صفحات

جمعہ، 20 مئی، 2016

37۔ رسولِ قادیانی

بخار دل صفحہ101۔105

37۔ رسولِ قادیانی


مِرے ہادی! رسولِ قادیانی
مِرے مہدی! رسولِ قادیانی

تِری دعوت پیام زندگی ہے
مِرے مُحيٖ رسولِ قادیانی

جزاک اللّٰہ فی الدارین خیرا
مِرے ساقی! رسولِ قادیانی

بھٹکتوں کو خدا تک کھینچ لایا
مِرے داعی! رسولِ قادیانی

یہی ہر دم دعا رہتی ہے لب پر
مِرے قُدسی! رسولِ قادیانی

تِرے کوچے میں گزرے زِندگانی
مِرے جانی رسولِ قادیانی

تِرے انوار سے روشن جہاں ہے
ترا فیضان بحرِ بیکراں ہے

تِری تعلیم کی حکمتِ عیاں ہے
تِری تبلیغ مشہورِ زَماں ہے

تِرا روضہ ہے یا باغِ جناں ہے
تِرا مرکز ہے یا دارُالاَماں ہے

تِری اولاد رحمت کا نِشاں ہے
کوئی ساقی کوئی پِیر مُغاں ہے

تِرا مدّاح خَلّاقِ جہاں ہے
کہ تُو اِسلام کی رُوح و رواں ہے

ہر اک جانب یہی شور و فُغاں ہے
''خبر لے اَے مسیحا تو کہاں ہے''

تجھے حق نے عطا کی کامرانی
بنی جاتی ہے دُنیا قادیانی

اُٹھا لے کر محمدؐ کے َعلَم کو
کلامُ اللہ کی شانِ اَتَم کو

دَلائِل سے دعا سے معجزوں سے
ہِلا ڈالا عرب کو اور عجم کو

قلم کر دِیں حریفوں کی زُبانیں
چلایا تو نے جب سَیفِ قلم کو

اثر کیسا تھا تیرے نَبْتَھِلْ میں
گئے دشمن سب ہی مُلک عَدَم کو

ہزاروں رحمتیں تجھ پر خدا کی
نِشاں کیا کیا دکھائے تُو نے ہم کو

تِرے صدقے اِمامِ آسمانی
غلام احمدؐ نبئ قادیانی

''صبا روضے رسول اللہؐ دے جائِیں
مِرا احوال رو رو کے سنائِیں2؎ ''

خبر تُم نے نہ لی ہم غمزدوں کی
بھلا کیا ہے یہی اُلفت کا آئیں؟

وہ مکھڑا چاند سا آتا ہے جب یاد
تڑپتے پھرتے ہیں تیرے مجانیں

فراقِ یار کے ان دِل جَلوں کو
وِصال یار بِن کیونکر ہو تسکیں

بہت کم رہ گئے اب تو صحابی
اُڑے جاتے ہیں دنیا سے یہ شاہیں

ہوا کرتا تھا وہ بھی کیا زمانہ
کہ آتے تھے تمہیں حق سے فرامیں

تِرے عاشق تِری پیاری زُباں سے
سُنا کرتے تھے اُلفت کے مضامیں

لگا کرتیں مجالِس پنجگانہ
ہوا کرتیں دُعائیں اور آمیں

اُترتا تھا کلامِ حق شب و روز
نہ وہ باتیں کسی نے پھر سُنائیں

کہاں وہ بزم ہائے بلبل و گل
کہاں وہ حلقہ ہائے ماہ و پرویں

کہاں وہ قصۂ مجنوں و لیلیٰ
کہاں وہ نقشۂ فرہاد و شیریں

نشہ اُن کا ہے اب تک سَرمیں باقی
جو ہم نے صُحبتیں تیری اُٹھائیں

یہ جان و مال سب قُربان تجھ پر
کہ راہیں تو نے مولا کی دِکھائیں

کہاں ملتا ہمیں وہ یار جانی!
نہ ہوتا گر رسولِ قادیانی!

تِرے قدموں میں اے بَدرِ مُنَوَّر
جگہ تھوڑی سی آ جائے مُیَسَّر

تمہارے پَیر ہوں اور میرا سر ہو
اگر قسمت ذرا ہو جائے یاوَر

تِری کرنوں سے ہو جاؤں میں روشن
تِری خوشبو سے ہوجاؤں مُعَطَّر

جمالِ ہم نَشیں مجھ کو بنا دے
مُنَوَّر اور مُطَہَّر اور مُعَنبر

سُرورِ قُربِ رُوحانی کے ہمراہ
خدایا! قُربِ جِسمانی عطا کر

فرشتے بھی کہیں پھر ہو کے حیراں
اُٹھوں میں قبر سے جب روزِ محشر

''مسیحا کی شفاعت کی نِشانی
کھڑا ہے دیکھ لو یہ قادیانی''

صدی گزری ہے فُرقت میں تہائی
بھلا اتنی بھی کیا لمبی جدائی

مِرے آقا مِری ایک عرض سُن لو
نہیں رُکتی ہے مُنہ پر بات آئی

ہوئے بدنام اُلفت میں تمہاری
رکھایا نام اپنا 'میرزائی'

ہزاروں آفتیں اس راہ میں دیکھیں
مگر لَب پر شکایت تک نہ آئی

یہی بدلہ تھا کیا مِہر و وفا کا!
کہ اتنی ہو گئی بے اِعتنائی

وہ صورت دیکھتے تھے جس کو ہر روز
کچھ ایسی آپ نے ہم سے چھپائی

کہ آنا خواب تک میں بھی قَسَم ہے
نہ تھی گویا کبھی بھی آشنائی

تَرَحُّم یا نبی اللہ! تَرَحُّم
دُہائی یا رسولَ اللہ! دُہائی

درونم خون شُد در یادِ جاناں
زُبانم سوخت از ذکرِ جدائی

کہیں ہم کس سے یہ دردِ نہانی
بجز تیرے مسیحِ قادیانی

مسیحا معجزہ اپنا دِکھا دو
دعا دو اور مریضوں کو شِفا دو

میرے دِل کی لگی اب تو بُجھا دو
پس پردہ ہی اک جلوہ دِکھا دو3؎

غمِ روزِ حساب و دردِ اَمراض
یہی اب رہ گئے ہیں آشنا دو

سفارش سے وَاِنْ تَغْفِرْلَھُم کی
گنہ میرے خدا سے بخشوا دو

کرو کچھ نَفخِ دَم رُوحُ القُدُس کا
اور اک بگڑی ہوئی قِسمت بنا دو

تمہاری جُنبِشِ لَب پر نظر ہے
سنا کہ قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ جِلا دو

کرو لِلّٰہْ ! اتنی مہربانی
مِرے مُحسِن مسیحِ قادیانی


خدایا لُطف کی ہم پر نَظَر کر
خطاؤں سے ہماری دَرگُزَر کر

ملائک بھیج نُصرت کے اِلٰہی
ہماری کوششوں کو باروَر کر

بہت کمزور ہم بندے ہیں تیرے
ہماری سب مُہِمّیں آپ سَر کر

دِلوں کی سب کَدُورت پاک کر کے
ہمیں آپس میں تو شِیر و شکر کر

ہمارے دُشمنوں کو دے ہدایت
نصیبِ دوستاں فَتح و ظَفَر کر

ہماری نَسل کو ہم سے بھی بڑھ کر
فدائے مِلَّتِ خیرالبشرؐ کر

خلیفہ کی ہماری تو سِپَر ہو
خلیفہ کو ہماری تُو سِپَر کر

اِلٰہی عاقِبَتِ محمود کر دے
اور اپنی مِغفِرَت سے بہرہ وَر کر

ملے ہم کو نعیمِ جاودانی
طُفَیلِ میرزائے قادیانی

آمین

1؎ یعنی اقتداری معجزات   2؎ پنجابی 3؎ یہ نظم لکھ کر میں نے حضرت مسیح موعود کو خواب میں دیکھا آپ نے مجھے ایک چھڑی دستی عطا فرمائی اور کہا کہ تُم ان کو یعنی حضرت اماں جان۔ ناقل کو آج سیر کرا لاؤ تین دن تک تو میں ان کے ساتھ سیر کو جاتا رہا آج تُم ساتھ جاؤ اور شاید یہ کہا کہ مجھے فرصت نہیں ہے۔

الفضل 22مارچ 1939ء


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں