صفحات

جمعہ، 11 نومبر، 2016

46۔ تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ35۔36

46۔ تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ


تو اپنی آواز میں گم ہے میں اپنی آواز میں چپ
دونوں بیچ کھڑی ہے دنیا آئینۂ الفاظ میں چپ

اوّل اوّل بول رہے تھے خواب بھری حیرانی میں
پھر ہم دونوں چلے گئے پاتال سے گہرے راز میں چپ

خواب سرائے ذات میں زندہ ایک تو صورت ایسی ہے
جیسے کوئی دیوی بیٹھی ہو حُجرۂ رازو نیاز میں چپ

اب کوئی چھو کے کیوں نہیں آتا اُدھر سرے کا جیون انگ
جانتے ہیں پر کیا بتلائیں لگ گئی کیوں پرواز میں چپ

پھر یہ کھیل تماشہ سارا کِس کے لئے اور کیوں صاحب
جب اس کے انجام میں چُپ ہے جب اس کے آغاز میں چپ

نیند بھری آنکھوں سے چوما دیئےنے سورج کو اور پھر
جیسے شام کو اب نہیں جلنا کھینچ لی اس انداز میں چپ

غیب سمے کے گیان میں پاگل کتنی تان لگائے گا
جتنے سُر ہیں ساز سے باہر اس سے زیادہ ساز میں چپ

1979ء

عبید اللہ علیم ؔ


جمعرات، 10 نومبر، 2016

47۔ وہ میرا خواب اگر خواب کے برابر ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ37۔38

47۔ وہ میرا خواب اگر خواب کے برابر ہے


وہ میرا خواب اگر خواب کے برابر ہے
تو یعنی مہر بھی مہتاب کے برابر ہے

وفا کی بات کہاں بات تھی مروّت کی
سو اب یہ جنس بھی نایاب کے برابر ہے

کوئی نہیں ہے کہیں صرف میں ہی میں زندہ
یہ ذائقہ مجھے اسباب کے برابر ہے

خود اپنی قامتِ زیبا ہے میرا اِک اِک یار
ہر اِک رقیب کے احباب کے برابر ہے

طوافِ ذات میں جو شمع تھا وہ پروانہ
بُجھا تو شعلۂ بے تاب کے برابر ہے

جو عشق کھول نہ پائے قبائے ذات کے بند
زمانہ ساز ہے آداب کے برابر ہے

اگر ہوں کچّے گھروندوں میں آدمی آباد
تو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہے

شکستۂ ناؤ ہو اور لوگ بھی شکستہ ہوں
تو ایک لہر بھی گرداب کے برابر ہے

یہ ساحلوں سے خزانہ چُرانے والے لوگ
سمجھ رہے ہیں تہہِ آب کے برابر ہے

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ


48۔ تُمہارے بعد بھی کچھ دن ہمیں سہانے لگے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ39۔40

48۔ تُمہارے بعد بھی کچھ دن ہمیں سہانے لگے


تُمہارے بعد بھی کچھ دن ہمیں سہانے لگے
پھر اُس کے بعد اندھیرے دیئے جلانے لگے

چمک رہا تھا وہ چاند اور اس کی محفل میں
سب آنکھیں آئینے چہرے شراب خانے لگے

خلاء میں تھا کہ کوئی خواب تھا کہ خواہش تھی
کہ اس زمین کے سب شہر شامیانے لگے

نہ جانے کون سے سیّارے کا مکیں تھا رات
کہ یہ زمین و زماں سب مجھے پرانے لگے

فضائے شام، سمندر، ستارہ جیسے لوگ
وہ بادبان کھلے ، کشتیاں چلانے لگے

بس ایک خواب کی مانند یہ غزل میری
بدن سنائے اسے روح گنگنانے لگے

ہزاروں سال کے انساں کا تجربہ ہے جو شعر
تو پل میں کیسے کھلے وہ جسے زمانے لگے

سیاہ رات کی حد میں اگر نکل آئے
دیئے کے سامنے خورشید جھلملانے لگے

ہر اک زمانہ زمانہ ہے میرؔ صاحب کا
کہا جو ان نے تو ہم بھی غزل سنانے لگے

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ


بدھ، 9 نومبر، 2016

49۔ پل

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ41۔42

49۔ پل


سب چھاؤں دھوپ کی آنکھیں ہیں کچھ جلی ہوئیں کچھ بجھی ہوئیں
اِدھر اُدھر بس ایک دیا اور چپ چادر سی تنی ہوئی

باطن ظاہر، ظاہر باطن اصل میں ایک ہی لمحہ ہے
کچھ ہونےوالا ہو گزرا کچھ ہونے والا ہونا ہے

عکس بھی زندہ اور ہماری آوازیں بھی زندہ ہیں
اس مرنے سے کیا ہوتا ہے آگے ہم پائندہ ہیں

پیچھے کتنا رستہ چھوڑا آگے کتنا رستہ ہے
سمے میں بہتے آئے ہیں اور سمے میں بہتے رہنا ہے

اس سمے کے چھ پل بیت گئے اس سمے کا اِک پل باقی ہے
بس یہ اِک پل جو بیت گیا تو پھر ہستی آفاقی ہے

1980ء

عبید اللہ علیم ؔ


50۔ ایک میں بھی ہوں کلہ داروں کے بیچ

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ43۔44

50۔ ایک میں بھی ہوں کلہ داروں کے بیچ


ایک میں بھی ہوں کُلہ داروں کے بیچ
میرؔ صاحب کے پرستاروں کے بیچ

روشنی آدھی اِدھر آدھی اُدھر
اِک دیا رکّھا ہے دیواروں کے بیچ

میں اکیلی آنکھ تھا کیا دیکھتا
آئنہ خانے تھے نظّاروں کے بیچ

ہے یقیں مجھ کو کہ سیّارے پہ ہوں
آدمی رہتے ہیں سیّاروں کہ بیچ

کھا گیا انسان کو آشوبِ معاش
آگئے ہیں شہر بازاروں کے بیچ

میں فقیر ابنِ فقیر ابنِ فقیر
اور اسکندر ہوں سرداروں کے بیچ

اپنی ویرانی کے گوھر رولتا
رقص میں ہوں اور بازاروں کے بیچ

کوئی اس کافر کو اس لمحے سنے
گفتگو کرتا ہے جب یاروں کے بیچ

اہلِ دل کے درمیا ں تھے میؔر تم
اب سخن ہے شعبدہ کاروں کے بیچ

آنکھ والے کو نظر آئے علیمؔ
اِک محمد ؐمصطفےٰ ساروں کے بیچ

1978ء
 
عبید اللہ علیم ؔ


منگل، 8 نومبر، 2016

51۔ اب تو یوں خانۂ تنہائی میں محبوب آئے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ45۔46

51۔ اب تو یوں خانۂ تنہائی میں محبوب آئے


اب تو یوں خانۂ تنہائی میں محبوب آئے
جیسے مجذوب کے گھر دوسرا مجذوب آئے

اس سے کہنے کو گئے تھے کہ محبّت ہے بہت
اس کو دیکھا تو شکستہ دل و محجوب آئے

آگے کیا ہو یہ سخن آج تو یوں ہے جیسے
اپنے نام اپنا ہی لکّھا ہوا مکتوب آئے

ایک دربار کی تصویر میں کچھ اہلِ قلم
وقت کی آنکھ نے دیکھا کہ بہت خوب آئے

دُکھ سے پھر جاگ اُٹھی آنکھ ستارے کی طرح
اور سب خواب ترے نام سے منسوب آئے

ہم نے دل نذر کیا اہلِ محبت کے حضور
اُن نے قامت یہ بڑھایا ہے کہ مصلوب آئے

میں تری خاک سے لپٹا ہوا اے ارضِ وطن
ان ہی عشّاق میں شامل ہوں جو معتوب آئے

1980ء

عبید اللہ علیم ؔ


52۔ جب لفظ کبھی ادب لکھو گے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ47۔48

52۔ جب لفظ کبھی ادب لکھو گے


جب لفظ کبھی ادب لکھو گے
یہ لفظ مرا نسب لکھو گے

لکھا تھا کبھی یہ شعر تم نے
اب دُوسرا شعر کب لکھو گے

جتنا بھی قریب جاؤ گے تم
انساں کو عجب عجب لکھو گے

ہر لمحہ یہاں ہے ایک ’ہونا
کس بات کا کیا سبب لکھو گے

انسان کا ہو گا ہاتھ اس میں
اللہ کاجو غضب لکھو گے

جب رات کو نیند ہی نہ آئے
پھر رات کو کیسے شب لکھو گے

بچے کےبھی دل سے پو چھ لینا
کیا ہے وہ جسے طرب لکھو گے

صدیوں میں وہ لفظ ہے تمہارا
اک لفظ جو اپنا اب لکھو گے

میں اپنے وجود کا ہوں شاعر
جو لفظ لکھوں گا سب لکھو گے

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ