صفحات

اتوار، 22 جنوری، 2017

420۔ وہ میری ماں ہے اسے اس یقیں سے ملتا ہوں

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ614

420۔ وہ میری ماں ہے اسے اس یقیں سے ملتا ہوں


وہ میری ماں ہے اسے اس یقیں سے ملتا ہوں
میں جب بھی ملتا ہوں جھک کر زمیں سے ملتا ہوں

بلندیوں کا ثناخواں ہوں پستیوں کا امیں
میں آسماں سے اتر کر زمیں سے ملتا ہوں

وہ دیکھ لیتا ہے تصویر میرے اندر کی
میں آئینے سے نہیں ہم نشیں سے ملتا ہوں

وہ حرف و صوت کا قاتِل پکار کر بولا
میں ایک سانپ ہوں اور آستیں سے ملتا ہوں

اسی کا بھیجا ہوا ہوں اسی کے کہنے پر
جہاں پہ اترا ہوں مضطرؔ وہیں سے ملتا ہوں

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


ہفتہ، 21 جنوری، 2017

421۔ خدا کے واسطے آہستہ بولو

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ615

421۔ خدا کے واسطے آہستہ بولو


خدا کے واسطے آہستہ بولو
پرندے سو رہے ہیں آشیاں میں

فرشتے آ رہے ہیں فوج در فوج
نہ تھے یہ معجزے وہم و گماں میں

کناروں تک زمیں کے روشنی ہے
چڑھا ہے چاند اِمشب قادیاں میں

کھلی ہیں کھڑکیاں اور روشنی ہے
کوئی تو جاگتا ہے اس مکاں میں

مٹا جب فرق اچھے اور بُرے کا
''عدو جب بڑھ گیا شور و فغاں میں
نہاں ہم ہو گئے یارِ نہاں میں''

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


جمعہ، 20 جنوری، 2017

422۔ ہجر کی رات دن ہے فرقت کا

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ616

422۔ ہجر کی رات دن ہے فرقت کا


ہجر کی رات دن ہے فرقت کا
کوئی لمحہ نہیں ہے فرصت کا

چھُپ کے بہرِ سلام آیا ہے
ایک ادنیٰ غلام حضرت کا

تیری دلداریاں گنوں کیسے
نام لوں کیسی کیسی شفقت کا

میں تو گھائل ہوں روزِ اوّل سے
تیری صورت کا تیری سیرت کا

داہنے ہاتھ میں ہو فردِ عمل
وقت جب آئے میری رحلت کا

آسماں پر مقدمہ ہے پیش
میں ہوں امیدوار مُہلت کا

تیرے قدموں میں موت ہو میری
ملتمس ہوں میں اس عنایت کا

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


جمعرات، 19 جنوری، 2017

423۔ جڑیں گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ617

423۔ جڑیں گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں


جڑیں گہری ہیں اور شاخیں گھنی ہیں
یہ بوڑھے پیڑ قسمت کے دَھنی ہیں

نہ ڈھے جائیں کہیں ان بارشوں میں
بڑی مشکل سے دیواریں بنی ہیں

بہت شفّاف ہیں اندر سے یہ لوگ
کہ خالی ہاتھ ہیں دل کے غنی ہیں

ابھی آیا نہیں ہے وقتِ رخصت
ابھی کچھ روز سڑکیں ناپنی ہیں

عجب کیا ہے کہ ان میں جان پڑجائے
بڑے جتنوں سے تصویریں بنی ہیں

کسی طوفان کی ہیں پیش خیمہ
یہ سر پر بدلیاں سی جو تنی ہیں

یہ رنگا رنگ کے ہیں پھول مضطرؔ
سپید و سُرخ ہیں اور کاسنی ہیں

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


بدھ، 18 جنوری، 2017

424۔ نہیں آنسو ہی چشمِ تر سے آگے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ618-619

424۔ نہیں آنسو ہی چشمِ تر سے آگے


نہیں آنسو ہی چشمِ تر سے آگے
عجب منظر ہے اس منظر سے آگے

محمدؐ مصطفٰی ہی مصطفٰی ہیں
وہی بہتر ہیں ہر بہتر سے آگے

یہ در پہلا بھی ہے اَور آخری بھی
نہیں ہے کوئی در اس در سے آگے

مجھے اذنِ حضوری مل گیا ہے
میں خود پہنچوں گا نامہ بر سے آگے

رہِ صدق و صفا میں تیرےؐ خادم
زہے قسمت کہ ہیں اکثر سے آگے

یہ طوفانِ بلائے ناگہانی
گزر جانے کو ہے اب سر سے آگے

یہیں پر روک لیجے گا یہ ریلا
ترا گھر بھی ہے میرے گھر سے آگے

یہ کیسا شور و غل برپا ہے امشب
ہمارے گھر کے بام و در سے آگے

محبت کے کھلے ہیں پھول ہر سو
عجب موسم ہے چشمِ تر سے آگے

ادب گاہِ محبّت میں کھڑے ہیں
سبھی چھوٹے بڑے مضطرؔ سے آگے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


منگل، 17 جنوری، 2017

425۔ کیا ہمیں آپ بھی سرکار نہیں چاہتے ہیں

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ620

425۔ کیا ہمیں آپ بھی سرکار نہیں چاہتے ہیں


کیا ہمیں آپ بھی سرکار نہیں چاہتے ہیں
یا فقط مفتیء دربار نہیں چاہتے ہیں

شام ہونے کو ہے اور منزلِ مقصود ہے دور
عشرتِ سایۂ دیوار نہیں چاہتے ہیں

گھپ اندھیرا ہے مگر عقل کے اندھے اب بھی
جانے کیوں صبح کے آثار نہیں چاہتے ہیں

آپ کے دل میں ہے جو بات وہی تو ہے بات
آپ جس بات کا اقرار نہیں چاہتے ہیں

کس لئے عشق کے اظہار سے خائف ہیں آپ
آپ کیوں عشق کا اظہار نہیں چاہتے ہیں

دعوٰیِ عشق اگر سچا ہے پھر کیوں احباب
رقصِ بسمل سرِبازار نہیں چاہتے ہیں

لذتِ درد میں مضطرؔ نہ افاقہ ہو جائے
یہ دوا شہر کے بیمار نہیں چاہتے ہیں

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


پیر، 16 جنوری، 2017

426۔ نہ اور جب انتظار اٹّھا

اشکوں کے چراغ ایڈیشن سوم  صفحہ 621

426۔ نہ اور جب انتظار اٹّھا


نہ اور جب انتظار اٹّھا
تو دور افق سے غبار اٹّھا

یہ شور کیا دل کے پار اٹّھا
جو دل پہ تھا اختیار اٹّھا

نہ کر سکے عقل سے لڑائی
نہ عشق پر انحصار اٹّھا

وہ رات دن مسکرانے والا
نہ جانے کیوں بے قرار اٹّھا

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی