صفحات

بدھ، 2 مارچ، 2016

125۔ یَارَازِقَ الثَّقَلَینِ اَینَ جَنَاکَ

کلام محمود صفحہ186۔187

125۔ یَارَازِقَ الثَّقَلَینِ اَینَ جَنَاکَ


یَارَازِقَ الثَّقَلَینِ اَینَ جَنَاکَ
جِئنَاکَ رَاجِینَ لِبَعضِ نَدَاکَ
اے جنّ و انس کے رازق تیرا پھل کہاں ہے۔ہم تیری بخشش سے کچھ حصہ لینے کے امیدوار بن کر تیرے پاس آئےہیں۔
نَشْکُرُ اَمَامَ النَّاسِ غَصَّ جَفَاکَ
وَالْحَقُّ لَیْسَ وَفَاءُنَا کَوَفَاکَ
ہم لوگوں کے سامنے تیری جفا کا شکوہ توکرتے ہیں مگر یہ بات ہے کہ ہماری  وفا تیری وفا جیسی نہیں ہے۔
کُنْتَ تَنَحِّیْ عَنْہُ کُلَّ تَنْحِیّ
یَا قَلْبِیَ الْمَجْرُوْحَ کَیْفَ رَمَاکَ
اے میرے زخمی دل!تُو تو اس سے بہت کنارہ کش رہتا تھا۔اب جو تو اُس کی محبت کا شکار ہوگیا ہے تُو یہ تیر اس نے تجھ پر کیسے چلایا۔
لَمَّا یَئِسْتُ وَ قُلْتُ اَیْنَ نَجَاتِیْ
قَالَتْ عِنَایَتُہٗ ھِنَاکَ ھِنَاکَ
جب میں مایوس ہوگیااور کہا کہ میری نجات کہاں گئی؟تو اللہ تعالےٰ کی عنایت نے کہایہاں یہاں میرے پاس۔
یَا ھَادِیَ الْاَرْوَاحِ کَاشِفَ ھَمِّھَا
جِئْنَا بِبَابِکَ طَالِبِیْنَ ھُدَاکَ
اے روحوں کے ہادی اور اُن کے غم کو دور کرنے والے ۔ہم تیری رہنمائی کے طلب گار بن کر تیرے پاس آئے ہیں۔

یَا اَیُّھَا الْمَنَّانُ مُنُّ بِرَحْمَۃٍ
وَارْزُقْ قُلُوْبَ عِبَادِکَ تَقوٰکَ
اے منّان  اپنی رحمت اور اپنے فضل سے احسان کر اور اپنے بندوں کے دلوں کو تقوٰی عطا کر۔

اَحْیَیْتَ نَفْسِیْ بِابْتِسَامٍ وَ نَظْرَۃٍ
غَطَّتْ وُجُوْدِیْ کُلَّہٗ نَعْمَاکَ
تُو نے ایک مسکراہٹ اور نظرِ محبت کے ساتھ مجھے زندہ کر دیااور تیری نعمتوں نے میرے سراپا کو ڈھانک لیا۔

مَنْ یُّخْجِلُ الْوَرْدَ الطَّرِیَّ بِلَوْنِہٖ
عَیْنَايَ دَامِیَتَانِ اَوْ خَدَّاکَ
اپنے سرخ رنگ سے تروتازہ گلِ گلاب کو کون شرما رہا ہے،میری دونوں خونبار آنکھیں یا تیرے سرخ رخسار۔

مِنْکَ السُّکُوْنُ وَ کُلَّ رَوْحٍ وَ رَوَاحَۃٍ
مَنْ ذَالَّذِیْ لَا یَبْتَغِیْ لُقْیَاکَ
سکون اور ہر قسم کا آرام اور راحت تجھی سے (ملتا)ہے(توپھر)وہ کون ہے جو تیرے دیدار کا طالب نہ ہو۔

یَا مَنْ تَخَافُ عَدُوَّکَ مُتَزَحْزِھًا
عِنْدَ الْمَلِیْکِ الْمُقْتَدِرِ مَثْوَاکَ
اے وہ شخص جو دشمن سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔تجھے ڈرنے کی کیا وجہ ہے،تو خدائے ملیک و مقتدر کے پاس بیٹھا ہے۔

عَطِشَتْ قُلُوْبُ الْعَاشِقِیْنَ لِرَاحِکَ
فَأَدْرِ کُؤُسَکَ وَاسْقِ مِنْ سُقْیَاکَ
عاشقوں کے دل تیری شراب کے لیے تڑپ رہے ہیں۔پس تو ان کی مجلس میں اپنے پیالوں کا دور چلا اور شراب ِمحبت کی تقسیم سے ان کو حصہ دے۔

اخبار الفضل جلد 2 ۔ 5جنوری 1948ء۔ لاہور پاکستان

126۔ شاخ طوبیٰ پہ آشیانہ بنا

کلام محمود صفحہ188۔189

126۔ شاخ طوبیٰ پہ آشیانہ بنا


شاخ طوبیٰ پہ آشیانہ بنا
تا ابد جو رہے فسانہ بنا

عرش بھی جس سے مرتعش ہوجائے
سوزش دل سے وہ ترانہ بنا

فلسفی! زندگی سے کیا پایا؟
حیف ہے گر ترا خدا نہ بنا

لذت وصل ہی میں سب کچھ ہے
اس سے ملنے کا کچھ بہانہ بنا

چھوڑنا ہے جو نقش عالم پر!
کس کمر عزم ِمُقبلانہ بنا

وہ تو بے پردہ ہوگئے تھے مگر
حیف یہ دل ہی آئنہ نہ بنا

دل کو لے کر میں کیا کروں پیارے
تو اگر میرا دلربا نہ بنا

خاک کردے ملادے مٹی میں
پر مرے دل کو بے وفا نہ بنا

گر کے قدموں پہ ہوگیا میں ڈھیر
وقت پر خوب ہی بہانہ بنا

چال عشاق کی چلوں میں بھی
تو بھی انداز دلبرانہ بنا

نعمت وصل بے سوال ہی دے
اپنے عاشق کو بے حیا نہ بنا

جو بھی دینا ہے آپ ہی دیدے
مجھ کو اغیار کاگدا نہ بنا

تجھ سے مل کر نہ غیر کو دیکھوں
غیر کا مجھ کو مبتلانہ بنا

جس کے نیچے ہوں سب جمع عشاق
اپنی رحمت کا شامیانہ بنا

بخششِ حق نے پالیا مجھ کو
کیا ہوا میں اگر بھلا نہ بنا

مجھ سے لاکھوں ہیں تیری دنیا میں
تجھ سا پر کوئی دوسرا نہ بنا

تیری صنعت پہ حرف آتا ہے
توڑدے پر مجھے برا نہ بنا

دل و دلبر میں چھیڑ جاری ہے
ہے یہ اک طرفہ شاخسانہ بنا

دیکھ کر آدمی میں دانہ کی حرص
آج ابلیس خود ہے دانہ بنا

اخبار الفضل جلد 2۔23اپریل 1948ء۔ لاہور پاکستان

منگل، 1 مارچ، 2016

127۔ بٹھا نہ مسند پہ پاس اپنے نہ دے جگہ اپنی انجمن میں

کلام محمود صفحہ190

127۔ بٹھا نہ مسند پہ پاس  اپنے نہ دے جگہ اپنی انجمن میں


بٹھا نہ مسند پہ پاس  اپنے نہ دے جگہ اپنی انجمن میں
یہ میرا دل تو مرا ہی دل ہے اسے تو رہنے دو میرے تن میں

نہ ہو میسر جو حریت تو ہے بے وطن آدمی بے وطن میں
قفس قفس ہی رہیگا پھر بھی ہزار رکھو اسے چمن میں

جو دل سلامت رہے تو عالم کا ذرہ ذرہ ہے مسکراتا
ہزار انجم نظر میں آتے ہزار پیوند پیرہن میں

جسے نوازے خدا کی رحمت اسی میں سب خوبیاں ہوں پیدا
غزال لاکھوں ہیں اور بھی تو ہے بات کیا آہوئے خُتَن میں

ہوا جو مکہ میں نور پیدا اسی کو مکہ نے دور پھینکا
کبھی ملی ہے نبی کو عزت بتا تو اے معترض وطن میں

ہیں رنگ رلیاں منا رہے لوگ ساغر مے چھلک رہے ہیں
وہ لطف انکو کہاں میسر ملا جو مجھ کو تری لگن میں

تری محبت ہے میرے دل میں مری محبت ہے تیرے دل میں
زبان میری ترے تصرف میں بات تیری مرے دہن میں

مقابلہ دینِ  مصطفیؐ کا یہ دیگر ادیان کیا کریں گے
ہیں مردہ نبیوں کے مردہ مذہب لپیٹ رکھوں انہیں کفن میں

نظر بظاہر ہے عاشقوں اور مالداروں کا حال یکساں
وہ مست رہتے ہیں اپنی دھن میں  یہ مست رہتے ہیں اپنے دھن میں

ہزاروں کلیاں چٹک رہی ہیں ہزاروں غنچے مہک رہے ہیں
نسیم رحمت کی چل رہی ہے چمن چمن میں چمن چمن میں

اخبار الفضل جلد 2 ۔ 28اپریل 1948ء۔ لاہور پاکستان

128۔ نگاہوں نے تری مجھ پر کیا ایسا فسوں ساقی

کلام محمود صفحہ191

128۔ نگاہوں نے تری مجھ پر کیا ایسا فسوں ساقی


یہ غزل جو درحقیقیت پندرہ سولہ سال پہلے لکھی گئی تھی مگر کہیں گم ہو گئی۔
اب یاد سے کام لے کر کچھ نئے شعر کہہ کر مکمل ہوئی ہے۔       (مرزا محمود احمد)

نگاہوں نے تری مجھ پر کیا ایسا فسوں ساقی
کہ دل میں جوش وحشت ہے تو سر میں ہے جنوں ساقی

جیوں  تو تیری خوشنودی کی خاطر ہی جیوں ساقی
مروں تو تیرے دروازے کے آگے ہی مروں ساقی

پلائے تو اگر مجھ کو تو میں اتنی پیوں ساقی
رہوں تا حشر قدموں پر ترے میں سر نگوں ساقی

تری دنیا میں فرزا نے بہت سے پائے جاتے ہیں
مجھے تو بخش دے اپنی محبت کا جنوں ساقی

سوا اک تیرے میخانے کے سب مے خانے خالی ہیں
پلائے گر نہ تو مجھ کو تو پھر میں کیا کروں ساقی

تجھے معلوم ہے کہ جو کچھ مرے دل کی تمنا ہے
مرا ہر ذرہ گویا ہے زباں سے کیا کہوں ساقی

وہ کیا صورت ہے جس سے میں نگاہ ِلطف کو پاؤں
چھوؤں دامن کو تیرے یاترے پاؤں پڑوں ساقی

مجھے قیدِ محبت لاکھ آزادی سے اچھی ہے
کچھ ایسا کر کہ پابند سلاسل ہی رہوں ساقی

ترے در کی گدائی سے بڑا ہے کونسا درجہ
مجھے گر بادشاہت بھی ملے تو میں نہ لوں ساقی

فدا ہوتے ہیں پروانے اگر شمع ِمنور پر
تو تیرے روئے روشن پر نہ میں کیوں جان دوں ساقی

نہ صورت امن کی مسجد میں پیدا ہے نہ مندر میں
زمانہ میں یہ کیسا ہو رہا ہے کشت و خوں ساقی

شھیدان محبت سے ہی میخانے کی رونق ہے
چھلکتا ہے  ترے پیمانہ میں ان کا ہی خون ساقی

اخبار الفضل جلد 2 ۔ 5مئی 1948ء۔ لاہور پاکستان

129۔ مرادیں لوٹ لیں دیوانگی نے

کلام محمود صفحہ192-193

129۔ مرادیں لوٹ لیں دیوانگی نے


مرادیں لوٹ لیں دیوانگی نے
نہ دیکھی کامیابی آگہی نے

مری جانب یونہی دیکھا کسی نے
نظر آنے لگے ہرجا دفینے

مزاجِ یار کو برہم کیا ہے
مری الفت ،مری دلبستگی نے

زمین وآسماں کی بادشاہت
عطا کی مجھ کو تیری بندگی نے

جدائی کا خیال آیا جو دل میں
لگے آنے پسینوں پر پسینے

کنارہ آہی جائے گا کبھی تو
چلائے جارہےہیں ہم سفینے

اسی کےدرپہ اب دھونی رمادوں
کیا ہےفیصلہ یہ میرے جی نے

جو میرا تھا اب اس کا ہوگیا ہے
مرے دل سے کِیا یہ کیا کسی نے

جدائی میں تری تڑپا ہوں برسوں
یونہی گزرے ہیں ہفتے اور مہینے

وہ مہ رخ آگیا خود پاس میرے
لگائے چاند مجھ کو بے بسی نے

وہ آنکھیں  جو ہوئیں الفت میں بے نور
بنیں وہ اُس کی الفت کے نگینے

اُسی کا فضل ڈھانپے گا مرا ستر
نہ کام آئیں گے پشمینے مرینے

پرستاران زر یہ تو بتاؤ
غریبوں کو بھی پوچھا ہے کسی نے؟

کنوئیں جھانکا کیا ہوں عمر بھر میں
ڈبویا مجھ کو دل کی دوستی نے

انھیں ٹوٹا ہی سمجھو ہر گھڑی تم
وہ دل جو بن رہے ہیں آبگینے

خدا را اس کو رہنے دیں سلامت
یہ دل مجھ کو دیا تھا آپ ہی نے

علامت کفر کی ہے تنگئی نفس
مگر اسلام سے کھلتے ہیں سینے

وہی ہیں غوطہ خور بحر ہستی
دُرَر سے ہیں بھرے جن کے سفینے

مہاجر بننے والو یہ بھی سوچا
کہ پیچھے چھوڑے جاتے  ہو مدینے

اخبار الفضل جلد 2 ۔ 12مئی  1948ء۔ لاہور پاکستان

130۔ عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی

کلام محمود صفحہ194

130۔ عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی


عشق و وفا کی راہ دکھایا کرے کوئی
رازِ وصال ِیار بتایا کرے کوئی

آنکھوں میں نور بن کے سمایا کرے کوئی
میرے دل و دماغ پہ چھایا کرے کوئی

سالوں تک اپنا منہ نہ دکھایا کرے کوئی
یوں تو نہ اپنے دل سے بھلایا کرے کوئی

دنیا کو کیا غرض کہ سنے داستانِ عشق
یہ قصہ اپنے دل کوسنایاکرے کوئی

میں اس کے ناز روز اٹھاتا ہوں جان پر
میرے کبھی تو ناز اٹھا یا کرے کوئی

چہرہ مرے حبیب کا ہے مہر ِنیم روز
اس آفتاب کو نہ چھپایا کرے کوئی

ہے دعوتِ نظر تری طرزِحجاب میں
ڈھونڈاکرے کوئی تجھے پایا کرے کوئی

محفل میں قصے عشق کے ہوتے ہیں صبح و شام
حُسن اپنی بات بھی تو سنایا کرے کوئی

پیدائشِ جہاں کی غرض بس یہی تو ہے
بگڑا کرے کوئی تو بنایا کرے کوئی

اخبار الفضل جلد 2 ۔ 23مئی 1948ء۔ لاہور پاکستان

131۔ مردوں کی طرح باہر نکلو اور نازوادا کو جانےدو

کلام محمود صفحہ195

131۔ مردوں کی طرح باہر نکلو اور نازوادا کو جانےدو


اترسوں خواب میں دیکھا کہ کوئی شخص ہے اور وہ میری ایک نظم خوش الحانی سے بلند آواز میں پڑھ رہا ہے۔آنکھ کھلی تو شعر تو کوئی یاد نہ رہا مگر وزن اورقافیہ ردیف خوب اچھی طرح یادرہے۔اسی وقت ایک مصرع بنایا کہ وزن ردیف یاد رہ جائیں۔صبح اس پر غزل کہی جو چھپنے کے لیےارسال ہے۔  (مرزا محمود احمد)

مردوں کی طرح باہر نکلو اور نازوادا کو جانےدو
سل رکھ لو اپنے سینوں پر اور آہ وبکا کو رہنے دو

اب تیر نظر کو پھینک کے تم اک خنجر ِ آہن ہاتھ میں لو
یہ فولادی پنجوں کے ہیں دن اب دستِ حنا کو رہنے دو

کیا جنگوں سے مومن کو ہےڈروہ موت سے کھیلا کرتا ہے
تم اس کے سر کرنے کے لیے میدانِ وغا کو رہنے دو

ایام ِطرب میں ساتھ رہےجب غم آیا تو بھاگ اٹھے
ہے دیکھی ہوئی اپنی یہ وفا تم اپنی وفا کو رہنے دو

مسلم جو خدا کا بندہ تھا افسوس کہ اب یوں کہتا ہے
اسباب کرو کوئی پیدا جبریل وخدا کو رہنے دو

خود کام کو چوپٹ کرکے تم اللہ کے سر منڈھ دیتے ہو
تم اپنے کاموں کو دیکھو اور اس کی قضاء کو رہنے دو

جو اس کے پیچھے چلتے ہیں ہرقسم کی عزت پاتے ہیں
لگ جاؤ اسی کی طاعت میں چون وچراکو رہنے دو

وہ اس کی تیکھی چَتون میں جنت کا نظارہ دیکھتا ہے
اس جوروجفا کے واسطے تم پابندِوفا کو رہنے دو

اخبار الفضل جلد 2 ۔ 3جون 1948ء۔ لاہور پاکستان