صفحات

جمعہ، 7 اکتوبر، 2016

137۔ کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ71۔73

137۔ کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا


کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا
کس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیا

آنکھوں میں روشنی بھی ہے ویرانیاں بھی ہیں
اِک چاند ساتھ ساتھ ہے اِک چاند گہہ گیا

تم ہمسفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز
مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا

تم ہی کہو کہ ہوبھی سکے گا  مرا علاج
اگلی محبتوں کے مرے زخم آشنا

جھانکا ہے میں نے خلوت جاں میں نگارِ جاں
کوئی نہیں ہے کوئی نہیں ہے ترے سوا

وہ اور تھا کوئی جسے دیکھا ہے بزم میں
گر مجھ کو ڈھونڈنا ہے مری خلوتوں میں آ

اے میرے خواب آ مری آنکھوں کو رنگ دے
اے مری روشنی تو مجھے راستا دکھا

اب آبھی جا کہ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جاؤں
اے میرے آفتاب بہت تیز ہے ہوا

یارب عطا ہو  زخم کوئی شعر آفریں
اِ ک عمر ہو گئی کہ مرا دل نہیں دکھا

وہ دور آگیا ہے کہ اب صاحبان درد
جو خواب دیکھتے ہیں وہی خواب نارسا

دامن بنے تو رنگ ہوا دسترس سے دور
موجِ ہوا ہوئے تو ہے خوشبو گزیر پا

لکّھیں بھی کیا کہ اب کوئی احوالِ دل نہیں
چینخیں بھی کیا کہ اب کوئی سنتا نہیں صدا

آنکھوں میں کچھ نہیں ہے بجز خاکِ رہ گزر
سینے میں کچھ نہیں ہے بجز نالہ و نوا

پہچان لو ہمیں کہ تمہاری صدا ہیں ہم
سن لو کہ پھر نہ آئیں گے ہم سے غزل سرا

1970ء

عبید اللہ علیم ؔ


138۔ نیا عشق

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ74

138۔ نیا عشق


نیا عشق

اے میرے لہو کی لہرِتازہ!
تو موسم ابروبادوبادہ
چہرہ وہی خواب سا دکھا جا
باتیں وہ شراب سی سنا جا
مل کر نہ بچھڑ سکیں کبھی ہم
اک بار تُو اس طرح ملا جا
جو میرے اور اُس کے درمیاں ہے
ڈھا جا وہ فصیلِ ہجر ڈھا جا
اے میرے لہو کی لہرِتازہ!
تو موسم ابروبادوبادہ

موج کی جگہ لہر کے استعمال پر معذرت

عبید اللہ علیم ؔ


139۔ سچا جھوٹ

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ75۔76

139۔ سچا جھوٹ


سچا جھوٹ

میں بھی جھوٹا تم بھی جھوٹے
آؤ چلو تنہا ہوجائیں
کون مریض اور کون مسیحا
اس دکھ سے چھٹکارا پائیں
آنکھیں اپنی خواب بھی اپنے
اپنے خواب کسے دکھلائیں
اپنی اپنی روحوں میں سب
اپنے اپنے لوڑھ سجائیں
اپنے اپنے کاندھوں پر سب
اپنی اپنی لاش اٹھائیں
بیٹھ کے اپنے اپنے گھر میں
اپنا اپنا جشن منائیں
شاید لمحہ آئندہ میں
لوگ ہمیں سچا ٹھہرائیں

1966ء

عبید اللہ علیم ؔ


جمعرات، 6 اکتوبر، 2016

140۔ عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ77۔78

140۔ عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے


عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے
وہ زندہ لوگ مرے گھر کے جیسے مر سے گئے

ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگ
نہ جانے کیا ہوا اِک آن میں بکھر سے گئے

بچھڑنے والوں کا دکھ ہو تو سوچ لینا یہی
کہ اِک نوائے پریشاں تھے رہ گزر سے گئے

ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئی
کہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئے

کبھی وہ جسم ہوا اور کبھی وہ روح تمام
اسی کے خواب تھے آنکھوں میں ہم جدھر سے گئے

یہ حال ہو گیا آخر تری محبّت میں
کہ چاہتے ہیں تجھے اور تری خبر سے گئے

مرا ہی رنگ تھے، تو کیوں نہ بس رہے مجھ میں
مرا ہی خواب تھے تو کیوں مری نظر سے گئے

جو زخم، زخم ِ زباں بھی ہے اور نمو بھی ہے
تو پھر یہ وہم ہے کیسا کہ ہم ہنر سے گئے

1969ء

عبید اللہ علیم ؔ


141۔ میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ79۔80

141۔ میں یہ کس کے نام لکھوں جو الم گزر رہے ہیں


میں یہ کس کے نام لکھوں، جو الم گزر رہے ہیں
مرے شہر جل رہے ہیں، مرے لوگ مر رہے ہیں

کوئی غُنچہ ہو کہ گُل ہو، کوئی شاخ ہو شجر ہو
وہ ہوائے گلستاں ہے کہ سبھی بِکھر رہے ہیں

کبھی رحمتیں تھیں نازل اِسی خطۂ زمیں پر
وہی خطۂ زمیں ہے کہ عذاب اُتر رہے ہیں

وہی طائروں کے جُھرمٹ جو ہوا میں جُھولتے تھے
وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں

بڑی آرزو تھی ہم کو، نئے خواب دیکھنے کی
سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں

کوئی اور تو نہیں ہے، پسِ خنجر آزمائی
ہمیں قتل ہو رہے ہیں، ہمیں قتل کر رہے ہیں

1971ء

عبید اللہ علیم ؔ


142۔ خوشا وہ د َورکہ جب تجھ سے رسم و راہ نہ تھی

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ81۔82

142۔ خوشا وہ د َورکہ جب تجھ سے رسم و راہ نہ تھی


خوشا وہ دَور کہ جب تجھ سے رسم و راہ نہ تھی
سکون کُفر نہ تھا زندگی گناہ نہ تھی

نفس نفس پہ اُبھرتی ہوں سولیاں جیسے
حیات اتنی تو پہلے کبھی تباہ نہ تھی

بہ فیضِ حسرتِ دیدار خسروانِ جنوں
اُدھر بھی دیکھ گئے جس طرف نگاہ نہ تھی

خود اپنی روشنیء طبع کے ستائے ہوئے
وہ ہم تھے دہر میں جن کو کہیں پناہ نہ تھی

وہ اک نگاہ کہ سب کچھ سمجھ لیا تھا جسے
تباہئ دل و جاں پر وہی گواہ نہ تھی

1960ء

عبید اللہ علیم ؔ

بدھ، 5 اکتوبر، 2016

143۔ مرثیہ

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ83

143۔ مرثیہ


مرثیہ

اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا
کہ میری آنکھوں میں اب لہو ہے نہ خواب کوئی
میں سب دیے طاقِ آرزو کے بجھا چکا ہوں
تُو ہی بتا اب
کہ مرگ ِمہتاب و خونِ انجم پہ نظر کیا دوں
نہ میرا ماضی نہ میرا فردا
بکھر گئی تھی جو زلف کب کی سنور چکی ہے
اور آنے والی سحر بھی آ کر گزر چکی ہے
اداس یادوں کی مضمحل رات بیت بھی جا!

1968ء

عبید اللہ علیم ؔ