صفحات

جمعہ، 1 جنوری، 2016

43۔ہجومِ مشکلات سے نجات حاصل کرنے کا طریق

ہجومِ مشکلات سے نجات حاصل کرنے کا طریق

ذیل میں جو نظم درج کی جاتی ہےیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک صاحب شیخ محمد بخش رئیس کڑیانوالہ ضلع گجرات کو لکھ کر عطا فرمائی تھی جبکہ وہ سخت مالی مشکلات میں مبتلا تھے۔خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعا کے طفیل ان کی تکالیف دور کردیں۔

اِک نہ اِک دن پیش ہو گا تُو فنا کے سامنے
چل نہیں سکتی کسی کی کچھ قضا کے سامنے

چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایک دن
ہر کوئی مجبور ہے حکمِ خدا کے سامنے

مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا
رنج و غم یاس و اَلَم فکر و بلا کے سامنے

بارگاہِ ایزدی سے تُو نہ یوں مایوس ہو
مشکلیں کیا چیز ہیں مشکِل کشا کے سامنے

حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر
کر بیاں سب حاجتیں حاجَت روا کے سامنے

چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقشِ دُوئی
سر جھکا بس مالِکِ ارض و سما کے سامنے

چاہئے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار
ایک دن جانا ہے تجھ کو بھی خدا کے سامنے

راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے بھلا
قدر کیا پتھر کی لعلِ بے بہا کے سامنے

اخبار الفضل   13جنوری 1928ء

44۔متفرق اشعار

متفرق اشعار

نہیں محصور ہر گز راستہ قدرت نمائی کا
خدا کی قدرتوں کا حصر دعوٰی ہے خدائی کا

براہین احمدیہ حصہ چہارم  صفحہ401مطبوعہ 1884ء


قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت
اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے

جس بات کو کہے کہ کروں گا یہ میں ضرور
ٹلتی نہیں وہ بات خدائی یہی تو ہے

اعلان مطبوعہ ریاض ہند امرتسر 22مارچ  1886ء


جس نے پیدا کیا وہی جانے
دوسرا کیونکر اُس کو پہچانے

غیر کو غیر کی خبر کیا ہو
نظَر دور کارگر کیا ہو

سرمہ چشم آریہ  صفحہ184مطبوعہ 1886ء


جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہو گیا
آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا

شکر للہ مل گیا ہم کو وہ لعلِ بے بَدَل
کیا ہوا گر قوم کا دل سنگ خارا ہو گیا

ہم نے اُلفت میں تری بار اُٹھایا کیا کیا
تجھ کو دکھلا کے فلک نے ہے دکھایا کیا کیا

ازالہء اوہام   حصہ دوم صفحہ665مطبوعہ 1891ء


پیش گوئی کا جب انجام ہوَیدا ہو گا!
قُدرتِ حق کا عجب ایک تماشا ہو گا

جھوٹ اور سچ میں جو ہے فرق وہ پیدا ہو گا
کوئی پا جائے گا عزت کوئی رسوا ہو گا

آئینہ کمالات اسلام  صفحہ281مطبوعہ 1893ء


لوگوں کے بغضوں سے اور کینوں سے کیا ہوتا ہے
جس کا کوئی بھی نہیں اُس کا خدا ہوتا ہے

بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت
اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جُدا ہوتا ہے

حاشیہ اشتہار مع معیار الاخیاروالاشرارمطبوعہ17مارچ 1894ء


جس کی تعلیم یہ خیانت ہے
ایسے دیں پر ہزار لعنت ہے

آریہ دھرم صفحہ45مطبوعہ 1895ء


دوستو اِک نظر خدا کے لئے
سیّد الخَلق مصطفیؐ کے لئے

اشتہار مستیقنًا لوحی اللہ القھار14جنوری 1897ء


کوئی جو مُردوں کے عالم میں جاوے
وہ خود ہو مُردہ تب وہ راہ پاوے

کہو زندوں کا مُردوں سے ہے کیا جوڑ
یہ کیونکر ہو کوئی ہم کو بتاوے

ایام الصلح  صفحہ143مطبوعہ 1899ء


مر گیا بد بخت اپنے دار سے
کٹ گیا سر اپنی ہی تلوار سے

کھل گئی ساری حقیقت سَیف کی
کم کرو اب ناز اِس مردار سے

نزول المسیح  صفحہ224مطبوعہ 1909ء


کیسے کافِر ہیں مانتے ہی نہیں
ہم نے سَو سَو طرح سے سمجھایا

اِس غرض سے کہ زندہ یہ ہوویں
ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا

بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے
آؤ بُلبل چلیں کہ وقت آیا

رسالہ تشحیذ الاذہان ماہ دسمبر 1909ء


جب سے اے یار تجھے یار بنایا ہم نے
ہر نئے روز نیا نام رکھایا ہم نے

کیوں کوئی خَلق کے طعنوں کی ہمیں دے دھمکی
یہ تو سب نقش دل اپنے سے مٹایا ہم نے

از مسودات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام


اگر وہ جاں کو طلب کرتے ہیں تو جاں ہی سہی
بلا سے کچھ تو نپٹ جائے فیصلہ دِل کا

اگر ہزار بلا ہو تو دِل نہیں ڈرتا
ذرا تو دیکھئے کیسا ہے حوصلہ دِل کا

اخبار الفضل 31دسمبر 1913ء


وقت تھا وقتِ مسیحا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اَور ہی آیا ہوتا


از مسودات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام

45۔الہامی اشعار

الہامی اشعار

کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اِس مسیح کے
جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا

حاذِق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب
خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا

قادِر کے کاروبار نمودار ہو گئے
کافِر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو گئے

کافر جو کہتے تھے وہ نگوں سار ہو گئے
جتنے تھے سب کے سب ہی گرفتار ہو گئے

ضمیمہ تحفہ گولڑویہ حاشیہ صفحہ 27مطبوعہ 1902ء

دُشمن کا بھی خوب وار نکلا
تِس پر بھی وہ آر پار نکلا

 الحکم 30اکتوبر 1902ء

قادر ہے وہ بارگہ۔ ٹُوٹا کام بناوے
بنا بنایا توڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے

اخبار بدر 22نومبر 1906ء

بر تر گمان و وہم سے احمد کی شان ہے
اس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے

حقیقۃ الوحی صفحہ 274کا حاشیہ مطبوعہ 1907ء

کروں گا دُور اُس ماہ سے اندھیرا
دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا

تذکرہ صفحہ 427

چل رہی ہے نسیم رحمت کی
جو دعا کیجئے قبول ہے آج

تذکرہ صفحہ 206

46۔الہامی مصرعے

الہامی مصرعے

ہے سر راہ پر تمھارے وہ جو ہے مولیٰ کریم

اخبار بدر 20اپریل 1905ء

پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی

اخبار بدر11مئی 1905ء

کشَتیاں چلتی ہیں تا ہوں کُشتیاں

اخبار بدر 17مئی 1906ء

پھر بہار آئی تو آئے ثلج کے آنے کے دن

اخبار بدر 10مئی 1906ء

پاک محمد مصطفٰے نبیوں کا سردار

براہین احمدیہ چہار حصص صفحہ 522

جے توں میرا ہو رہیں سب جگ تیرا ہو

اخبار بدر 25اپریل 1908ء

شعق الہٰی وسے منہ پر ولیاں ایہہ نشانی

اخبار بدر 08مئی 1903ء

جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے

اخبار بدر 16اپریل 1904ء

پر خدا کا رحم ہےکوئی بھی اس سےڈرا نہیں

اخبار بدر 11مئی 1905ء

اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے

اخبار الحکم 31اگست 1901ء

بڑھیں گےجیسے باغوں میں ہوں شمشاد

مطبوعہ 1901ءمنقول از بشیر احمد،شریف احمد اور مبارکہ کی آمین

چمک دکھلاؤں گا تم کو اس نشاں کی پنج بار

تجلیات الہیہ صفحہ 1حقیقۃ الوحی صفحہ 93حاشیہ

زار بھی ہو گا تو ہوگا س گھڑی با حال زار


براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ 120ء

قطعہ تاریخ براہین احمدیہ

قطعہ تاریخ براہین احمدیہ

کیا خوب ہے یہ کتاب سبحان اللہ
اک دم میں کرے ہے دین حق سے آگاہ

ازبس کہ یہ مغفرت کی بتلاتی ہے راہ
تاریخ بھی یا غفور 1297نکلی واہ واہ
ٹائیٹل پیج براہین احمدیہ

آنحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کےاشعار

آنحضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کےاشعار
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَفِرَّ إِنَّ هَوَازِنَ كَانُوا قَوْمًا رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا لَقِينَاهُمْ حَمَلْنَا عَلَيْهِمْ فَانْهَزَمُوا فَأَقْبَلَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى الْغَنَائِمِ وَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفِرَّ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ وَإِنَّهُ لَعَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
 أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ         أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
(صحيح البخاري, کتاب المغازی باب غزوةحنین)
ابواسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص نےحضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما  سے کہا کہ حنین کے دن تم لوگ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و سلم  کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔آپ نے کہا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (میدان چھوڑ کر) نہیں بھاگے۔ہوازن والے زبردست تیر اندز لوگ تھے۔ جب ہماری ان سے مٹھ بھیڑ ہوئی اور  ہم نے ان پر حملہ کیا اور ان کو شکست ہوئی تو مسلمان غنیمتوں پر ٹوٹ پڑے۔پھر انھوں نے تیروں سے ہمارا استقبال کیا۔تب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میدان نہیں چھوڑا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے سفید خچر پر سوار ہیں اور أبو سفیان رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام تھام رکھی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ شعر پڑھا ۔
أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ          أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ
میں موعودنبی ہوں،اس میں  جھوٹ نہیں  ۔میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔


عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ سَمِعْتُ جُنْدَبًا يَقُولُ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ أَصَابَهُ حَجَرٌ فَعَثَرَ فَدَمِيَتْ إِصْبَعُهُ فَقَالَ
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ          وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ
(صحيح البخاري, كتاب الأدب، باب ما یجوزمن الشعر والرجز والحداء وما یکرە منە)
اسود بن قیس روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جندبؓ کوبیان کرتے سنا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و سلم جارہے تھے تو آپ  صلی اللہ علیہ و سلم کو ایک پتھر لگااور آپ زخمی ہوگئے ۔انگلی سے خون بہ نکلا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے انگلی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا-
هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبَعٌ دَمِيتِ          وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ

اے انگلی ! تو صرف ایک انگلی ہی تو ہے جو زخمی ہوئی ہےتو کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں یہ تکلیف تجھے پہنچی ہے۔

القرآن ۔ الشعراء 225-228

تبرکات - القرآن
وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ ۝ أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ ۝ وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ ۝ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ۝
اور رہے شعراء تو محض بھٹکے ہوئے ہى اُن کى پىروى کرتے ہىں  ۞ کىا تو نے نہىں دىکھا کہ وہ ہر وادى مىں سرگرداں رہتے ہىں  ۞ اور ىقىناً وہ کہتے وہ ہىں جو کرتے نہىں  ۞   سوائے اُن کے جو (اُن مىں سے) اىمان لائے اور نىک اعمال بجا لائے اور کثرت سے اللہ کو ىاد کىا اور ظلم کا نشانہ بننے کے بعد اس کا بدلہ لىا اور وہ جنہوں نے ظلم کىا عنقرىب جان لىں گے کہ وہ کس لَوٹنے کے مقام پر لَوٹ جائىں گے ۔
 (الشعراء 225-228)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ان آیات کی تفسیر میں  فرماتے ہیں کہ
"پھر فرماتاہے  إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۔ہاں ان شاعر وں کو ہم مستثنٰی کرتے ہیں جومومن ہیں اورمناسب حال عمل کرتے ہیں ۔وہ اگرشعر کہتے ہیں توان کاشعرحقیقت پرمبنی ہوتاہے اوروہ وہی شعر کہتے ہیں جو عملی زندگی میں ان کے اندرپایاجاتاہے ۔اس کی مثال کے طورپر ہم حضرت حسان بن ثابتؓ کے وہ اشعار پیش کرتے ہیں جو انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پرکہے ۔جب انہیں معلوم ہواکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں توانہوں نے اپنے درد اورکرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ
کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِیْ فَعَمِیَ عَلَیَّ النَّاظِر
مَنْ شَآءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ اُحَاذِر
یعنی اے محمد رسول اللہؐ! تُو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا آج تیرے مرنے سے میری آنکھیں اندھی ہوگئیں ۔ا ب خواہ کو ئی مرے ۔میراباپ مرے ۔میری ماں مرے۔بیوی مرے ۔بھائی مرے۔بیٹامرے۔مجھے ان میں سے کسی کی موت کی پرواہ نہیں مَیں تو تیری موت سے ہی ڈراکرتاتھا ۔حضر ت حسان بن ثابتؓ جنہوں نے یہ شعرکہے ۔وہ خو د بھی نیک تھے اور ان کے یہ اشعار بھی حقیقت پر مبنی تھے ۔پس یقینا ایسے لوگ پہلے گروہ میں شامل نہیں۔
پھر فرمایا ۔ان کی عادت میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کثرت سے ذکرکرتے ہیں ۔اورغیر مومن شاعر وں کی طرح صرف منہ سے یہ نہیں کہتے رہتے کہ ہم اپنے محبوب کے لئے یہ قربانیاں کریں گے بلکہ جب دین کے بار ہ میں ان پر ظلم کیاجاتاہے تووہ عملاً اس کا بدلہ لیتے ہیں اورثابت کردیتے ہیں کہ جس فدائیت کا انہوں نے اپنے شعروں میں ذکر کیاتھا عملاً بھی وہ فدائیت ان کے اند ر پائی جاتی ہے۔مگراس کے ساتھ ہی ان کایہ رویہ نہیں ہوتاکہ وہ اپنے مخالف پر ظلم کریں بلکہ وہ ہمیشہ ظلم کے بعد بدلہ لیتے ہیں اورکسی دوسرے پر ظلم نہیں کرتے "
(تفسیر کبیرجلد 7 صفحہ 304-305)