صفحات

بدھ، 5 اکتوبر، 2016

144۔ تین شعر

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ84

144۔ تین شعر


تین شعر

بوٹا بوٹا دھوپ جلا دے شجر شجربے سایا ہے
گھر اپنا صحراتو نہیں ہےلیکن صحراجیسا ہے

کچھ نہیں سیکھا ہم نے جنوں سے ہاں اتنا سیکھا ہے
اتنی اس کی عزت کی جو عشق میں جتنا رسوا ہے

ترکِ تعلق ایک قیامت پرسشِ یاراں اور عذاب
کیا بتلائیں ہجر زدہ دل کیسے کیسے دکھتا ہے

1966ء

عبید اللہ علیم ؔ


145۔ لکھنے ہیں ابھی مرثیہ ہائے دل و جاں اور

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ85۔86

145۔ لکھنے ہیں ابھی مرثیہ ہائے دل و جاں اور


لکھنے ہیں ابھی مرثیہ ہائے دل و جاں اور
کچھ زخم مجھے اے مرے مرہم نظراں اور

اتنا ہی کہ بس نغمہ سرایانِ جہاں ہیں
ملتا نہیں کچھ اس کے سوا اپنا نشاں اور

کھینچے ہے مری طبعِ سخن اپنی ہی جانب
اور گردشِ دوراں ہے کہ دکھلائے سماں اور

کچھ نذر ہوئے وقت کی بے رحم ہوا کے
کچھ خواب ابھی میرے لہو میں ہیں رواں اور

ہر لحظہ میں آزادیِ جاں کا تھا طلب گار
ہر گام پڑی پاؤں میں زنجیرِ گراں اور

کس طرح سے اچھا ہو وہ بیمار کہ جس کو
دُکھ اور ہو، دیتے ہوں دوا چارہ گراں اور

1967ء

عبید اللہ علیم ؔ


منگل، 4 اکتوبر، 2016

146۔ گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ87۔88

146۔ گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میں


گزرو نہ اس طرح کہ تماشا نہیں ہوں میں
سمجھو کہ اب ہوں اور دوبارہ نہیں ہوں میں

اک طبع رنگ رنگ تھی سو نذرِ گل ہوئی
اب یہ کہ اپنے ساتھ بھی رہتا نہیں ہوں میں

ہو دیدۂ  ہنر دلِ دردآشنا کی خیر!
کب لذتِ خیال میں دریا نہیں ہوں میں

تم نے بھی میرے ساتھ اُٹھائے ہیں دکھ بہت
خوش ہوں کہ راہِ شوق میں تنہا نہیں ہوں میں

پیچھے نہ بھاگ وقت کی اے ناشناس دھوپ
سایوں کے درمیان ہوں  سایہ نہیں ہوں میں

جو کچھ بھی ہوں، میں اپنی ہی صورت میں ہوں علیمؔ
غالبؔ نہیں ہوں، میرؔ و یگانہ نہیں ہوں میں

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


147۔ عشو ۂ وغمزۂ ورم بھول گئے

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ89۔90

147۔ عشو ۂ وغمزۂ ورم بھول گئے


عشو ۂ وغمزۂ ورم بھُول گئے
تیری ہر بات کو ہم بھول گئے

لوگ دیتے ہیں جسے پیار کا نام
ایک دھوکا تھا کہ ہم بھول گئے

جن کو دعوی تھا مسیحائی کا
اپنا ہی دیدۂ نم بھول گئے

یوں ہی الزام ہے دیوانوں پر
کب ہوئے تھے جو کرم بھول گئے

جانے کیوں لوگ ہنسا کرتے ہیں
جانے ہم کون سا غم بھول گئے

اب تو جینے دو زمانے والو
اب تو اس زلف کے خم بھول گئے

زندگی نے جو سکھایا تھا علیم
زندگی کے لیے ہم بھول گئے

1961ء

عبید اللہ علیم ؔ


148۔ وقت

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ91۔92

148۔ وقت


وقت

کوہکن وقت تیشہ چلاتا ہواصبح سے دوپہر تک تو آہی گیا
ہر قدم ڈھونڈتا اک نیا راستہ راہ شمس وقمر تک تو آہی گیا
صبح آغاز سےمہر رفتار ہےجو بھی ہے فرق وہ عمر کا فرق ہے
تیرگی روشنی کی گراں جنگ سے اب قویٰ اس کے سب مضمحل ہو چکے
ڈھل چکا نشۂ طاقت وعزم بھی آب ِ تیشہ جو تھی سنگ نے چاٹ لی
ایک مزدور نے چاہ میں مُزد کی جس طرح کٹ سکی زندگی کاٹ دی
اور آوارہ طائر کی مانند اب جھانکتا ہے پیاسی نظر سے  کوئی
س کو چشمہ ملے یا کسی پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ کر اونگھ لے دو گھڑی
دور تک ہیں سرابوں ہی کے سلسلے پیڑ عنقا ہیں اور گرد کی چھاؤں ہے
کشتہ ء خواب کو اجرت ومُزدمیں آس کا ایک اُجڑا ہو اگاؤں ہے
مہرباں کوئی قاصد سنا کے اسے مژدۂ مرگِ شیریں گزر جائے گا
اور یہ سنگِ منزل سے پھوڑ کر یا پھر اپنے ہی تیشے سے مرجائے گا

1960ء

عبید اللہ علیم ؔ


پیر، 3 اکتوبر، 2016

149۔ دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ93۔94

149۔ دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت


دکھے ہوئے ہیں ہمیں اور اب دکھاؤ مت
جو ہوگئے ہو فسانہ تو یاد آؤ مت

خیال و خواب میں پرچھائیاں سی ناچتی ہیں
اب اس طرح تو مری روح میں سماؤ مت

زمیں کے لوگ تو کیا دو دلوں کی چاہت میں
خدا بھی ہو تو اُسے درمیان لاؤ مت

تمھارا سر نہیں طفلانِ رہ گزر کے لئے
دیارِ سنگ میں گھر سے نکل کے جاؤ مت

سوائے اپنے کسی کے بھی ہو نہیں سکتے
ہم اور لوگ ہیں لوگو ہمیں ستاؤ مت

ہمارے عہد میں یہ رسمِ عاشقی ٹھہری
فقیر بن کے رہو اور صدا لگاؤ مت

وہی لکھو جو لہو کی زباں سے ملتا ہے
سُخن کو پردۂ الفاظ میں چھپاؤ مت

سُپرد کر ہی دیا آتشِ ہنر کے تو پھر
تمام خاک ہی ہوجاؤ کُچھ بچاؤ مت

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


150۔ شکستِ جاں سے سوا بھی ہے کارِفن کیا کیا

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ95۔96

150۔ شکستِ جاں سے سوا بھی ہے کارِفن کیا کیا


شکستِ جاں سے سوا بھی ہے کارِفن کیا کیا
عذاب کھینچ رہا ہے مرا بدن کیا کیا

نہ کوئی ہجر کا دن ہے نہ کوئی وصل کی رات
مگر وہ شخص کہ ہے جانِ انجمن کیا کیا

ادا ہوئی ہے کئی بار ترکِ عشق کی رسم
مگر ہے سر پہ وہی قرضِ جان و تن کیا کیا

نگاہِ بو الہوساں ہائے کیا قیامت ہے
بدل رہے ہیں گل ولالہ پیرہن کیا کیا

گزرگئے تو گزرتے رہے بہت خورشید
جو رنگ لائی تو لائی ہے اک کرن کیا کیا

قریب تھا کہ میں کارِ جنوں سے باز آؤں
کھنچی خیال میں تصویر کوہ کن کیا کیا

1964ء

عبید اللہ علیم ؔ