صفحات

بدھ، 19 اکتوبر، 2016

105۔ دُکھ

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ151

105۔ دُکھ


دُکھ

رائیگاں جانے کا دکھ
ہر نیا لمحہ گئے لمحے کا دکھ
جو گزشتہ ہے وہ آئندہ نہیں
اور آئندہ کبھی پایا نہیں
کچھ اگر پایا فقط تو رائیگاں جانے کا دکھ

1975ء

عبید اللہ علیم ؔ


منگل، 18 اکتوبر، 2016

106۔ کہیں تو چہرہ گل آفتاب ہو گا ہی

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ152

106۔ کہیں تو چہرہ گل آفتاب ہو گا ہی


کہیں تو چہرہ گل آفتاب ہو گا ہی

عبید اللہ علیم ؔ


107۔ دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ153۔154

107۔ دل ہی تھے ہم دکھے ہوئے تم نے دکھا لیا تو کیا


دل ہی تھے ہم دُکھے ہوئے تم نے دُکھا لیا تو کیا
تم بھی تو بے اماں ہوئے ہم کو ستا لیا تو کیا

آپ کے گھر میں ہر طرف منظر ِ ماہ و آفتاب
ایک چراغِ شام اگر میں نے جلا لیا تو کیا

باغ کا باغ آپ کی دسترسِ ہوس میں ہے
ایک غریب نے اگر پھُول اٹھا لیا تو کیا

لُطف یہ ہے کہ آدمی عام کرے بہار کو
موجِ ہوائے رنگ میں آپ نہالیا تو کیا

اب کہیں بولتا نہیں غیب جو کھولتا نہیں
ایسا اگر کوئی خدا تم نے بنا لیا تو کیا

جو ہے خدا کا آدمی اُس کی ہے سلطنت الگ
ظلم نے ظلم سے اگر ہاتھ ملا لیا تو کیا

آج کی ہے جو کربلا کل پہ ہے ا ُس کا فیصلہ
آج ہی آپ نے اگر جشن منا لیا تو کیا

لوگ دکھے ہوئے تمام رنگ بجھے ہوئے تمام
ایسے میں اہلِ شام نے شہر سجا لیا تو کیا

پڑھتا نہیں ہے اب کوئی سنتا نہیں ہے اب کوئی
حرف جگا لیا تو کیا شعر سنا لیا تو کیا

1986ء

عبید اللہ علیم ؔ


108۔ مانا کہ میں جل جل کہ راکھ ہوا دنیا میں اجالا ہے کہ نہیں

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ155

108۔ مانا کہ میں جل جل کہ راکھ ہوا دنیا میں اجالا ہے کہ نہیں


مانا کہ میں جل جل کہ راکھ ہوا دنیا میں اجالا ہے کہ نہیں

عبید اللہ علیم ؔ


پیر، 17 اکتوبر، 2016

چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

یہ زندگی ہے ہماری



چاند چہرہ ستارہ آنکھیں

عبید اللہ علیم ؔ

دانیال
سیپ


انتساب

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ5

 انتساب


نگار کے نام


آئینہ

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ13۔16

 آئینہ


میرے آنگن میں گلاب کھل رہا ہے،میں اس کا رنگ بتا سکتا ہوں مگرخوشبو کو صرف محسوس کرسکتا ہوں بتا نہیں سکتا۔مختلف تمثیلات وتشبیہات کے سہارے ممکن ہے آپ کو اپنے احساس میں شریک کر لوں مگر حقیقتًا خوشبو کی کیفیت اور ذائقے تک پہنچانا میرے بس میں نہیں۔
گلاب کس مٹی میں کھلتا ہے اس کے لیے کون ساموسم اورفضا درکار ہے اس پر بہت گفتگو ہوسکتی ہے مگر اس کی خوشبو کا تعین ممکن نہیں۔شاعری کا بھی کچھ یہی احوال ہے یہ بھی انسانی وجود کی ایک ایسی خوشبو ہے جسے بس محسوس کیا جاسکتا ہے ۔شاعر کی زندگی وذات کے بارے میں اس کے معاشرے اور کلچر کے بارے میں حساب لگایاجاسکتا ہے،مگر شعر کی کیفیت اور ذائقہ منتقل نہیں کیا جاسکتااورنہ وہ محسوس کرایا جاسکتا ہےجو محسوس کیا جاتا ہے۔محسوس کرانے کا عمل دراصل ایک دوسری تخلیق ہے جس کا پہلی تخلیق سے اتنا ہی تعلق ہے کہ وہ اس کے حوالے سے وجود میں آئی ۔کیا میں ان باتوں سے ابلاغ کی شرط اٹھا رہا ہوں ۔قطعی نہیں۔صرف اتنی سی بات کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو کچھ میں نے شعر کی صورت میں لکھا ہے میرا ابلاغ ہے اور آپ جس طرح اسے سمجھیں گے وہ آپ کا ابلاغ ہوگا۔میں نے اپنی ذات کی اضافت سے لکھا آپ نے اپنی ذات کی اضافت سے محسوس کیا۔بہت سے لوگ اس پر مجھ سے الجھنا چاہیں گے اوروہ بات کہیں گے جو کہی جاتی ہےمگر میں ہارنے کے لیے تیار ہوں جھوٹ بولنے کے لیے تیار نہیں۔
تخلیق انکشاف ِذات ہے تو تنقید اُس انکشاف کی خبر ہے۔
 تخلیق اپنے اندر ایک زبردست نمو کی طاقت رکھتی ہے اورخودبخودبڑھتی اور پھیلتی ہے ،بالکل اسی طرح جیسے اکیلا گلاب خوشبو کا ایک ہجوم اپنے ساتھ رکھتا ہے اور خوشبو فضاؤں میں گھلتی رہتی ہے آپ چاہیں تو اس کے شریک ہو جائیں لیکین خوشبوآپ کی محتاج نہیں ۔گلاب کی خوشبو آپ کی نیازمند نہیں ۔مگر گلاب کا پودا فطرت کا اور آپ کا نیاز مند ہے کہ اسے اگنے کے زمین پانی اور روشنی بہرحال چاہئیں۔
شاعری میری دانست میں انسانی وجود کی خوش آہنگ اور مترنم بے اختیاری کانام ہے۔میں اب تک شاعری کے بارے میں اتنا ہی جان سکا ہوں ۔ اپنی شاعری کے لیے بھی میرایہی خیال ہے۔شعر لکھنا میں نے کسی نظریے کے سہارے شروع نہیں کیا تھا اور اب تک کوئی نظریہ نہیں تراش پایا۔ہر چند کے یہ ہمارے شاعروں اور شاعری کی کچھ دن سے روایت ہے ۔بس میں ایک بات جانتا ہوں کہ میں شاعر ہوں۔کبھی کبھی مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شعر میری ذات کا ایک ایسا اذیت ناک جبر ہے جس سے گزر کر مجھے خوشی ہوتی ہے یا میرے حواس کا وہ آئینہ ہےجو مجھے خود اپنے جاننے کی ایک عجیب سی لذت اور سرشاری سے گزارتا ہے۔سب کچھ باہر ہے مگر وہ نہیں ہے جو میرے اندر آکر ہو جاتا ہےجن پر آپ کو سرابوں کا گمان گزرتاہے میں نے ان چشموں سے پانی پیا ہے جنھیں آپ فریب جانتے ہیں میں نے اُن میں منزلوں کے نشان دیکھے ہیں۔یہاں کوئی عمل اور کوئی بات طے شدہ نہیں۔انسانی نفس کو جاننے کا دعوٰی کون کر سکتا ہے۔بس اپنا اپنا وہم ہے اور اپنی اپنی قیاس آرائیاں۔
ان کمبخت لفظوں پر بھروسا نہ کیا جائے تو پھر کیا کیا جائے ۔میں ان کو تسخیر کر رہا ہوں یہ میری تعمیر کر رہے ہیں۔یہ میرے وفادار ہیں لیکن کبھی کبھی میں ان کا وفادار نہیں رہتا کہ ان کی حقیقی صورت میں کوئی   اورصورت دیکھنا چاہتا ہوں مگران کا ظرف کشادہ ہے یہ مجھ سے سمجھوتہ کرتے ہیں اورمیرے  نطق سے بولتے رہتے ہیں جہاں کہیں بھی مجبوری ہے میری ہے ان میں اور مجھ میں ایک دوستانہ جنگ بھی جاری ہے ان کی خواہش ہے کہ میں ان کی طرح بولوں مگر میں انھیں اپنی طرح بولنے پر مجبور کرتا رہتا ہوں۔یہ میرے بچے ہیں میں ان کی اولاد ہوں مجھے دیکھنا ہے کہ یہ جب آپ کے پاس پہنچتے ہیں تو کیا ہوجاتے ہیں۔
مجھے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جنھوں نے حرف لکھے اورجوحرف لکھتے ہیں۔میرے آئینے میں وہ چہرے ضرور بولیں گے جنھیں میں نے اپنا چہرہ سمجھ کر دیکھا ہے میں ان کی تکریم وتعظیم میں محض اپنا چہرہ پیش کرسکتا ہوں اوریہ میری شاعری ہے۔