صفحات

پیر، 3 اکتوبر، 2016

151۔ نیند آنکھوں سے اڑی پھول سے خوشبو کی طرح

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ97۔98

151۔ نیند آنکھوں سے اڑی پھول سے خوشبو کی طرح


نیند آنکھوں سے اُڑی پھول سے خوشبو کی طرح
جی بہل جائے گا شب سے تیرے گیسو کی طرح

دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہے
پھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرح

میری آشفتگیء شوق میں اک حسن بھی ہے
تیرے عارض پہ مچلتے ہوئے گیسو کی طرح

اب تیرے ہجر میں لذت نہ تیرے وصل میں لطف
ان دِنوں زیست ہے ٹھہرے ہوے آنسو کی طرح

زندگی کی یہی قیمت ہے کہ ارزاں ہو جاؤ
نغمۂ درد کے لیے موجۂ خوشبو کی طرح

کس کو معلوم نہیں کون تھا وہ شخص علیم
جس کی خاطر رہے آوارہ ہم آہو کی طرح

1963ء

عبید اللہ علیم ؔ


اتوار، 2 اکتوبر، 2016

152۔ نمو

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ99۔100

152۔ نمو


نمو

میں وہ شجر تھا
کہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزار جسموں کو آرزو تھی
زمیں کی آنکھیں دراز عمرئ کی دعاؤں میں رو رہی تھیں
اور سورج کے ہاتھ تھکتے نہیں تھے مجھ کو سنوارنے میں
کہ میں اک آواز کا سفر تھا
عجب شجر تھا
کہ اُس مسافر کا منتظر تھا
جو میرے سائے میں آ کے بیٹھے اور پھر نہ اٹھے
جو میری شاخوں میں آ کے جُھولے تو سارا موسم یہیں گزارے
مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا
عجب مسافر تھا رہ گزر کا
جو چھوڑ آیا تھا کتنے سارے
جو توڑ آیا تھا کتنی شاخیں
مگر لگا یوں کہ جیسے اب وہ شکستہ تر ہے
وہ میرے خوابوں کا ہمسفر ہے
سو میں نے سائے بچھا دیے تھے
تمام جھولے ہلا دیے تھے
مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا مگر وہ پاگل ہوا کا جھونکا
عجب مسافر تھا رہ گزر کا
کہ لمحے بھر میں گزر چکا تھا
میں بے نمو اور بے ثمر تھا
مگر میں آواز کا سفر تھا
سو میری آواز کا اجر1 تھا
 عجب شجر تھا
عجب شجر ہوں
کہ آنے والے سے کہہ رہا ہوں
اے میرے دل میں اترنے والے
اے مجھ کو شاداب کرنے والے
تجھے مری روشنی مبارک
تجھے مری زندگی مبارک

1۔میرا عجز سمجھ لیجئے

1969ء

عبید اللہ علیم ؔ


153۔ ایک نظارہ ہوں آنسو سے گہر ہونے تک

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ101۔102

153۔ ایک نظارہ ہوں آنسو سے گہر ہونے تک


ایک نظارہ ہوں آنسو سے گہر ہونے تک
اک تماشا ہوں میں شعلے سے شرر ہونے تک

تُو ہے وہ رنگ کہ آنکھوں سے نہ اوجھل ہوگا
میں ہوں وہ خواب کہ گزروں گا سحر ہونے تک

لکھتے ہیں پر یہ نہیں جانتے لکھنے والے
نغمہ اندوہِ سماعت ہے اثر ہونے تک

تو کہیں بھی رہے زندہ ہے لہو میں میرے
میں سنواروں گا تجھے خاک بسر ہونے تک

ہائے وہ شمع جو اب دور کہیں جلتی ہے
میرے پہلو میں بھی پگھلی ہے سحر ہونے تک

1968ء

عبید اللہ علیم ؔ


154۔ جو دیکھو تو کہاں ماتم نہیں ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ103۔104

154۔ جو دیکھو تو کہاں ماتم نہیں ہے


جو دیکھو تو کہاں ماتم نہیں ہے
مگر دنیا کی رونق کم نہیں ہے

میں روتا ہوں کہ زخم ِ آرزو کو
دعا دیتا ہوا موسم نہیں ہے

نئی آنکھیں نئے ہیں خواب ہیں میرے
مجھے یہ بھی سزا کچھ کم نہیں ہے

ہوں خود اپنی طبعیت سے پریشاں
مزاج ِ دہر تو برہم نہیں ہے

ہوا کہ دوش پہ جلتا دیا ہوں
جو بجھ جاوں تو کوئی غم نہیں ہے

تو پھر میں کیا مری عرض ِ ہنر کیا
صداقت ہی اگر پرچم نہیں ہے

مجھے کچھ زخم ایسے بھی ملے ہیں
کہ جن کا وقت بھی مرہم نہیں ہے

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


ہفتہ، 1 اکتوبر، 2016

155۔ پاؤ گے کہاں پناہ لوٹ آؤ

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ105۔106

155۔ پاؤ گے کہاں پناہ لوٹ آؤ


پاؤ گے کہاں پناہ لوٹ آؤ
گھر ہوگیا ہے تباہ لوٹ آؤ

میری نہیں گر تو اپنی خاطر
لوٹ آؤ دل و نگاہ لوٹ آؤ

تم چاہ میں جس کی مر رہے ہو
اس میں تو نہیں ہے چاہ لوٹ آؤ

تم جب سے گئے ہو چاند میرے
راتیں ہوئیں ہیں سیاہ لوٹ آؤ

تم مل کے بچھڑ گئے ہو جس سے
تکتا ہے تمہاری راہ لوٹ آؤ

کیا ہوگئی زندگی تمہاری
اب اے مرے کج کلاہ لوٹ آؤ

بچھڑے ہوؤں کا پھر سے ملنا
ایسا بھی نہیں ہے گناہ لوٹ آؤ

1969ء

عبید اللہ علیم ؔ


156۔ دوستو!خونِ شہیداں کا اثر تو دیکھو

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ107۔108

156۔ دوستو!خونِ شہیداں کا اثر تو دیکھو


دوستو! خونِ شہیداں کا اثر تو دیکھو
کاسۂ سر لیے آئی ہے سحر تو دیکھو

درد کی دولتِ کمیاب مرے پاس بہت
ظرف کی داد تو دو میرا جگر تو دیکھو

منزلِ شوق گریزاں ہے گریزاں ہی سہی
راہ گم کردہ مسافر کا سفر تو دیکھو

کون بے وجہ اڑاتا ہے بہاروں کا مذاق
مجھ کو الزام نہ دو اپنی نظر تو دیکھو

چاند کا دشت بھی آباد کبھی کر لینا
پہلے دنیا کے یہ اجڑے ہوئے گھر تو دیکھو

فخر ہم پیشگئ دیدہ وراں جانے دو
داغِ ہم پیشگئ ننگ ِہنر تو دیکھو

1961ء

عبید اللہ علیم ؔ


157۔ تیرا اندازِ سخن یاد آیا

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ109۔110

157۔ تیرا اندازِ سخن یاد آیا


تیرا اندازِ سخن یاد آیا
اپنے چپ رہنے کا فن یاد آیا

جس کی خوشبو سے معطر تھا دماغ
پھر وہ شاداب چمن یاد آیا

ہم جسے جیت کے بھی ہارگئے
پھر وہی وعدہ شکن یاد آیا

یاد آئے ہیں مسیحا اپنے
جب کوئی زخمِ کہن یاد آیا

موجِ خوں تھی کہ محبت اپنی
جب بھی آیابدن یاد آیا

ہم کو جنت بھی جہنم ہوگی
گریہی رنج ومحن یاد آیا

سوچتا ہوں کبھی اس کو بھی علیم
مری غزلیں مرا فن یاد آیا

1959ء

عبید اللہ علیم ؔ