صفحات

ہفتہ، 26 مارچ، 2016

57۔ بہیں اشک کیوں تمہارے انہیں روک لو خدارا

کلام طاہر ایڈیشن 2004صفحہ141

57۔ بہیں اشک کیوں تمہارے انہیں روک لو خدارا


بہیں اشک کیوں تمہارے اِنہیں روک لو خدارا
مجھے دکھ قبول سارے یہ ستم نہیں گوارا

ہو کسی کے تم سراپا مگر آہ کیا کروں میں
میری روح بھی تمہاری میرا جسم بھی تمہارا

میں غم و الم کی موجوں سے الجھ رہا ہوں تنہا
مجھے آ کے دو سہارا مجھے تھام لو خدارا

میری دل شکستگی پر مجھے غرق ِغم سمجھ کر
وہ جو ایک آرزو تھی وہی کر گئی کنارا

مجھے اذن ِمرگ دے کر وہ افق پہ چاند ڈوبا
وہ مرا نصیب لے کر کوئی بجھ گیا ستارا

لو ڈھلک گیا وہ آنسو کہ جھلک رہا تھا جس میں
تری شمع ِرخ کا پَرتَو تِرا عکس پیارا پیارا

ہے مجھے تلاش اس کی جو کبھی کا کھو چکا ہے
مجھے جستجو کا کر کے کہیں دور سے اشارا

مجھے چھوڑ کر گئے ہو میرا صبر آزمانے
تو سنو کہ اب نہیں ہے مجھے ضبط غم کا یارا


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں