بستی
بادہ کشوں پر چھا گئی مستی ، اک اک ظرف بھرا برکھا نے

اک برسات کرم کی پیہم
صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

چارہ گروں کے غم کا چارہ ، دُکھیوں کا اِمدادی آیا
راہنما٭بے راہرووں کا ، راہبروں٭ کا ہادی آیا

عارف کو عرفان سکھانے ، متقیوں کو راہ دکھانے
جس کے گیت زبور نے گائے ، وہ سردار منادی آیا

وہ جس کی رحمت کے سائے یکساں ہر عالم پر چھائے
وہ جس کو اللہ نے خود اپنی رحمت کی ردا دی ، آیا

صدیوں کے مردوں کا مُحی ، صَلِّ عَلَیْہِ کَیْفَ یُحْیٖ
موت کے چنگل سے انسان کو دلوانے آزادی آیا

جس کی دعا ہر زخم کا مرہم
صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

شیریں بول ، انفاس مطہر ، نیک خصائل ، پاک شمائل
حاملِ فرقاں ، عالم و عامل ، علم و عمل دونوں میں کامل

جو اُس کی سرکار میں پہنچا ، اُس کی یوں پلٹا دی کایا
جیسے کبھی بھی خام نہیں تھا ، ماں نے جنا تھا گویا کامل

اُس کے فیضِ نگاہ سے وحشی ، بن گئے حلم سکھانے والے
معطی بن گئے شہر ۂ عالم ، اُس عالی دربار کے سائل

نبیوں کا سرتاج ، اَبنائے آدم کا معراج ، محمدؐ
ایک ہی جست میں طے کر ڈالے ، وصلِ خدا کے ہفت مراحل

ربّ ِعظیم کا بندئہ اعظم
صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

وہ اِحسان کا اَفسوں پھونکا ، موہ لیا دل اپنے عدو کا
کب دیکھا تھا پہلے کسی نے ، حسن کا پیکر اس خوبو کا

نخوت کو ایثار میں بدلا ، ہر نفرت کو پیار میں بدلا
                           عاشق جان نثار میں بدلا ، پیاسا تھا جو خار لہو کا

اُس کا ظہور ، ظہور خدا کا ، دکھلایا یوں نور خدا کا
بتکدہ ہائے لات و منات پہ طاری کر دیا عالم ہو کا

توڑ دیا ظلمات کا گھیرا ، دُور کیا ایک ایک اندھیرا
جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِل٭ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقا

گاڑ دیا توحید کا پرچم
صلَّی اللّٰہ علیہ وسلَّم

٭ انہیں الف کی مد کے ساتھ ''رآہ نما'' اور ''رآہ بروں'' پڑھنا ہے۔
٭ شعر میں یہاں وقف کرنا ہے اس لئے بَاطِلٌ کی بجائے بَاطِلْ پڑھا جائے۔