اشکوں
کے چراغ ایڈیشن 2011 صفحہ 313-314
213۔یہ خلش سی جو آبلے میں ہے
یہ خلش سی جو آبلے میں ہے
کس سزا میں ہے، کس صلے میں ہے
قصرِ نمرود زلزلے میں ہے
بُت شکن کوئی بُت کدے میں ہے
زندگی کا طلسمِ ہوش رُبا
آج بھی کُن کے مرحلے میں ہے
بات ہے ایک بات کے اندر
دائرہ ایک دائرے میں ہے
وہ مرا اشکِ ناتمام کہیں
ایک مدّت سے راستے میں ہے
وہ گلِ ناشگفتۂ فردا
مسکرانے کے مرحلے میں ہے
لاکھ چھپ کر بھی وہ گلِ خوبی
عکس در عکس آئنے میں ہے
ہمنشیں ہے نہ کوئی ہمسایہ
وہ اکیلا ہے اور مزے میں ہے
حادثہ ہے کہ خوش نصیب ہوں مَیں
میرا گھر اس کے راستے میں ہے
فاصلہ بھی ہے قرب کے اندر
قرب بھی ایک فاصلے میں ہے
حملہ آور ہیں آج آدم خور
آدمیّت محاصرے میں ہے
کوئی دیوار گرنے والی ہے
کوئی طوفان راستے میں ہے
چور ہے اک مکان کے اندر
ایک جاسوس قافلے میں ہے
ایک انبوہِ ناشناساں ہے
جو ازل سے مقابلے میں ہے
بند کر دے گا سارے دروازے
معترض اس مغالطے میں ہے
کہہ رہی ہے کتاب مدّت سے
ایک انجام راستے میں ہے
عقل دل کی غلام تھی مضطرؔ!
دل بھی اب عقل کے کہے میں ہے
چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں