صفحات

جمعہ، 21 اکتوبر، 2016

98۔ سمجھنے والے سمجھ لیں گے استعارۂ ذات

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ139۔140

98۔ سمجھنے والے سمجھ لیں گے استعارۂ ذات


سمجھنے والے سمجھ لیں گے استعارۂ ذات
کھلا ہے قِبلا نما پرچم ستارۂ ذات

چھلک کے جائے تو جائے کہاں وجود مرا
ہر ایک سمت ہے پھیلا ہوا کنارۂ ذات

بس ایک عشق تجلّی دکھائے جاتا ہے
نکل رہا ہے مسلسل مرا شمارۂ ذات

وہ کم نظر اسے آشوبِ ذات کہتے ہیں
کہ ایک ذات تلک ہے مرا گزارۂ ذات

بنانے والے نے اس شان سے بنایا اُسے
جہاں سے دیکھو نظر آئے ہے منارۂ ذات

ہے ایک شمع سے روشن یہ آئینہ خانہ
تو کیاہے آئینہ خانہ بجز نظارۂ ذات

اُتر رہا ہے مرے قلب پر وہ عالمِ حرف
کہ جیسے وحیٔ خفی ہو مرا شرارۂ ذات

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ


99۔ ملتا جلتا تھا حال میر ؔ کیساتھ

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ141۔143

99۔ ملتا جلتا تھا حال میر ؔ کیساتھ


ملتا جلتا تھا حال میر ؔ کیساتھ
میں بھی زندہ رہا ضمیر کیساتھ

ایک نمرود کی خدائی میں
زندگی تھی عجب فقیر کے ساتھ

آنکھ مظلوم کی خد ا کی طرف
ظلم اِک ظلمتِ کثیر کے ساتھ

جرم ہے اب مری محبت بھی
اپنے اس قادرو قدیر کے ساتھ

اُس نے تنہا کبھی نہیں چھوڑا
وہ بھی زنداں میں ہے اسیر کے ساتھ

کس میں طاقت وفا کرے ایسی
اپنے بھیجے ہوئے سفیر کے ساتھ

سلسلہ وار ہے وہی چہرہ
عالمِ اصغر و کبیر کے ساتھ

آنے والا ہے اب حساب کا دن
ہونے والا ہے کچھ شریر کے ساتھ

تیرے پیچھے ہے جو قضا کی طرح
کب تلک جنگ ایسے تیر کے ساتھ

شب دعاؤں میں تر بتر میری
صبح اِک خوابِ دلپذیر کے ساتھ

اہل دل کیوں نہ مانتے آخر
حرف روشن تھا اس حقیر کے ساتھ

1985ء

عبید اللہ علیم ؔ


جمعرات، 20 اکتوبر، 2016

100۔ ہے شعر لفظ مرا لفظ اِ ک کہانی ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ144

100۔ ہے شعر لفظ مرا  لفظ اِ ک کہانی ہے


ہے شعر لفظ مرا  لفظ اِ ک کہانی ہے
کبھی ملو تمہیں تازہ غزل سنانی ہے

مزا ہے آج بھی زندہ چراغ بجھنے کا
وہی دیئے سے جلاتی ہوئی جوانی ہے

عبید اللہ علیم ؔ


101۔ زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لئے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ145۔147

101۔ زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لئے


زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لئے
تو آسمان سے اُترا خدا ہمارے لئے

اُنہیں غرور کے رکھتے ہیں طاقت و کثرت
ہمیں یہ ناز بہت ہے خدا ہمارے لئے

تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے
وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لئے

بس ایک لَو میں اسی لَو کے گرد گھومتے ہیں
جلا رکھا ہے جو اس نے دیا ہما رے لئے

وہ جس پہ رات ستارے لئے اترتی ہے
وہ ایک شخص دُعا ہی دُعا ہمارے لئے

وہ نور نور دمکتا ہوا سا اِک چہرہ
وہ آئینوں میں حیا ہی حیا ہمارے لئے

درُود پڑھتے ہوئے اس کی دید کو نکلیں
تو صبح پھول بچھائے صبا ہمارے لئے

عجیب کیفیتِ جذب و حال رکھتی ہے
تمہارے شہر کی آب و ہوا ہمارے لئے

دیئے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے
تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لئے

زمین ہے نہ زماں نیند ہے نہ بیداری
وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لئے

سخن وروں میں کہیں ایک ہم بھی تھے لیکن
سخن کا اور ہی تھا ذائقہ ہمارے لئے

1985ء

عبید اللہ علیم ؔ


102۔ ابھی خریدلیں دنیا کہاں کی مہنگی ہے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ148

102۔ ابھی خریدلیں دنیا کہاں کی مہنگی ہے


ابھی خریدلیں دنیا کہاں کی مہنگی ہے
مگر ضمیر کا سودا برا سا لگتا ہے

عبید اللہ علیم ؔ


بدھ، 19 اکتوبر، 2016

103۔ آئینہ

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ149

103۔ آئینہ


آئینہ

میں آئینہ ہوں
اور ہر آنے والے کو وہی چہرہ دکھاتا ہوں
جو میرے سامنے لائے
مگر اب تھک گیا ہوں
چاہتا ہوں
کوئی مجھ کو اس طرح دیکھے
کہ چکنا چور ہو جاؤں

1975ء

عبید اللہ علیم ؔ


104۔ بناؤ طاق گڑیوں کے لئے کچھ

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ150

104۔ بناؤ طاق گڑیوں کے لئے کچھ


بناؤ طاق گڑیوں کے لیے کچھ
تمہارے گھر میں بھی آئی ہے لڑکی

سمندر اس کے سینے سے بہت کم
سمندر سے بھی کچھ گہری ہے لڑکی

عبید اللہ علیم ؔ