صفحات

بدھ، 12 اکتوبر، 2016

123۔ ہم دیوانوں کی قسمت میں لکھے ہیں یاں قہر بہت

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ45۔46

123۔ ہم دیوانوں کی قسمت میں لکھے ہیں یاں قہر بہت


ہم دیوانوں کی قسمت میں لکھے ہیں یاں قہر بہت
کُوچہ کُوچہ سنگ بہت اور زنداں زنداں زہر بہت

جب تک ہم مانوس نہیں تھےدرد کی ماری دنیا سے
عارض عارض رنگ بہت تھے آنکھوں آنکھوں سحر بہت

ہم تو جہاں والوں کی خاطر جاں سے گزرے جاتے ہیں
پھر یہ ستم کیا ہےکہ ہمیں پر تنگ ہوا ہےدہر بہت

اپنے دیس کے لوگوں کا کچھ حال عجب ہی دیکھا ہے
سوئیں تو طوفان بھی کم اور جاگ اٹھیں تو لہر بہت

رات آئی تو گھر گھر وحشی سایوں کی تقسیم ہوئی
دن نکلا تو جبر کی دُھوپ میں جلتا ہے یہ شہر بہت

ساری عمر تماشا ٹھہری ہجر و وصال کی راہوں کا
جس سے ہم نے پیار کیا ہے وہ نکلا ہے بے مہر بہت

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


124۔ دن گزارو کہ جاں نثار کرو

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ47۔48

124۔ دن گزارو کہ جاں نثار کرو


دل گزارو کہ جاں نثار کرو
دور صدیوں کا یہ غبار کرو

کوئی مذہب نہیں ہے خوشبو کا
عام یہ مُژدۂ بہار کرو

زندگی ایک بار ملتی ہے
دوستو زندگی سے پیار کرو

زُلف کی چھاؤں ہو کہ دار کی دھوپ
زندگہ ہو جہاں قرار کرو

جو ابھی قرض ہیں دل و جاں پر
ان شکستوں کا بھی شمار کرو

رات کہتی ہے سو رہوچُپ چاپ
دل یہ کہتا ہے انتظار کرو

اور کیا ہے تمہارے پاس علیم
تحفۂ شعر نذرِ یار کرو

1962ء

عبید اللہ علیم ؔ


منگل، 11 اکتوبر، 2016

125۔ لہو لہو زنجیر

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ49

125۔ لہو لہو زنجیر


لہو لہو زنجیر

صفحۂ دہر پر کرب کی خونچکاں آیتیں ثبت ہیں
اور میں پڑھ رہا ہوں انھیں
میں پیمبر، نہ میں فلسفی اور نہ میں دیوتا
ان کی تعظیم کرتا ہوں جو زندگی کی امر روشنی کے لیے مر گئے
اور مر جائیں گے
میرے احساس کی آنکھ پتھرا چلی زندہ الفاظ کے ورد میں
اس سے پہلے کہ سارا لہو کھینچ لے
مرگ آثار، سفّاک ،ظالم ہوا
اے خدا ،اے خدا
آمرے دکھ میں کچھ تو بھی حصہ بٹا

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


126۔ کچھ دُکھتے ہوئے خواب کچھ چبھتی یادیں بسائے ہوئے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ50

126۔ کچھ دُکھتے ہوئے خواب کچھ چبھتی یادیں بسائے ہوئے


کچھ دُکھتے ہوئے خواب کچھ چبھتی یادیں بسائے ہوئے
میں ریزہ ریزہ بکھر گیاکوئی دیکھنے والا ہے کہ نہیں

عبید اللہ علیم ؔ


127۔ پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ51۔52

127۔ پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ


پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ
محفلِ وقت تری روحِ رواں ہیں ہم لوگ

دوش پر بارِ شبِ غم لئے گل کے مانند
کون سمجھےکہ محبت کی زباں ہیں ہم لوگ

خوب پایا ہے صلہ تیری پرستاری کا
دیکھ اے صبحِ طرب آج کہا ں ہیں ہم لوگ

اِک متاع دل و جاں پاس تھی سو ہار چکے
ہائے یہ وقت کہ اب خود پہ گراں ہیں ہم لوگ

نکہتِ گل کی طرح ناز سے چلنے والو
ہم بھی کہتے تھے کہ آسودۂ جاں ہیں ہم لوگ

کوئی بتلائے کہ کیسے یہ خبر عام کریں
ڈھونڈتی ہے جسے دنیا وہ نشاں ہیں ہم لوگ

قسمتِ شب زدگاں جاگ ہی جائے گی علیم
جرسِ قافلۂ خوش خبراں ہیں ہم لوگ

1963ء

عبید اللہ علیم ؔ


پیر، 10 اکتوبر، 2016

128۔ صاحبِ مہر و وفا ارض وسماں کیوں چپ ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ53۔54

128۔ صاحبِ مہر و وفا ارض وسماں کیوں چپ ہے


صاحبِ مہر و وفا ارض وسماں کیوں چپ ہے
ہم پہ تو وقت کہ پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے

بے سبب غم میں  سلگنا مری عادت ہی سہی
ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نواں کیوں چپ ہے

پھول تو سہم گئے دستِ کرم سےدمِ صبح
گنگناتی ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے

ختم ہو گا نہ کبھی سلسلۂ اہل  وفا
سوچ اے داورِ مقتل یہ فضا کیوں چپ ہے

مجھ پہ طاری ہے رہِ عشق کی آسودہ تھکن
تجھ پہ کیا گزری مرے چاند بتا کیوں چپ ہے

جاننے والے تو سب جان گئے ہوں گے علیم
ایک مدت سے ترا ذہن رسا کیوں چپ ہے

1961ء

عبید اللہ علیم ؔ


129۔ ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ رندانی ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ55۔56

129۔ ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ رندانی ہے


ہر آواز زمستانی ہے ہر جذبہ رندانی ہے
کوچۂ یار سے دارو رسن تک ایک سی ہی ویرانی ہے

کتنے کوہِ گراں کاٹے تب صبحِ طرب کی دید ہوئی
اور یہ صبحِ طرب بھی یارو کہتے ہیں بیگانی ہے

جتنے آگ کے دریا ہیں سب پار ہمیں کو کرنا ہیں
دنیا کس کے ساتھ آئی ہے دنیا تو دیوانی ہے

لمحہ لمحہ خواب دکھائے اور سو سو تعبیر کرے
لذّت کم آزار  بہت ہے  جس کا نام جوانی ہے

دل کہتا ہے وہ کچھ بھی ہو اس کی یاد جگائے رکھ
عقل یہ کہتی ہے کہ توہم پر جینا  نادانی ہے

تیرے پیار سے پہلے کب تھا دل میں ایسا سوز وگداز
تجھ سے پیار کیا تو ہم نے اپنی قیمت جانی ہے

آپ بھی کیسے شہر میں آکر شاعر کہلائے ہیں علیم
درد جہاں کم یاب بہت ہے نغموں کی ارزانی ہے

1963ء

عبید اللہ علیم ؔ