صفحات

منگل، 27 ستمبر، 2016

167۔ آؤ تم ہی کرو مسیحائی

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ127۔128

167۔ آؤ تم ہی کرو مسیحائی


آؤ تم ہی کرو مسیحائی
اب بہلتی نہیں ہے تنہائی

تم گئے تھے تو ساتھ لے جاتے
اب یہ کس کام کی ہے بینائی

ہم کہ تھے لذّتِ حیات میں گم
جاں سے اِک موج ِ تشنگی آئی

ہم سفر خوش نہ ہو محبّت سے
جانے ہم کس کے ہوں تمنّائی

کوئی دیوانہ کہتا جاتا تھا
زندگی یہ نہیں مرے بھائی

اوّلِ عشق میں خبر بھی نہ تھی،
عزّتیں بخشتی ہے رسوائی

کیسے پاؤ مجھے جو تم دیکھو
سطح ِ ساحل سے میری گہرائی

جن میں ہم کھیل کر جوان ہوئے
وہی گلیاں ہوئیں تماشائی

1972ء

عبید اللہ علیم ؔ


168۔ آئیڈیل

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ129

168۔ آئیڈیل


آئیڈیل

میری آنکھوں میں کوئی چہرہ، چراغِ آرزو
وہ مرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھی
ایسا موسم، جیسے مے پی کر چھلک جاؤں کبھی
یا کوئی ہے خواب
جو دیکھا تھا لیکن پھر مجھے
یاد کرنے پر بھی یاد آیا نہ تھا
دل یہ کہتا ہے وہی ہو بہو
اور سامنے پایا نہ تھا
گفتگو اُس سے ہے اور ہے روبرو
خواب ہو جائے نہ لیکن گفتگو
میری آنکھوں میں کوئی چہرہ، چراغِ آرزو

1969ء

عبید اللہ علیم ؔ


169۔محسوس یہ ہوتا ہے کوئی ہر لمحہ خلوت وجلوت میں

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ130

169۔محسوس یہ ہوتا ہے کوئی ہر لمحہ خلوت وجلوت میں


محسوس یہ ہوتا ہے کوئی ہر لمحہ خلوت وجلوت میں
ہے ساتھ مرے اور پوچھتا ہے اب حال تمھارا کیسا ہے

عبید اللہ علیم ؔ


پیر، 26 ستمبر، 2016

170۔ گیت

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ131۔132

170۔ گیت


گیت

گھر کے چراغ روشن ہیں آج اہل ِمحبت کےنام
کتنی حسین میری زمین میرے لہو کا سلام

میری وفا کا شعلہ جلتا رہے صبح وشام
میرے بدن کی مٹی آئے سدا تیرے کام
گھر کے چراغ روشن ہیں آج اہلِ محبت کا نور
اس کی فضاؤں میں ہے موج ِ بہاراں سرور
گھر کے چراغ روشن ہیں آج اہلِ محبت کے نام
میرے شہیدوں کا خوں ارضِ وطن کا نکھار
گھر کے چراغ روشن ہیں آج اہلِ محبت کے نام
کتنی حسین میری زمین میرے لہو کا سلام
گھر کے چراغ روشن ہیں آج اہلِ محبت کے نام

1971ء

عبید اللہ علیم ؔ


171۔ جی جان سے ہے ارض وطن مان گئے ہم

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ133۔134

171۔ جی جان سے ہے ارض وطن مان گئے ہم


جی جان سے اے ارض وطن مان گئے ہم
جب تو نے پکارا تیرے قربان گئے ہم

جو دوست ہوا اُس پہ محبت کی نظر کی
دشمن پہ تیرے صورت طوفان گئے ہم

ہم ایسے وفادار و پرستار ہیں تیرے
جو تُو نے کہا تیرا کہا مان گئے ہم

مرہم ہیں تیرے ہونٹ مسیحا ہے تیری زلف
ہم موجہء گل تھے کہ پریشان گئے ہم

افسوں کوئی چلنے نہ دیا حیلہ گراں کا
ہر شکل عدو کی تیرے پہچان گئے ہم

خاک شہداء نے تیرے پرچم کو دعا دی
لہرا کے جو پرچم نے کہا جان گئے ہم

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


172۔ ابھی نہ کوئی پیمبر نہ میں کوئی اوتار

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ135۔136

172۔ ابھی نہ کوئی پیمبر نہ میں کوئی اوتار


ابھی نہ کوئی پیمبر نہ میں کوئی اوتار
اے مری روشنیء طبع مجھ کو اور سنوار

نشاط ِ رنج ہو رنج ِ نشاط ہو کچھ ہو
حیات رقص ہے وحشت کا اور دائرہ وار

اُسی کا نام محبت ہوا زمانے میں
وہ اک نشہ کہ سیکھا نہیں ہے جس نے اُتار

میں اعتراف ِ شکست بہار کر لوں گا
ذرا اڑے تو سہی بوئے زلف ِ عنبر یار

رہ وفا میں چلو پھر سے اجنبی بن جائیں
کہ ڈھل رہا ہے پرانی محبتوں کا خمار

اس ایک قطرہ خوں کا ہے نام شعر علیم
جو دل میں ہو تو خزاں اور ٹپک پڑے تو بہار

1965ء

عبید اللہ علیم ؔ


اتوار، 25 ستمبر، 2016

173۔ حادثہ گراں گزراآپ سے تصادم کا

یہ زندگی ہے ہماری۔  چاند چہرہ ستارہ آنکھیں صفحہ137۔138

173۔ حادثہ گراں گزراآپ سے تصادم کا


حادثہ گراں گزراآپ سے تصادم کا
زندگی پہ ہوتا ہے اب گماں جہنم 1کا

روپ موسمِ گل نے اور خزاں نے دھارے ہیں
ایک میری آہوں کا اک ترے تبسم کا

لوگ اپنے دل کی بات ڈھونڈتے ہیں نغموں میں
صرف اک بہانہ ہے ساز کا ترنم کا

ہم سے سادہ لوگ اکثرآگئے ہیں دھوکے میں
کتنا دل نشیں لہجہ ہے ترے تکلم کا

تیری یاد تیرا غم اور شب کا سناٹا
زخمِ دل کی صورت ہے روپ ماہ وانجم کا

کیوں علیم ہر لمحہ کھوئے کھوئے رہتے ہو
کس سے دل ہی دل میں ہے سلسلہ تکلم کا

1959ء

عبید اللہ علیم ؔ