صفحات

منگل، 26 جولائی، 2016

269۔ تم اگر اتنے بے اُصول نہ ہو

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ398

269۔ تم اگر اتنے بے اُصول نہ ہو


تم اگر اتنے بے اُصول نہ ہو
مسکراتے رہو، ملول نہ ہو

پیش ہم بھی کریں گے ہدیۂ دل
یہ الگ بات ہے قبول نہ ہو

کبھی روئے، کبھی ہنسے ہم لوگ
کوئی ہم سا بھی بے اصول نہ ہو

جس کو منزل سمجھ رہے ہو میاں!
وہ کہیں قافلے کی دھول نہ ہو

قتل کے بعد مسکرا دینا
یہ ترے عہد کا اُصول نہ ہو

ایسے گزروں قریب سے اپنے
مجھ کو میری خبر وصول نہ ہو

تُو نے ماتھا سجا لیا جس سے
وہ کسی آبرو کا پھول نہ ہو

لوگ اتنے خلاف ہیں اُس کے
وہ کہیں عہد کا رسول نہ ہو

جرم تیرا عظیم ہے مضطرؔ!
تُو سرِ دار بھی ملول نہ ہو

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں