صفحات

منگل، 12 جولائی، 2016

337۔ دل نہیں آج آشنا دل کا

اشکوں کے چراغ ایڈیشن 2011  صفحہ499

337۔ دل نہیں آج آشنا دل کا


دل نہیں آج آشنا دل کا
کیا بنے گا مرے خدا! دل کا

عشق کے کاروبار میں اے دل!
کیا ملا تھا معاوضہ دل کا

کر لیے قید چاہنے والے
کھینچ کر ہم نے دائرہ دل کا

اس کی خدمت میں پیش کیا کرتا
ایک دل ہی تو تھا صلہ دل کا

دو قدم تک تو دل کا ساتھ رہا
پھر نہ کوئی پتا چلا دل کا

اس وسیع و عریض دنیا میں
کون ہے آپ کے سوا دل کا

زندگی کے اُجاڑ رستوں میں
مل گیا دل کو راستہ دل کا

بات آنے نہ پائی تھی لب پر
دل کو پیغام مل گیا دل کا

اک زبان، ایک ہی لب و لہجہ
ایک ہی تھا محاورہ دل کا

ایک جانب ہیں عقل کے فتوے
ایک جانب ہے فیصلہ دل کا

دیکھیے! جیت کس کی ہوتی ہے
عقل سے ہے مقابلہ دل کا

صاف، شفّاف، مستند، سچا
حرفِ آخر ہے فیصلہ دل کا

بڑھ گئے فاصلے مکانوں کے
دل سے جب فاصلہ بڑھا دل کا

اپنے زخموں کو گنتا رہتا ہے
آجکل ہے یہ مشغلہ دل کا

عقل کیا راستہ دکھائے گی
دل پہ چھوڑو معاملہ دل کا

میرے اللّٰہ! کیسے گزرے گا
مرحلہ وار مرحلہ دل کا

لاسکے گا نہ تاب لذّت کی
ٹوٹ جائے گا آئنہ دل کا

تہِ دل سے معاف کر دینا
جس قدر ہے کہا سنا دل کا

نیّت اپنی خراب ہے مضطرؔ!
کر رہے ہو عبث گلہ دل کا

چوہدری محمد علی مضطرؔعارفی


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں