صفحات

منگل، 7 فروری، 2017

404۔ سرحدِ امتحاں سے گزرتے ہوئے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ590-591

404۔ سرحدِ امتحاں سے گزرتے ہوئے


سرحدِ امتحاں سے گزرتے ہوئے
ہم بھی حاضر ہوئے ڈرتے ڈرتے ہوئے

ہجر کی رُت میں یہ کس کی یاد آ گئی
آپ کیوں رک گئے بات کرتے ہوئے

شرم سے ڈوب کر مر گیا معترض
ہم امَر ہو گئے مرتے مرتے ہوئے

اوجِ قطبین پر بھی ہیں گرمِ سفر
ننگے پاؤں مسافر ٹھٹھرتے ہوئے

سائے انکار کے منجمد ہو گئے
گھٹتے گھٹتے ہوئے بڑھتے بڑھتے ہوئے

آئنہ دیکھنے کی نہ جرأت ہوئی
عمر گزری تھی بنتے سنورتے ہوئے

چاند سورج بھی ہیں دائیں بائیں کھڑے
صبحِ صادق کی تصدیق کرتے ہوئے

کہیں انکار ہی کی سزا تو نہیں
یہ فتنوں پہ فتنے ابھرتے ہوئے

وصل کی رُت میں بھی تم ہو کیوں دم بہ خود
کیوں زباں رک گئی بات کرتے ہوئے

مجھ کو تسلیم ہیں ساری گستاخیاں
شرم آتی ہے مضطرؔ مکرتے ہوئے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


پیر، 6 فروری، 2017

405۔ برائی زمین و زماں میں نہیں ہے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ592-593

405۔ برائی زمین و زماں میں نہیں ہے


برائی زمین و زماں میں نہیں ہے
مکینوں میں ہے یہ مکاں میں نہیں ہے

تجھے دیکھ کر تیرا انکار کر دے
یہ ہمت کسی بدگماں میں نہیں ہے

کوئی وجہِ ترکِ تعلق عزیزو!
مرے آپ کے درمیاں میں نہیں ہے

یہ دھوکا لگا ہے مرے معترض کو
کہ وہ معرضِ امتحاں میں نہیں ہے

اگر آپ آ جائیں واپس تو کیا ہے
جو ربوے میں اور قادیاں میں نہیں ہے

شکاری بڑی دیر سے منتظر ہیں
پرندہ مگر آشیاں میں نہیں ہے

گلی میں تو چرچا ہے اب بھی اسی کا
سنا ہے کہ مالک مکاں میں نہیں ہے

فقط دائیں بائیں کا ہے فرق ورنہ
کوئی فاصلہ درمیاں میں نہیں ہے

فقط شور ہی شور ہے یہ سراسر
اگر سوز آہ و فغاں میں نہیں ہے

یہ دعویٰ ہے دجّال کا اب بھی مضطرؔ
دریچہ کوئی آسماں میں نہیں ہے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


اتوار، 5 فروری، 2017

406۔ حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ594-595

406۔ حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا


حادثہ اندر ہی اندر ہو گیا
وہ ہنسا اور ہنس کے پتھر ہو گیا

بولنا بھی تھا بہت مشکل مگر
اب تو چپ رہنا بھی دوبھر ہو گیا

ریزہ ریزہ ہو گئی تصویر بھی
آئنہ ناراض مل کر ہو گیا

ہم ہوئے بدنام اگر اس کے لیے
تذکرہ اس کا بھی گھر گھر ہو گیا

شہر کی دیوار تو تھی ہی خلاف
سایہ بھی اب حملہ آور ہو گیا

دل پگھل کر بہہ گئے فرقت کی شب
آنکھ کا صحرا سمندر ہو گیا

اس قدر اس نے ستایا خلق کو
سب کو اس کا نام ازبر ہو گیا

دن چڑھے بیمار کو نیند آ گئی
زندگی کا مرحلہ سر ہو گیا

کس لئے حیران ہیں دشمن مرے
معجزہ تھا بارِ دیگر ہو گیا

اب بھی حیرت ہے کہ دِل کا مرحلہ
اس قدر آسان کیونکر ہو گیا

جب سے مضطرؔ کی زباں بندی ہوئی
وہ غزل کہنے کا خوگر ہو گیا

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


ہفتہ، 4 فروری، 2017

407۔ قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ596-598

407۔ قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے


قبلہ رخ ہو کے باوضو بولے
لفظ دُھل جائے جس کو تو بولے

نرم و نازک، حسین، خوشبودار
ایک ہی پھول چارسُو بولے

لِلّٰہِ الْحَمْدْ عہدِ الفت میں
پانچ کے پانچ خوبرو بولے

قدرتِ ثانیہ کا ہر مظہر
عکس در عکس ہو بہ ہو بولے

سلسلہ وار ایک ہی آواز
دشت در دشت کُو بہ کُو بولے

اس کراں تا کراں خموشی میں
کون بولے اگر نہ تو بولے

کون ہے تو کہاں سے آیا ہے
تیرا اندازِ گفتگو بولے

تجھ سے ملنے کے بعد بھی دل میں
تجھ سے ملنے کی آرزو بولے

میرے اندر بھی بولتا ہے تو
میرے باہر بھی تو ہی تو بولے

بولنا بھول جائے دنیا کو
مسکرا کر اگر نہ تو بولے

مسکرا دوں اگر سرِ مقتل
میں نہ بولوں مرا لہو بولے

پھول تو پھول ہے بہر صورت
چپ رہے بھی تو رنگ و بو بولے

قتلِ ناحق سے قتلِ ناحق تک
سارا رستہ لہو لہو بولے

ق

یا سنے حوصلے سے میری بات
یا نہ مجھ سے مرا عدو بولے

بولنے کا جسے بھی دعویٰ ہو
سامنے آئے روبرو بولے

مفت کی بٹ رہی ہے جوتوں میں
جام بولے نہ اب سبو بولے

لُٹ گئی آبرو سرِ اخبار
اب نہ عزّت نہ آبرو بولے

بولنا سیکھ لے اگر مضطرؔ
بھول کر بھی نہ پھر کبھو بولے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


جمعہ، 3 فروری، 2017

408۔ میں پہلے دل کی دیواروں کو دھو لوں

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ599-600

408۔ میں پہلے دل کی دیواروں کو دھو لوں


میں پہلے دل کی دیواروں کو دھو لوں
پھر اس کے بعد ہمت ہو تو بولوں

تقاضا کر رہی ہے تن کی مٹی
کہ اب زیرِ زمیں کچھ دیر سو لوں

میں اکثر دل ہی دل میں سوچتا ہوں
کہ سولی پر بھی بولوں یا نہ بولوں

مسلسل ہو رہی ہے دل پہ دستک
مگر میں ہوں کہ دروازہ نہ کھولوں

میں کیوں شکوہ کروں فرقت کی شب کا
میں کیوں اس انگبیں میں زہر گھولوں

یہ تیری یاد کے آنسو ہیں ان کو
چھپا لوں اور پلکوں میں پِرو لوں

محبت کی زباں آتی ہے مجھ کو
میں سب کہہ دوں مگر منہ سے نہ بولوں

اگر ہو اذن تو فردِ عمل کو
میں چھپ کر آنکھ کے پانی سے دھو لوں

محبت راز ہے اور سوچتا ہوں
کہ میں یہ راز کھولوں یا نہ کھولوں

تمہارے نام کا دامن پکڑ کر
میں سولی پر بھی گھبراؤں نہ ڈولوں

مجھے آتے ہیں آدابِ جنوں بھی
ہنسوں محفل میں تنہائی میں رو لوں

میں اپنی سوچ میں دشتِ وفا کا
کوئی کانٹا کوئی کنکر چبھو لوں

یہ بزمِ یار کی خوشبو ہے مضطرؔ
اسے میں جسم اور جاں میں سمو لوں

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


جمعرات، 2 فروری، 2017

409۔ تو اپنے عہد کا مسند نشیں ہے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ601-602

409۔ تو اپنے عہد کا مسند نشیں ہے


تو اپنے عہد کا مسند نشیں ہے
تو سچّا ہے تو سُچّا ہے حسیں ہے

زمانے میں کہاں تجھ سا حسیں ہے
نہیں، ہرگز نہیں، ہرگز نہیں ہے

جہاں تو ہے مرا دل بھی وہیں ہے
وہیں پر ہے، وہیں پر ہے، وہیں ہے

ترے اجداد اِک دوجے سے بڑھ کر
کہ تو خود بھی یکے از کاملیں ہے

ترے رخ سے اجالا ہے جہاں میں
کہ تو اس عہد کا ماہِ مبیں ہے

ترے ہمراہ ہے سچّی جماعت
کہ تو سچّوں کا آقا ہے امیں ہے

فقط تو قافلہ سالار ہے آج
مرا ایمان ہے، میرا یقیں ہے

بتاؤں کس طرح خلقِ خدا کو
کہ تو اس عہد کا حِصنِ حصیں ہے

تری دہلیز ہے اور میں ہوں پیارے
مرا جینا، مرا مرنا، یہیں ہے

عجب کیا وقت کی رفتار رک جائے
مگر ایسا کبھی ہوتا نہیں ہے

مجھے خطرہ اگر ہے تو اسی سے
تکلّف کا جو مارِ آستیں ہے

یہ مٹّی مجھ کو کھا جائے گی آخر
کہ میں اس کا ہوں یہ میری نہیں ہے

تو اس کے پاؤں کی ہے خاک مضطرؔ
بچھڑ کر جس سے دنیا ہے نہ دیں ہے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


بدھ، 1 فروری، 2017

410۔ جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ603-604

410۔ جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے


جہاں پر قادیاں رکھا ہوا ہے
''زمیں پر آسماں رکّھا ہوا ہے''

کہیں کون و مکاں رکّھے ہوئے ہیں
کہیں پر لا مکاں رکّھا ہوا ہے

محبت کا، اطاعت کا، وفا کا
سروں پر سائباں رکّھا ہوا ہے

بہت آسان ہے ان سے ملاقات
مگر اک امتحاں رکّھا ہوا ہے

وہ دل کو مسکرا کر لے گئے تھے
خدا جانے کہاں رکّھا ہوا ہے

کروڑوں چاہنے والے ہیں اس کے
مگر اک بدگماں رکّھا ہوا ہے

تمہارے اپنے جھگڑے ہیں عزیزو!
ہمیں کیوں درمیاں رکّھا ہوا ہے

ترا احسان ہے پیارے کہ مجھ کو
بڑھاپے میں جواں رکّھا ہوا ہے

پرندے جا چکے کب کے شجر سے
مگر اک آشیاں رکّھا ہوا ہے

یہ آدھی رات کا آنسو ہے، تم نے
اسے کیوں بے زباں رکّھا ہوا ہے

زہے قسمت اسیروں، بےکسوں کا
کوئی تو ترجماں رکّھا ہوا ہے

مکیں تو جا چکے ہیں کب کے مضطرؔ
مگر خالی مکاں رکّھا ہوا ہے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی