صفحات

جمعرات، 3 مارچ، 2016

118۔ اے حسن کے جادو مجھے دیوانہ بنا دے

کلام محمود صفحہ179

118۔ اے حسن کے جادو مجھے دیوانہ بنا دے


اے حسن کے جادو مجھے دیوانہ بنا دے
اے شمعِ رخ اپنا مجھے پروانہ بنا دے

ہروقت مئےعشق یہاں سے رہے بٹتی
ویرانۂ دل کومرے میخانہ بنا دے

مجھ کو تری مخمور نگاہوں کی قسم ہے
اک بار ادھردیکھ کےمستانہ بنا دے

کردے مجھےاسرارِمحبت سے شناسا
دیوانہ بنا کرمجھے فرزانہ بنا دے

اُس الفت ِناقص کی تمنا نہیں مجھ کو
جو دل کو مرے گوھر یکتا نہ بنادے

لیں جائزۂِ عشق مرے عشق سے عاشق
دل کو مرے عُشّاق کا پیمانہ بنا دے

جو ختم نہ ہوایسا دکھاجلوۂ تاباں
جو مر نہ سکےمجھ کو وہ پروانہ بنا دے

دل میں مرے کوئی نہ بسے تیرے سوااور
گرتُو نہیں بستااسے ویرانہ بنا دے

ابلیس کا سرپاؤں  سے تو اپنے مسل دے
ایسا نہ ہو پھر کعبہ کو بت خانہ بنا دے

اخبار الفضل جلد 32 ۔ 30دسمبر 1944ء

119۔ کَمْ نَوَّرَ وَجْہَ النَّبِیِّ صَحَابُہٗ

کلام محمود صفحہ180

119۔ کَمْ نَوَّرَ وَجْہَ النَّبِیِّ صَحَابُہٗ


کَمْ نَوَّرَ وَجْہَ النَّبِیِّ صَحَابُہٗ
کَالْفُلْکِ ضَآءَ سَطْحُھَا بِنُجُوْمِھَا
آپؐ کے صحابہنے نبی کریم ؐ کا چہرہ کس قدر منور کردیا۔جیسے سطح سماوی اپنے ستاروں سے روشن ہوجاتی ہے۔

کَمْ تَنْفَعُ الثَّقَلَیْنِ تَعْلِیْمَاتُہٗ
قَدْ خُصَّ دِیْنُ مُحَمَّدٍ بِعُمُوْمِھَا
آپؐ کےعلوم جن وانس کو کس قدر نفع دے رہے ہیں۔یہ علوم سارے کے سارے  دین ِمحمدیؐ سے ہی خاص ہیں۔

ظَھَرَتْ ھِدَایَۃُ رَبِّنَا بِقُدُوْمِہٖ
زَالَتْ ظَلَامُ الدَّھْرِ عِنْدَ قُدُوْمِھَا
ہمارے رب کی ہدایت آپ ؐکے آنے سے ظاہر ہوئی۔ہدایت کے آنے سے زمانہ بھر کا اندھیرا دورہوگیا۔

جَآءَ بِتِرْیَاقٍ مُّزِیْلٍ سِقَامَنَا
غَابَتْ غَوَایَتُنَا بِکُلِّ سُمُوْمِھَا
ایسا تریاق لائے جو ہماری بیماریاں دور کرنے والا تھا۔ہماری گمراہی اپنے تمام زہروں سمیت چھپ گئی۔

نَزَلَتْ مَلٰئِکَۃُ السَّمَآءِ لِنَصْرِہٖ
قَدْ فَاقَتِ الْاَرْضُ سمًی بِظُلُوْمِھَا
آپؐ کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے اترے۔اپنی چمک دمک سے زمین آسمان پر فوقیت لے گئی۔

رَدَّ عَلَی الْاَرْضِ کَنُوْزًا صِحَابُہٗ
فُتِنَ الْیَھُوْدُ بِبَقْلِھَا وَ بِفُوْمِھَا
آپؐ کے صحابہ نے زمین کو اس کے خزانے واپس کردئیے۔مگر یہود اپنی ترکاریوں اور لہسن کے فتنہ  میں پڑگئے۔

رُفِعَتْ بُیُوْتُ الْمُؤْمِنِیْنَ رَفَاعَۃً
خُسِفَ الْبِلَادُ بِفُرْسِھَا وَ بِرُوْمِھَا
مرتبہ میں مومنوں کے گھر بلند ہوگئے ۔فارس اور روم کے شہروں کے شہر ذلیل ہوگئے۔

دَخَلَتْ صُفُوْفَ عِدًی بِغَیْرِ رَوَیَّۃٍ
فَازَتْ جَمَاعَۃُ صَحْبِہٖ بِقُحُوْ مِھَا
دشمنوں کی صفوں میں بے دھڑک جا گھسے۔آپؐ کے صحابہ کی جماعت باوجود کمزور ہونے کے کامیاب ہوگئی۔

مُنِحَ الْعُلُوْمَ صَغِیْرَھَا وَ کَبِیْرَھَا
صَبَّتْ سَمَآءَ الْعِلْمِ مَآءَ غُیُوْمِھَا
چھوٹے بڑے سب ہی کو علوم بخشے۔علم کے آسمان نے علم کے بادلوں کا پانی بہا دیا۔

فَاضَتْ ضَفُوْفُ الْکَوْثَرِ شَوْقًا لَّہٗ
وَعَدَتْ اِلَیْہِ الْجَنَّۃُ بِکُرُوْمِھَا
کوثر کے پانی بہہ پڑے ۔ان کے اشتیاق کی وجہ سے ،جنت دوڑی آپؐ کی طرف انگوروں کو لےکر۔

اخبار الفضل جلد 33۔ 4 جنوری 1945ء

120۔ تعریف کے قابل ہیں یارب تیرے دیوانے

کلام محمود صفحہ181

120۔ تعریف کے قابل ہیں یارب تیرے دیوانے


تعریف کے قابل ہیں یارب ترے دیوانے
آباد ہوئے جن سے دنیا کے ہیں ویرانے

کب پیٹ کے دھندوں سے مسلم کو بھلافرصت
ہے دین کی کیا حالت یہ اس کی بلا جانے

جو جاننے کی باتیں تھیں اُن کو بھلایا ہے
جب پوچھیں سبب کیا ہے کہتے ہیں خدا جانے

سرمستی سے خالی ہے دل عشق سے عاری ہے
بیکار گئے ان کے سب ساغروپیمامنے

خاموشی سی طاری ہے مجلس کی فضاؤں پر
فانوس ہی اندھا ہے یا اندھے ہیں پروانے

فرزانوں نے دنیا کے شہروں کو اجاڑا ہے
آباد کریں گےاب دیوانے یہ ویرانے

ہوتی نہ اگرروشن وہ شمعِ رخِ انور
کیوں جمع یہاں ہوتے سب دنیا کے پروانے

ہے ساعتِ سعد آئی اسلام کی جنگوں کی
آغاز تو میں کردوں انجام خدا جانے

اخبار الفضل جلد 34 ۔ 2جنوری 1946ء

121۔ معصیت و گناہ سے دل مرا داغ دار تھا

کلام محمود صفحہ182

121۔ معصیت و گناہ سے دل مرا داغ دار تھا


معصیت و گناہ سے دل مرا داغدار تھا
 پھر بھی کسی کے وصل کے شوق میں بیقرار تھا

بے عمل وبے خطا شعار، بیکس و بےوقار تھا
پر میری جان یہ تو سوچ کن میں مرا شمار تھا

ہجر میں وصل کا مزا پالیا میں نے ہمنشیں
لب پہ تو تھا نہیں ،مگر آنکھ میں اُن کی پیار تھا

سوؤں تو تجھ کو دیکھ کر جاگوں تو تجھ پہ ہو نظر
موت سے تھا کسےدریغ اس کا ہی انتظار تھا

آہِ غریب کم نہیں غیظِ شہ جہاں سےکچھ
جس سے ہوا جہاں تباہ دل کا مرے غبار تھا

شکوہ کا کیا سوال ہےان کاعتاب بھی ہے بے مہر
منہ سے میں دادخواہ تھادل میں مَیں شرمسار تھا

دیر کے بعد وہ ملےاٹھ کے ملے کسے سکت
دل میں خوشی کی لہر تھی آنکھ سے اشکبار تھا

شکرِخد اگزر گئی نازونیاز میں ہی عمر
مجھ کو بھی ان سے عشق تھا ان کو بھی مجھ سے پیار تھا

اخبار الفضل جلد 34۔3جنوری1946ء

بدھ، 2 مارچ، 2016

122۔ ہم نشیں تجھ کو ہے اک پرامن منزل کی تلاش

کلام محمود صفحہ183

122۔ ہم نشیں تجھ کو ہے اک پرامن منزل کی تلاش


ہمنشیں تجھ کو ہے اک پرامن منزل کی تلاش
مجھ کو اک آتش فشاں پرولولہ د ل کی تلاش


سعئ پیہم اور کنج ِعافیت کا جوڑ کیا
مجھ کوہے منزل سے نفرت تجھ کو منزل کی تلاش

ڈھونڈتی پھرتی تھی شمعِ نور کو محفل کبھی
اب تو ہے خود شمع کودنیا میں محفل کی تلاش

یا تو سرگردا ن تھادل جستجوئے یار میں
یا ہے اس یارِ ازل کو خود مرے د ل کی تلاش

میں وہ مجنوں ہوں کہ جس کے دل میں ہے گھر یار کا
اورہوگا وہ کوئی جس کوہے مَحمَل کی تلاش

گلشنِ عالم کی رونق ہے فقط انسان سے
گل بنانے ہوں اگر تُونے توکرگِل کی تلاش

اس رخِ روشن سے مٹ جاتی ہیں سب تاریکیاں
عاشقِ سفلی کو ہے کیوں اس میں اک تل کی تلاش

آسمانی میں ،عدو میرا زمینی ،اس لیے
میں فلک پر اڑ رہا ہوں اس کو ہے بل کی تلاش

اخبار الفضل جلد34۔27اپریل1946ء

123۔ اللہ کے پیاروں کو تم کیسے برا سمجھے

کلام محمود صفحہ184

123۔ اللہ کے پیاروں کو تم کیسے برا سمجھے


اللہ کے پیاروں کو تم کیسے برا سمجھے
خاک ایسی سمجھ پر ہے سمجھے بھی تو کیا سمجھے

شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے
احمدؐکو محمدؐسے تم کیسے جدا سمجھے

دشمن کو بھی  جومومن کہتا نہیں وہ باتیں
تم اپنے کرم فرماکے حق میں روا سمجھے

جوچال چلے ٹیڑھی جو بات کہی الٹی
بیماری اگر آئی تم اس کو شفا سمجھے

لعنت کوپکڑ بیٹھے انعام سمجھ کرتم
حق نے جو ردا بھیجی تم اس کوردٰی سمجھے

کیوں قعر مذلت میں گرتےنہ چلے جاتے
 تم بوم کے سائے کو جب ظلِ ہما سمجھے

انصاف کی کیا اس سے امید کرے کوئی
بےدادجو ظالمِ آئینِ وفا سمجھے

غفلت تری اے مسلم کب تک چلی جائے گی
یا فرض کو تُوسمجھے یا تجھ سے خدا سمجھے

اخبار الفضل جلد34۔28دسمبر1946ء

124۔ دردِ نہاں کا حال کسی کو سنائیں کیا

کلام محمود صفحہ185

124۔ دردِ نہاں کا حال کسی کو سنائیں کیا


دردِ نہاں کا حال کسی کو سنائیں کیا
طوفان اٹھ رہا ہے جو دل میں بتائیں کیا

کچھ لوگ کھا رہے ہیں غمِ قوم صبح وشام
کچھ صبح و شام سوچتے رہتے ہیں کھائیں کیا

جس پیار کی نگہ سے ہمیں دیکھتا ہے وہ
اس پیار کی نگاہ سے دیکھیں گی مائیں کیا

جام ِشراب و سازِ طرب رقصِ پُرخروش
دنیا میں دیکھتا ہوں میں یہ دائیں بائیں کیا

دنیا ہے ایک زالِ عمرخوردہ و ضعیف
اس زال زِشت رو سے بھلا دل لگائیں کیا

دامن تہی ہے،فکر مشوش ،نگہ غلط
آئیں توتیرے در پہ مگرساتھ لائیں کیا

حرص وہواوکبروتغلب کی خواہشات
چمٹی ہوئی ہیں دامنِ دل سے بلائیں کیا

اپنا ہی سب قصور ہے اپنی ہی سب خطا
الزام اُن پہ ظلم و جفا کا لگائیں کیا

اخبار الفضل جلد 1۔28دسمبر1947ء