صفحات

اتوار، 24 جولائی، 2016

279۔ دین مانگے نہ یہ دنیا مانگے

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ413

279۔ دین مانگے نہ یہ دنیا مانگے


دین مانگے نہ یہ دنیا مانگے
دلِ ناداں تجھے تنہا مانگے

بات کرنے کا سلیقہ مانگے
لفظ تجھ سے ترا لہجہ مانگے

ہر نئی رت کا پیمبر تجھ سے
سبز پتّوں کا صحیفہ مانگے

آئنہ مانگے تو میرا ہمزاد
مجھ سے چہرہ بھی پرایا مانگے

تیری آیات کا حافظ تجھ سے
تیری آواز کا تحفہ مانگے

بحرِ ظلمات کا بوڑھا غوّاص
ایک گم گشتہ جزیرہ مانگے

صاف رہنے کی ہے عادت اس کو
پھول ملبوس بھی اُجلا مانگے

مَیں کبھی گھر سے نہ باہر نکلا
تُو بھرے شہر کا نقشہ مانگے

رات کا چور مسافر بن کر
گھر کے اندر کوئی کمرہ مانگے

رک گیا شہر پنہ کے باہر
دشت دیوار سے رستہ مانگے

میری آواز کا قاتل مجھ سے
قتل کے بعد کرایہ مانگے

قتل بھی میرا کرے وہ ناحق
مجھ سے انعام بھی اُلٹا مانگے

یہ اندھیروں کے پجاری مضطرؔ!
تو سرِ چشم اُجالا مانگے

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں