صفحات

بدھ، 1 جون، 2016

111۔ بجلی

ے دراز دستِ دعا مرا صفحہ326۔330

111۔ بجلی


نہ امریکہ، نہ افریقہ، نہ انگلستان کی بجلی
بلادِ عربیہ کی ہے نہ ترکستان کی بجلی
نہ ایسی جرمنی، ہسپانیہ، ایران کی بجلی
نہ ایسی چین کی نہ روس نہ جاپان کی بجلی
زمانے نے نہ دیکھی ہو گی ایسی شان کی بجلی
ہے جیسی میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

یہ اکثر بند رہتی ہے، یہ اکثر بند ہوتی ہے
یہ پبلک کو جگا کے چین سے دن رات سوتی ہے
اندھیرے میں ڈراتی ہے، پسینے میں بھگوتی ہے
جو ملتا ہے مقّدر سے یہ وہ نایاب موتی ہے
بہت ہی شاذ ملتی ہے یہ شاہی آن کی بجلی
کہ یہ ہے میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

بہت یاروں نے پھیرے بھی لگائے واپڈا گھر کے
مگر درشن نہ ہوپائے ۔کبھی رُوئے منوّر کے
سُنا ہے سخت آرڈر آئے ہیں اُوپر سے افسر کے
مَرے مرتی ہے پبلک کھیل ہیں اس کے مقّدر کے
پہ، بند ہونے نہ پائے والا و ذیشان کی بجلی
کہ یہ ہے میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

مِلا جو فون قسمت سے تو پھر یہ ہی جواب آیا
کریں کیا ہم کہ دُنیا میں ہے موسم ہی خراب آیا
ہؤا ہے ضُعف بجلی کو جو گرمی پہ شباب آیا
مگر ہر ماہ بِل بجلی کا بن کر اک عذاب آیا
کَٹی جاتی ہَے جس سے ذہن کی وِجدان کی بجلی
ہے ایسی میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

اگر بجلی میّسر ہو کبھی ٹی-وی نظر آئے
تو اس کو دیکھ کر ہو درد دِل میں آنکھ بھر آئے
کوئی اچھا ڈرامہ نہ کوئی اچھی خبر آئے
نظر حکّام کی صورت سے نہ کوئی مفر آئے
چمکتی ہے ہر اک لحظہ نئے فرمان کی بجلی
کہ یہ ہے میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

نمازی مسجدوں میں کس قدر حیران بیٹھے ہیں
یہ روزہ دار بیچارے بہت ہلکان بیٹھے ہیں
بہت بہیوش لیٹے ہیں بہت بے جان بیٹھے ہیں
لئے ہاتھوں میں بس اک دولتِ ایمان بیٹھے ہیں
ہمیں ہر سال سہماتی ہے ہر رمضان کی بجلی
ہے ایسی میرے پیارے ُملک پاکستان کی بجلی

بہت سے لوگ اپنی جان سے بیزار بیٹھے ہیں
نہیں ہلنے کی طاقت کیا کریں بیکار بیٹھے ہیں
یہ سارے واپڈا کے سامنے لاچار بیٹھے ہیں
''بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں''
ہے اَب خطرے کی زد میں ہستی ء انسان کی بجلی
ہے ایسی میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

میری بچیّ یہ کہتی تھی کہ امریکہ ہی چلتے ہیں
یہ سُنتے ہیں وہاں بجلی بھی ہے اے۔ سی بھی چلتے ہیں
یہاں تو حال سے بے حال ہیں ، گرمی میں جلتے ہیں
جو تپ جاتا ہے یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں
میری جاں چُپ رہو یہ ہے انوکھی شان کی بجلی
کہ یہ ہے میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

بہت ہی لرزہ خیز و دُکھ بھری اپنی کہانی ہے
رَواں ہو آبشار ایسے پسینے کی روانی ہے
بہت نایاب بجلی ہے، بہت کمیاب پانی ہے
بہت بد حال پیری ہے، بہت خستہ جوانی ہے
بہت فقدان پانی کا، بہت بحران کی بجلی
کہ یہ ہے میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

یہاں کے پول ناقص ہیں، یہاں کا تار ناقص ہے
یہاں کا آلۂ ترسیل ہے بیکار ناقص ہے
یہاں چھوٹی، بڑی جتنی بھی ہے سرکار ناقص ہے
کریں کیا ہم ہمارا سارا کاروبار ناقص ہے
ہے میرے شہر کی تو شہر نا پُرسان کی بجلی
کہ یہ ہے میرے پیارے مُلک پاکستان کی بجلی

٭٭٭٭

یہ مزاحیہ نظم اس خیال سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں بھجوائی تھی کہ حضور اس سے لطف اندوز ہونگے لیکن ربوہ سے دوری اس رنگ میں حضور پر اثر انداز ہوئی تھی کہ حضور نے اپنے خط میں تحریر فرمایا:

میری سادگی دیکھو کہ تمہاری بجلی والی نظم کو مزاحیہ سمجھ کر دفتر میں بیٹھے ہوئے بعض ملاقاتیوں کو بلند آواز سے مزے لے لے کر سنانے لگا کہ اچانک وہ بند آ گیا جس کا پہلا مصرعہ ہے۔
''نمازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کس قدر حیران بیٹھے ہیں''
مجھے تو یوں لگا جیسے کسی نے میرے دل پر بجلی گرا دی ہو۔ میری آواز جیسے کسی نے گلے ہی میں گھونٹ دی ہو۔ کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے بقیہ بند میں نے بمشکل زیر لب ہی پڑھا۔
یہ روزہ دار بے چارے بہت ہلکان بیٹھے ہیں
بہت بے ہوش لیٹے ہیں بہت بے جان بیٹھے ہیں
لئے ہاتھوں میں اپنے دولتِ ایمان بیٹھے ہیں
ہمیں تا عمر یاد آئے گی اس رمضان کی بجلی
ربوہ کے درویشوں کی تکلیف نے مجھے سخت تڑپایا۔
اگر میں بھی ربوہ کی کسی ۔۔۔۔۔۔کی صف میں بے حال لیٹا ہوتا تو مجھے اتنی تکلیف تو نہ ہوتی۔
والسلام
خاکسار
مرزا طاہر احمد

کلام صاحبزادی امۃالقدوس بیگم م صاحبہ سملہا اللہ


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں