صفحات

جمعہ، 1 جنوری، 2016

5۔اوصاف ِقرآن مجید

درثمین صفحہ 9

5۔اوصاف ِقرآن مجید


نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی ٰنکلا
پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا

حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا
ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا

یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالَم ہے
جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا

سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں
مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا

کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ
وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا

پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں
پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا

ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور
ایسا چمکا ہے کہ صد نَیّرِ بیضا نکلا

زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں
جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا

جلنےسے آگے ہی یہ لوگ تو جل جاتے ہیں
جن کی ہر بات فقط جھوٹ کا پتلا نکلا

براہین احمدیہ حصہ سوم  صفحہ 274   مطبوعہ 1882ء


6۔حمد رب العٰلمین

حمد رب العٰلمین

کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا
بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا

چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہوگیا
کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا

اُس بہار حُسن کا دل میں ہمارے جوش ہے
مت کرو کچھ ذکر ہم سے تُرک یا تاتار کا

ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف
جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے ترے دیدار کا

چشمۂ خورشید میں موجیں تری مشہود ہیں
ہر ستارے میں تماشا ہے تری چمکار کا

تونے خود روحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک
اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا

کیا عجب تو نے ہر اک ذرّہ میں رکھے ہیں خواص
کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر اُن اسرار کا

تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں
کس سے کھل سکتا ہے پیچ اس عقدۂ دشوار کا

خوبرویوں میں ملاحت ہے ترے اس حسن کی
ہر گُل و گلشن میں ہے رنگ اُس تری گلزار کا

چشم مست ہر حسیں ہر دم دکھاتی ہے تجھے
ہاتھ ہے تیری طرف ہر گیسوئے خم دار کا

آنکھ کے اندھوں کو حائل ہوگئے سو سو حجاب
ورنہ تھا قبلہ ترا رُخ کافر و دیندار کا

ہیں تری پیاری نگاہیں دلبرا اِک تیغ تیز
جن سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غمِ اغیار کا

تیرے ملنے کیلئے ہم مل گئے ہیں خاک میں
تا مگر درماں ہو کچھ اِس ہجر کے آزار کا

ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا
جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا

شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر
خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا

سرمہ چشم آریہ   صفحہ 4   مطبوعہ 1886ء

7۔سرائے خام

سرائے خام

دنیا کی حرص و آز میں کیا کچھ نہ کرتے ہیں
نقصاں جو ایک پیسہ کا دیکھیں تو مرتے ہیں

زر سے پیار کرتے ہیں اور دل لگاتے ہیں
ہوتے ہیں زر کے ایسے کہ بس مر ہی جاتے ہیں

جب اپنے دلبروں کو نہ جلدی سے پاتے ہیں
کیا کیا نہ ان کے ہجر میں آنسو بہاتے ہیں

پر ان کو اس سجن کی طرف کچھ نظر نہیں
آنکھیں نہیں ہیں کان نہیں دل میں ڈر نہیں

ان کے طریق و دھرم میں گو لاکھ ہو فساد
کیسا ہی ہو عیاں کہ وہ ہے جھوٹ اعتقاد

پر تب بھی مانتے ہیں اسی کو بہر سبب
کیا حال کردیا ہے تعصب نے ہے غضب

دل میں مگر یہی ہے کہ مرنا نہیں کبھی
ترک اس عیال و قوم کو کرنا نہیں کبھی

اے غافلاں و فانہ کند ایں سرائے خام
دنیائے دوں نماند و نماند بکس مدام


سرمہ چشم آریہ   صفحہ 89   مطبوعہ 1886ء

8۔وید

وید

ان کو سودا ہوا ہے ویدوں کا
ان کا دل مبتلا ہے ویدوں کا

آریو !اس قدر کرو کیوں جوش
کیا نظر آگیا ہے ویدوں کا

نہ کیا ہے نہ کرسکے پیدا
سوچ لو یہ خدا ہے ویدوں کا

عقل رکھتے ہو آپ بھی سوچو
کیوں بھروسہ کیا ہے ویدوں کا

بے خدا کوئی چیز کیونکر ہو
یہ سراسر خطا ہے ویدوں کا

ناستک مت کے وید ہیں حامی
بس یہی مدعا ہے ویدوں کا

ایسے مذہب کبھی نہیں چلتے
کال سر پر کھڑا ہے ویدوں کا


سرمہ چشم آریہ   صفحہ 172مطبوعہ 1886ء

9۔وفات مسیح ناصری علیہ السلام

وفات مسیح ناصری علیہ السلام

کیوں نہیں لوگو تمہیں حق کا خیال؟
دل میں اُٹھتا ہے مرے سَو سَو اُبال

ابن مریم مر گیا حق کی قسم
داخلِ جنت ہوا وہ محترم

مارتا ہے اُس کو فرقاں سر بسر
اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر

وہ نہیں باہر رہا اموات سے
ہوگیا ثابت یہ تیس آیات سے

کو ئی مُردوں سے کبھی آیا نہیں
یہ تو فرقاں نے بھی بتلا یا نہیں

عہد شد از کردگار بے چگوں
غور کن در أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ

اے عزیزو!! سوچ کر دیکھو ذرا
موت سے بچتا کوئی دیکھا بھلا

یہ تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں
چل بسے سب انبیاء و راستاں

ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات
یونہی باتیں ہیں بنائیں واہیات

کیوں تمہیں انکار پر اصرار ہے
ہے یہ دین یا سیرت کفّار ہے

برخلاف نصّ یہ کیاجوش ہے
سوچ کر دیکھو اگر کچھ ہوش ہے

کیوں بنایا ابن مریم کو خدا
سنت اللہ سے وہ کیوں باہر رہا

کیوں بنایا اس کو باشانِ کبیر
غیب دان و خالق حیّ و قدیر

مرگئے سب پر وہ مرنے سے بچا
اب تلک آئی نہیں اس پر فنا

ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا
اس خدادانی پہ تیرے مرحبا

مولوی صاحب یہی توحید ہے؟
سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے؟

کیایہی توحیدِ حق کا راز تھا
جس پہ برسوں سے تمہیں اک ناز تھا

کیا بشر میں ہے خدائی کا نشان؟
الاماں ایسے گماں سے الاماں!

ہے تعجب آپ کے اس جوش پر
فہم پر اور عقل پر اور ہوش پر

کیوں نظر آتا نہیں راہِ صواب؟
پڑ گئے کیسے یہ آنکھوں پرحجاب

کیایہی تعلیمِ فرقاں ہے بھلا
کچھ تو آخر چاہیئے خوفِ خدا

مومنوں پر کفر کا کرنا گماں
ہے یہ کیا ایمانداروں کا نشاں؟

ہم تو رکھتے ہیں مسلمانوں کا دیں
دل سے ہیں خدّام ختم المرسلیں

شرک اور بدعت سے ہم بیزارہیں
خاکِ راہِ احمدؐ مختار ہیں

سارے حکموں پر ہمیں ایمان ہے
جان و دل اس راہ پر قربا ن ہے

دے چکے دل اب تنِ خاکی رہا
ہے یہی خواہش کہ ہو وہ بھی فدا

تم ہمیں دیتے ہو کافر کا خطاب
کیوں نہیں لوگو تمہیں خوف عقاب

سخت شورے اوفتاد اندر زمیں
رحم کن برخلق اے جاں آفریں

کچھ نمونہ اپنی قدرت کا دکھا
تجھ کو سب قدرت ہے ،اے ربّ الورا

ازالہءاوہام حصہ دوم   صفحہ764مطبوعہ 1891ء

10۔علامات المقربین

علامات المقربین

خدا سے وہی لوگ کرتے ہیں پیار
جو سب کچھ ہی کرتے ہیں اس پر نثار

اسی فکر میں رہتے ہیں روز و شب
کہ راضی وہ دلدار ہوتا ہے کب

اُسے دے چکے مال و جان بار بار
ابھی خوف دل میں کہ ہیں نابکار

لگاتے ہیں دل اپنا اس پاک سے
وہی پاک جاتے ہیں اس خاک سے

نشان آسمانی  صفحہ46مطبوعہ 1892ء

11۔قادر مطلق کے حضور

قادر مطلق کے حضور

اک کرشمہ اپنی قدرت کا دکھا
تجھ کو سب قدرت ہے اے ربُّ الوریٰ

حق پرستی کا مٹا جاتا ہے نام
اک نشاں دکھلا کہ ہو حجت تمام

 آسمانی فیصلہ  صفحہ8مطبوعہ 1892ء