صفحات

پیر، 17 اکتوبر، 2016

109۔ مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ17۔18

109۔ مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے


مرے خدا مجھے وہ تاب نے نوائی دے
میں چپ رہوں تو بھی نغمہ مرا سنائی دے

گدائے کوئے سخن اور تجھ سے کیا مانگے
یہی کہ مملکتِ شعر کی خدائی دے

نگاہِ دہر  میں اہلِ کمال ہم بھی ہوں
جو لکھ رہے ہیں وہ دنیا اگر دکھائی دے

چھلک نہ جاؤں کہیں میں وجود سے اپنے
ہنر دیا ہے تو پھر ظرفِ کبریائی دے

مجھے کمال سخن سے نوازنے  والے
سماعتوں کو بھی اب ذوقِ آشنائی دے

نمو، پذیر ہے یہ شعلۂ نوا تو اسے
ہر آنے والے زمانے کی پیشوائی دے

کوئی کرے تو کہاں تک کرے مسیحائی
کہ ایک زخم بھرے دوسرا دُہائی دے

میں ایک سے کسی موسم میں نہیں رہ سکتا
کبھی وصال سے کبھی ہجر سے رہائی دے

جو ایک خواب کا نشّہ ہو کم تو آنکھوں کو
ہزار خواب دے اور جرأتِ رسائی دے

1971ء

عبید اللہ علیم ؔ


اتوار، 16 اکتوبر، 2016

110۔ خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ19۔20

110۔ خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی


خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی
لہو میں ناچ رہی ہیں یہ وحشتیں کیسی

نہ شب کو چاند ہی اچھا نہ دن کومہر اچھا
یہ ہم پہ بیت رہی ہیں قیامتیں کیسی

وہ ساتھ تھا تو خدا بھی تھا مہرباں کیا کیا
بچھڑ گیا تو ہوئی ہیں عداوتیں کیسی

عذاب جن کا تبسم ثواب جن کی نگاہ
کھچی ہوئی ہیں پسِ جاں یہ صورتیں کیسی

ہَوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم
جو بُجھ گئے تو ہَوا سے شکایتیں کیسی

جو بے خبر کوئی گزرا تو یہ صدا دی ہے
میں سنگِ راہ ہوں مجھ پر عنایتیں کیسی

نہیں کہ حسن ہی نیر نگیوں میں طاق نہیں
جنوں بھی کھیل رہا ہے سیاستیں کیسی

نہ صاحبانِ جنوں ہیں نہ اہلِ کشف و کمال
ہمارے عہد میں آئیں کثافتیں کیسی

جو اَبر ہے سو وہ اب سنگ و خشت لاتا ہے
فضا یہ ہو تو دلوں کی نزاکتیں کیسی

یہ دورِ بے ہنراں ہے بچا رکھو خود کو
یہاں صداقتیں کیسی کرامتیں کیسی

1964ء

عبید اللہ علیم ؔ


111۔ خورشید بکف کوئی کہاں ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ21۔22

111۔ خورشید بکف کوئی کہاں ہے


خورشید بکف کوئی کہاں ہے
سب اپنی ہی روشنیٔ جاں ہے

میں بھی تو ادھر ہی جا رہا ہوں
مجھ کو بھی تلاش ِ رفتگاں ہے

پھر دیکھنا خوابِ عہد رفتہ
مل لو ابھی وقت مہرباں ہے

سودا بھی کروں تو کیا کہ دنیا
باہر سے سجی ہوئی دُکاں ہے

شعلے کوخبر ہی کیا نمو میں
اپنے ہی وجود کا زیاں ہے

ہر لحظہ بدل رہی ہے دنیا
ہر پَل کوئی خوابِ رائیگاں ہے

لیتا ہی نہیں کہیں پڑاؤ
یادوں کا عجیب کارواں ہے

مانا کہ جدا نہیں ہیں ہم تم
پھر بھی کوئی فصل درمیاں ہے

اے ابرِ بہارِ نو برس بھی
پھر تازہ ہجوم تشنگاں ہے

اے موجِ فنا  گزر بھی سر سے
ہونے کا مجھے بہت گماں ہے

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


112۔ محبت

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ23۔24

112۔ محبت


محبت

میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے
نہ خال و خد کا جمال اُس میں، نہ زندگی کمال کوئی
جو کوئی اُس میں ہنر  بھی ہوگا
تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے
نہ جانے پھر کیوں!
میں وقت کے دائروں سے باہرکسی تصور میں اڑ رہا ہوں
خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوتِ بزم میں شب و روز
مرا لہو اپنی گردشوں میں اُسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے
جو میری چاہت سے بے خبر ہے
کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزرا
کہ جیسے وہ با خبر ہے
میری محبتوں سے
دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اس نے
مری ہی صورت
وہ وقت کے دائروں سے باہرکسی تصورمیں اڑ رہا ہے
خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوتِ بزم میں شب و روز
وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہے
مگر نہیں جانتایہ وہ بھی
کہ ایسا کیوں ہے
میں سوچتا ہوں،وہ سوچتا ہے
کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے
حقیقتوں کا سفر کریں گے

1964ء

عبید اللہ علیم ؔ


ہفتہ، 15 اکتوبر، 2016

113۔ عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ25۔26

113۔ عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے


عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

ملے ہیں یوں تو بہت آؤ اب ملیں یوں بھی
کہ روح گرمیٔ انفاس سے پگھل جائے

محبتوں میں عجب ہے دلوں کو دھڑکا سا
کہ  جانے کون کہاں راستہ بدل جائے

زہے وہ دل جو تمنّائے تازہ تر میں رہے
خوشا وہ عمر جو خوابوں ہی میں بہل جائے

میں وہ چراغ سرِ رہ گزارِ دنیا ہوں
جو اپنی ذات کی تنہائیوں میں جل جائے

ہر ایک لحظہ یہی آرزو یہی حسرت
جو آگ دل میں ہے وہ شعر میں بھی ڈھل جائے

1966ء

عبید اللہ علیم ؔ


114۔ کوئی دھن ہو میں تیرے گیت ہی گائے جاؤں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ27۔28

114۔ کوئی دھن ہو میں تیرے گیت ہی گائے جاؤں


کوئی دھن ہو میں تیرے گیت ہی گائے جاؤں
درد سینے میں اٹھے شور مچائے جاؤں

خواب بن کر تُو برستا رہے شبنم شبنم
اور بس میں اِسی موسم میں نہائے جاؤں

تیرے ہی رنگ اترتے چلے جائیں مجھ میں
خود کو لکّھوں تری تصویر بنائے جاؤں

جس کو ملنا نہیں پھر اُس سے محبت کیسی
سوچتا جاؤںمگر دل میں بسائے جاؤں

تو اب اس کی ہوئی جس پہ مجھے پیار آتا ہے
زندگی آ تجھے سینے سے لگائے جاؤں

یہی چہرے میرے ہونے کی گواہی دیں گے
ہر نئے حرف میں جاں اپنی سمائے جاؤں

جان تو چیز ہے کیا رشتۂ جاں سے آگے
کوئی آواز دیے جائے میں آئے جاؤں

شاید اس راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیں
دُھوپ میں چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤں

اہلِ دل ہوں گے تو سمجھیں گے سخن کو میرے
بزم میں آہی گیا ہوں تو سنائے جاؤں

1972ء

عبید اللہ علیم ؔ


115۔ یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ29۔30

115۔ یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں


یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں
ابھی میں کیا کہ ابھی منزلِ سفر میں ہوں

ابھی نظر نہیں ایسی کہ دور تک دیکھوں
ابھی خبر نہیں مجھ کو کہ کِس اثر میں ہوں

پگھل رہے ہیں جہاں لوگ شعلۂ جاں سے
شریک میں بھی اسی محفلِ ہنر میں ہوں

جو چاہے سجدہ گزارے جو چاہے ٹھکرا دے
پڑا ہوا میں زمانے کی رہ گزر میں ہوں

جو سایہ ہو تو ڈرو اور دُھوپ ہو تو جلوں
کہ ایک نخلِ نمو خاکِ نوحہ گر میں ہوں

کرن کرن کبھی خورشید بن کے نکلوں گا
ابھی چراغ کی صورت میں اپنے گھر میں ہوں

بچھڑ گئی ہے وہ خوشبواُ جڑ گیا ہے وہ رنگ
بس اب تو خواب سا کچھ اپنی چشمِ تر میں ہوں

قصیدہ خواں نہیں لوگو کہ عیش کر جاتا
دُعا کہ تنگ بہت شاہ کے نگر میں ہوں

1966ء

عبید اللہ علیم ؔ