صفحات

پیر، 10 اکتوبر، 2016

130۔ دکھے دلوں کو سلام میرا

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ57۔58

130۔ دکھے دلوں کو سلام میرا


دکھے دلوں کو سلام میرا

دکھے ہوئے دل ہیں میرا مذہب میرا عقیدہ
دکھے ہوئے دل
مرا حرم ہیں، مرے کلیسا ، مرے شوالے
دکھے ہوئے دل
چراغ میرے ، گلاب میرے
دکھے ہوئے دل
کہ روشنی بھی ہیں اور خوشبو بھی زندگی کی،
دکھے ہوئے دل
کہ زندگی کا عظیم سچ ہیں
دکھے ہوئے دل جہاں کہیں ہیں
دکھے ہوئے دل مرا ہی دل ہیں
دکھے دلوں کو سلام میرا

1967ء

عبید اللہ علیم ؔ


اتوار، 9 اکتوبر، 2016

131۔ ایک ایسی بھی ہوا آئے گی

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ59۔60

131۔ ایک ایسی بھی ہوا آئے گی


ایک ایسی بھی ہوا آئے گی
جو ہر اِک زخم کو بھر جائے گی

یہ کنارے سے لپٹتی ہوئی موج
کبھی طوفاں بھی اٹھا لائے گی

پھول میں ہو کہ ہوا میں خوشبو
نور ہے نور ہی برسائے گی

اور یہ  عشق و ہوس کی دنیا
تشنگی کے سوا کیا پائے گی

پھول بھی شاخ سے گر جائیں گے
شاخ بھی دھوپ سے مرجھائے گی

ہے سمٹتے ہوئے سائے کی صدا
اُٹھ یہ دیوار بھی گر جائے گی

کوئی احساس اگر ہے تو کہو
بات لفظوں سے نہ بن پائے گی

1964ء

عبید اللہ علیم ؔ


132۔ اب نہ اس سمت نظر جائے گی

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ61۔62

132۔ اب نہ اس سمت نظر جائے گی


اب نہ اُس سمت نظر جائے گی
جیسے گزرے گی گزر جائے گی

صُورت زلف یہ تلوار سی رات
جیسے دل ہی میں اتر جائے گی

ہم پہ اب جو بھی قیامت گزرے
تیری دنیا تو سنور جائے گی

دور تک ہم ہی نظر آئیں گے
جس طرف بھی وہ نظر جائے گی

اس بدلتی ہوئی رفتار کے ساتھ
زندگی جانے کدھر جائے گی

اور کچھ دنوں میں جنوں کی اپنے
شہر در شہر خبر جائے گی

لمحہ لمحہ جو سمیٹی   ہے عمر
ایک لمحے میں بکھر جائے گی

1964ء

عبید اللہ علیم ؔ


133۔ چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ63۔64

133۔ چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز


چاند سا دل ہو چاندنی سا گداز
ورنہ کیا نغمہ ساز و نغمہ نواز

سننے والو اسے بھی سن لینا
صُورت زخم بھی ہے اِک آواز

جس کو دیکھو وہ دل شکستہ ہے
کون ہے اس جہاں کا آئینہ ساز

قید کی عمر ایسی راس آئی
سو رہی بازوؤں ہی میں پرواز

جس نے بخشے ہیں غم اُسی کیلئے
کر رہا ہوں دعائے عمرِ دراز

1962ء

عبید اللہ علیم ؔ


ہفتہ، 8 اکتوبر، 2016

134۔ گیت

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ65۔66

134۔ گیت


گیت

نرم کونپل پہ شبنم کے موتی تال پر صبح کی گنگنائیں
ہونٹ پر جب کرن ہونٹ رکھ دے مسکرائیں تو واپس نہ آئیں
نرم کونپل پہ شبنم کے موتی
سچّے سر کی سچائی میں جھول رہے ہیں بدن
لہروں لہروں گاتی جائے جیسے مست پون
دیکھو ساون گاتا آیا
اپنے آنگن گاتا آیا
نرم کونپل پہ شبنم کے موتی
آؤ مل کہ موج میں اپنی کھیلیں ہواؤں کے سنگ
ہولے ہولے بادل چھو لیں جیسے فضاؤں کے رنگ
دیکھو ساون گاتا آیا
اپنے آنگن گاتا آیا
نرم کونپل پہ شبنم کے موتی تال پر صبح کی گنگنائیں
ہونٹ پر جب کرن ہونٹ  رکھ دے مسکرائیں تو واپس  نہ آئیں

1972ء

عبید اللہ علیم ؔ


135۔ کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ67۔68

135۔ کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں


کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں
پھر خواب اگر ہو جاؤ تو کیا

کوئی رنگ تو دو میرے چہرے کو
پھر زخم اگر مہکاؤ تو کیا

جب ہم ہی نہ مہکے پھر صاحب
تم بادِ صبا کہلاؤ تو کیا

اِک آئینہ تھا سو ٹوٹ گیا
اب خود سے اگر تو شرماؤ تو کیا

تم آس بندھانے والے تھے
اب تم بھی ہمیں ٹھکراؤ تو کیا

دنیا بھی وہی اور تم بھی وہی
پھر تم سے آس لگاؤ توکیا

میں تنہا تھا میں تنہا ہوں
تم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیا

جب دیکھنے والا کوئی نہیں
بجھ جاؤ تو کیا گہناؤ تو کیا

اک وہم ہے یہ دنیا اس میں
کچھ کھوؤ تو کیا  اور پاؤ تو کیا

ہے یوں بھی زیا ں اور یوں بھی زیاں
جی جاؤ تو کیا مر جاؤ تو کیا

1970ء

عبید اللہ علیم ؔ


136۔ محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ69۔70

136۔  محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں


محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں
جو دل گلاب ہیں زخموں سے بھر نہ جائیں کہیں

ابھی تو وعدہ و پیماں ہیں  اور یہ حال اپنا
وصال ہو تو خوشی سے ہی مر نہ جائیں کہیں

یہ رنگ چہرے کے اور خواب اپنی آنکھوں کے
ہوا چلے کوئی ایسی بکھر نہ جائیں کہیں

جھلک رہا ہے جن آنکھوں سے اب وجود مرا
آنکھیں ہائے یہ آنکھیں مکر نہ جائیں کہیں

پکارتی ہی  نہ رہ جائے  یہ زمیں پیاسی
برسنے والےیہ بادل گزر نہ جائیں کہیں

نڈھال اہل طرب ہیں کہ اہل گلشن کے
بجھے بجھے سے یہ چہرےسنور نہ جائیں کہیں

فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر
نکل کے گھر سے  اب اہل نظر نہ جائیں کہیں

1970ء

عبید اللہ علیم ؔ