صفحات

پیر، 7 نومبر، 2016

53۔ چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سب

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ49۔50

53۔ چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سب


چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سب
میں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سب

بنیاد بھی میری درو دیوار بھی میرے
تعمیر ہوا میں کہ یہ تعمیر ہوئےسب

بتلاؤ تو یہ آب و ہوا آئی کہاں سے
کہنے کو تو تم لہجہ و تاثیر ہوئے سب

ویسے ہی لکھو گے تو مرا نام ہی ہوگا
جو لفظ لکھے وہ مری جاگیر ہوئے سب

مرتے ہیں مگر موت سے پہلے نہیں مرتے
یہ واقعہ ایسا ہے کہ دلگیر ہوئے سب

وہ اہلِ قلم سایۂ رحمت کی طرح تھے
ہم اتنے گھٹے اپنی ہی تعزیر ہوئے سب

اس لفظ کی مانند جو کُھلتا ہی چلا جائے
یہ ذات و زماں مجھ سے ہی تحریر ہوئے سب

تنا سخن میؔر نہیں سہلِ خدا خیر
نقّاد بھی اب معتقدِ میر ہوئےسب

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ


54۔ جو مہرباں کوئی چہرہ نظر بھی آتا ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ51۔52

54۔ جو مہرباں کوئی چہرہ  نظر  بھی آتا ہے


جو مہرباں کوئی چہرہ  نظر  بھی آتا ہے
تو دل میں گزرے زمانوں کا ڈر بھی آتا ہے

ہرے بھرے میرے خوابوں کو روندنے والو
خدائے زندہ زمیں پر اتر بھی آتا ہے

وہ پیاس ہے کہ دعا بن گیا میرا وجود
کب آئے گا جو کوئی ابرِتر بھی آتا ہے

کبھی جو عشق تھا اب مکر ہو گیا میرا
سمجھ سکے نہ کوئی یہ ہنر بھی آتا ہے

ابھی چلا بھی نہ تھا  اور رک گئے پاؤں
یہ سوچ کر کہ میرا ہمسفر بھی آتا ہے

ملے گا اور مرے سارے زخم بھر دے گا
سنا تھا راہ میں ایسا شجر بھی آتا ہے

یہ میرا عہد یہ میری دکھی ہوئی آواز
میں آگیا جو کوئی نوحہ گر بھی آتا ہے

کوئی چرا کے مجھے کیسےچھپ سکے کہ علیؔم
لہو کا رنگ میرے حرف پر بھی آتا ہے

1975ء

عبید اللہ علیم ؔ


اتوار، 6 نومبر، 2016

55۔ میں کیسے جیئوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہو

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ53۔54

55۔ میں کیسے جیئوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہو


میں کیسے جیئوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہو
یہ آتے جاتے رنگ نہ ہوں اور لفظوں کی تنویر نہ ہو

اے راہِ عشق کے راہی سن چل ایسے سفر کی لذّت میں
تری آنکھوں میں نئے خواب تو ہوں پر خوابوں کی تعبیر نہ ہو

گھر آؤں یا باہر جاؤں ہر ایک فضا میں میرے لیے
اک جھوٹی سچی چاہت ہو رسموں کی کوئی زنجیر نہ ہو

جیسے یہ مری اپنی صورت مرے سامنے ہو اور کہتی ہو
مرے شاعر تیرے ساتھ ہوں میں مایوس نہ ہو دلگیر نہ ہو

کوئی ہو تو محبت ایسی ہو مجھے دھوپ اور سائے میں جس کے
کسی جذبے کا آزار نہ ہو کسی خواہش کی تعزیر نہ ہو

1975ء

عبید اللہ علیم ؔ


56۔ جو اس نے کیا اسے صلہ دے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ55۔57

56۔ جو اس نے کیا اسے صلہ دے


جو اُس نے کیا اُسے صلہ دے
مولا مجھے صبر کی جزا دے

یا میرے دیئے کی لو بڑھا دے
یا رات کو صبح سے ملا دے

سچ ہوں تو مجھے امر بنا دے
جھوٹا ہوں تو  نقش سب مٹا دے

یہ قوم عجیب ہو گئی ہے
اس قوم کو خوئے انبیاء دے

اترے گا نہ کوئی آسماں سے
اک آس میں دل مگر صدا دے

بچوں کی طرح یہ لفظ میرے
معبود انہیں بولنا سکھا دے

دکھ دہر کے اپنے نام لکھوں
ہر دکھ مجھے ذات کا مزا دے

اک میرا وجود سن رہا ہے
الہام جو رات کی ہوا دے

مجھ سے مرا کوئی ملنے والا
بچھڑا تو نہیں مگر ملا دے

چہرہ مجھے اپنا دیکھنے کو
اب دستِ ہوس میں آئینہ دے

جس شخص نے عمرِ ہجر کاٹی
اس شخص کو ایک رات کیا دے

دُکھتا ہے بدن کہ پھر ملے وہ
مل جائے تو روح کو دُکھا دے

کیا چیز ہے خواہشِ بدن بھی
ہر بار نیا ہی ذائقہ دے

چھونے میں یہ ڈر کہ مر نہ جاؤں
چھوں لوں تو وہ زندگی سوا دے

1975ء

عبید اللہ علیم ؔ


ہفتہ، 5 نومبر، 2016

57۔ ستارہ و ماہتاب لکھنا کہ گرمیٔ آفتاب لکھنا

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ58

57۔ ستارہ و ماہتاب لکھنا کہ گرمیٔ آفتاب لکھنا


ستارہ و ماہتاب لکھنا کہ گرمیٔ آفتاب لکھنا
ہمیں تمہارے ہی نام لکھنا عذاب لکھنا کہ خواب لکھنا

عبید اللہ علیم ؔ


58۔ آوارگی پہ ہم نے بہت دن گزر کیا

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ59۔60

58۔ آوارگی پہ ہم نے بہت دن گزر کیا


آوارگی پہ ہم نے بہت دن گزر کیا
جب تھک گئے تو پھر اسی صحرا کو گھر کیا

رنجِ خزاں سے موجِ ہوائے بہار تک
وہ خواب سلسلہ تھا کہ آنکھوں کو تر کیا

اس کا بدن تھا جامِ شراب اور لب بہ لب
ہم تشنۂ لب تھے ہم نے بھی عالم دگر کیا

تھی ایک زندگی کے برابر وہ ایک رات
اس رات کو بسر کیا اور تا سحر کیا

ہم پہ تھا ایک عشق کا سایا کہ ساری عمر
اپنی ہی روشنی میں کیا جو سفر کیا

تم لوگ وہ کہ چھوڑ گئے کربلا کے بیچ
ہم لوگ وہ کہ جن نے تمھیں معتبر کیا

کچھ کم نہیں تھا پہلے بھی پامال میرا شہر
یہ کس کے پاؤں نے اسے پامال تر کیا

کیسی ہوا میں نکلا تھا یہ کاروانِ گل
آخر خزاں کے ہاتھ لگا رخ جدھر کیا

ہم شمعِ حرف پر مٹے اور کیمیا ہوئے
تب دوسروں کے دل پر سخن نے اثر کیا

لکھی ہے  میؔر درد کے مصرعے پہ یہ غزل
اور اس غزل کو ہم نے اسی نام پر کیا

1981ء

عبید اللہ علیم ؔ


جمعہ، 4 نومبر، 2016

59۔ آزادی

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ61۔62

59۔ آزادی


آزادی

میری قید میں رہنے والوں کا
میں نے خود دروازہ کھولا تھا
انجانے اور جانے پن کی بات نہیں
بس یونہی
شاید گہری نیند سے اٹھنا آزادی ہے
آزادی کے ہاتھ کی طاقت
اور سبھی ہاتھوں سے بڑی ہے
کتنی رات پڑی ہے
صبح تلک اک دو شاید اور نہ ہوں
جتنی دیر تلک جینا ہے
اتنی دیر تلک
کوئی شام دھنک
اسی ایک زمیں پر کئی فلک
سایوں کی طرح
ماؤں کی طرح
اِک ٹھنڈک دیں
اور جب آنکھ کھلے
تو آزادی کے نام کھلے
میں جب قید میں ہوں تو میں نے
اپنی قید میں رہنے والوں کا
دروازہ کیسے کھولا تھا

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ