صفحات

ہفتہ، 13 اگست، 2016

177۔ یہ رستے پوچھتے ہیں کارواں سے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ267

177۔ یہ رستے پوچھتے ہیں کارواں سے


یہ رستے پوچھتے ہیں کارواں سے
کدھر جاتے ہو، آئے ہو کہاں سے

بچھڑنے والو! یہ سوچا تو ہوتا
کہاں جاؤ گے کٹ کر کارواں سے

طلوعِ صبح سے ہے تجھ کو نسبت
تجھے اے شامِ غم! لاؤں کہاں سے

وہیں پر روشنی ہو جائے آباد
مرا سورج گزر جائے جہاں سے

کہاں مضطرؔ، کہاں وہ جانِ خوبی
ہے نسبت خاک کو کیا آسماں سے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں