صفحات

ہفتہ، 29 اکتوبر، 2016

74۔ یہ خواب ہے تو کوئی اصل ِ خواب ہوگا ہی

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ92

74۔ یہ خواب ہے تو کوئی اصل ِ خواب ہوگا ہی


یہ خواب ہے تو کوئی اصل ِ خواب ہوگا ہی
ہر اک سوال کا آخر جواب ہو گا ہی

عبید اللہ علیم ؔ


75۔ منظرِ ہفت سما آنکھ میں جب خوب آیا

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ93۔94

75۔ منظرِ ہفت سما آنکھ میں جب خوب آیا


منظرِ ہفت سما آنکھ میں جب خوب آیا
شور عالم میں ہوا پھر کوئی مجذوب آیا

یہ زمیں غیر کو آباد نہیں کرتی ہے
جب بھی اس دل میں آیا تو کوئی محبوب آیا

اتنا دنیا  میں کہاں تھا قدِ بالا وہ شخص
ہم تو عاشق ہوئے جب سامنے مصلوب آیا

اس میں کیا ہے نہیں معلوم ، مگر دیکھتے ہیں
جو گیا اس کی طرف اس سے ہی منسوب آیا

کھل گئی آنکھ مگر خواب نہ ٹوٹا پھر بھی
کوئی بتلائے کہ یہ عاشق ہے کہ محبوب آیا

1979ء

عبید اللہ علیم ؔ


جمعہ، 28 اکتوبر، 2016

76۔ اپنا احوال سنا کر لے جائے

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ95۔98

76۔ اپنا احوال سنا کر لے جائے


اپنا احوال سنا کر لے جائے
جب مجھے چاہے منا کر لے جائے

میں نہ جاؤں جو وہاں تو مجھ کو
میری تنہائی اٹھا کر لے جائے

وہ مجھے بھول گیا ہے شاید
یاد آجاؤں تو آکر لے جائے

ہوں خفا اس سے مگر اتنا نہیں
خود نہ جاؤں گا بلا کر لے جائے

خالی ہاتھوں کو ملے گی خوشبو
جب ہوا چاہے چرا کر لے جائے

در خزانے کا کہیں بند نہیں
یہ خزانہ  کوئی آکر لے جائے

دھوپ  میں بیٹھوں تو ساتھی میرا
اپنے سائے میں اٹھا کر لے جائے

تجھ کو بھی کوچۂ عشّاقاں میں
اپنے مولا سے دعا کر ،لے جائے

کوئی قاتل نہیں گزرا ایسا
جس کو تاریخ بچا کر لے جائے

اِک دیا ایسا بھی دیکھا میں نے
ظلمتِ شب کو ہٹا کر لے جائے

کون محبوب ہوا ہے ایسا
اپنے عاشق کو بلا کر لے جائے

پھر سے آجائے کوئی چپکے سے
کہیں باتوں میں لگا کر لے جائے

اس کے ہمراہ چلا جاتا ہوں
جو مرے دل کو دکھا کر لے جائے

کوئی عیسیٰ مرے معبود کہ جو
تیرے مردوں کو جِلا کر لے جائے

ایسی دیوانگی و حیرانی
آئینہ کوئی دکھا کر لے جائے

سامنے سب کے پڑی ہے دنیا
ذات میں جو بھی سما کر لے جائے

ایسے ملتا نہیں مٹی کو دوام
بس خدا جس کو بنا کر لے جائے

ہو سخن ور کوئی ایسا پیدا
جو سخن میرا چرا کر لے جائے

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ


77۔ ملے ہو تم تو بچھڑ کر اداس مت کرنا

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ99۔100

77۔ ملے ہو تم تو بچھڑ کر اداس مت کرنا


ملے ہو تم تو بچھڑ کر اداس مت کرنا
کسی جدائی کی ساعت کا پاس مت کرنا

محبتیں تو خود اپنی اساس ہوتی ہیں
کسی کی بات کو اپنی اساس مت کرنا

کہ برگ برگ بکھرتا ہےپھول ہوتے ہی
برہنگی کو تم اپنا لباس مت کرنا

بلند ہو کہ ہی ملنا جہاں تلک ملنا
اس آسماں کو زمیں پر قیاس مت کرنا

جو پیڑ ہو تو زمیں سے ہی کھینچنا پانی
کہ ابر آئے گا کوئی یہ آس مت کرنا

یہ کون لوگ ہیں کیسے یہ سربراہ ہوئے
خدا کو چھوڑ کر ان کے سپاس مت کرنا

1978ء

عبید اللہ علیم ؔ


78۔ اگلی محبتوں کے فسانے کہاں تلک

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ101۔102

78۔ اگلی محبتوں کے فسانے کہاں تلک


اگلی محبتوں کے فسانے کہاں تلک
گزرے ہوئے گزاروں زمانے کہاں تلک

آئے ہو تم تو اب نئے خواب و خیال دو
لکھوں وہی میں لفط پرانے کہاں تلک

میرے لہو میں جن کا کوئی ذائقہ نہیں
دیکھوں وہی میں خواب سہانے کہاں تلک

ہر روز ایک عشق نیا چاہتا ہے دل
بولوں میں جھوٹ سچ کے بہانے کہاں تلک

ایسی زمیں جس کا کوئی آسماں نہیں
ایسی زمیں کے گاؤں ترانے کہاں تلک

اک نام ہے کہ جس کے بنے ہیں ہزار نام
روشن رہے وہ نام نہ جانے کہاں تلک

آؤ کہ ان میں پھر کوئی چہرہ اتار لیں
ترسیں گے اب یہ آئینہ خانے کہاں تلک

دُکھتا ہوں میں کہ ہے ہوسِ آدمی بہت
اُگلے گی یہ زمیں خزانے کہاں تلک

کہتا ہے مجھ سے لکھا ہوا میرا حرف حرف
سچّا ہوں میں تو کوئی نہ مانے کہا ں تلک

1975ء

عبید اللہ علیم ؔ


جمعرات، 27 اکتوبر، 2016

79۔ کبھی ملیں پھر

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ103۔104

79۔ کبھی ملیں پھر


کبھی ملیں پھر

اُسی طرح
اُسی جگہ
اُنھی لوگوں
اُنھی گلیوں، بازاروں میں
اُنھی لمحوں میں
اور اُنھی لمحوں کی لذّت میں
آئینہ وار
اِک عکس سے دوسرا عکس لپٹتا جائے
وہی خوش گمانیوں کے چاند
وہی بد گمانیوں کے بھنور
وہی مدّو جزر رفاقتوں کے
وہی عذاب رقابتوں کے
میں کسی سے کوئی کہانی کہوں
تم کسی سے کوئی کہانی کہو
اور اصل میں ایک کہانی ہو
جو اپنی ہو
وہیں ملیں پھر اُسی طرح اُسی جگہ

عبید اللہ علیم ؔ


80۔ آغاز کرو بدن سے اور پھر

یہ زندگی ہے ہماری۔  ویراں سرائے کا دیا صفحہ105۔106

80۔ آغاز کرو بدن سے اور پھر


آغاز کرو بدن سے اور پھر
جاں تک میری جاں نچوڑ جاؤ

یہ کیا کہ ملو تو ایک پل کو
صدیوں میں اکیلا چھوڑ جاؤ

رستوں میں قدم قدم ملوں گا
تم عشق کے جس بھی موڑ جاؤ

آئینہ پگھل کہ جڑ رہا ہے
آؤ مجھے پھر سے توڑ جاؤ

میں خواب ہوں اصل ڈھونڈتا ہوں
تم اصل سے خواب جوڑ جاؤ

1980ء

عبید اللہ علیم ؔ